.

ضرب عضب اور وزیری مہاجرین سے چشم پوشی

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیاسی غدر کا ایک نقصان ضرب عضب اور وزیری مہاجرین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ میں نے اس دھرنے بازی اور لانگ مارچ کے بارے میں یہ اندیشہ واضح طور پر ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ فوجی آپریشن پر ناراض ہیں اور عوام کی توجہ اس سے ہٹانے کے لئے نیا سوانگ رچا رہے ہیں۔قارئین محترم کو یاد ہو گا کہ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت بھی اس کھیل میں برابر کی شریک ہے، اسی لئے آپ نے دیکھا کہ وہ احتجا جی لیڈروں کے مطالبات کے اوپر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں ہے تاکہ یہ معاملہ لمبا چلتا رہے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، پارلیمنٹ کے اراکین نے وزیر اعظم کی بقا کے لئے تو واویلا مچایا مگر فاٹا میں موجود دہشت گردوں کے خطرات پر کسی نے تشویش کا اظہار نہیں کیا، فضل الرحمن نے تو آپریشن کی یہ کہہ کر مخالفت کر ڈالی کہ سوات میں پچاس ایک دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے 50،000 ہزار فوج چڑھا دی گئی، وہ اس بات ضرور مانے کہ اس خطرے کی نشاندہی انہی نے کی تھی کہ انتہا پسند مارگلہ کی پہاڑیاں عبور کیا ہی چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب پارلیمنٹ کے سامنے چند ہزار کا مجمع ہے مگر اس کے خلاف کوئی آپریشن نہیں کیا گیا، انہوں نے یہ طعنہ بھی دیا کہ فاٹا کے دہشت گردوں سے مذاکرات کے لئے قومی اتفاق رائے تھا مگر فوج نے پھر بھی ضرب عضب کو ترجیح دی اور یہاں نصیحت کی جا رہی ہے کہ طاقت کے استعما ل کے بغیر مسئلہ سلجھایا جائے۔

شکر یہ ہے کہ انہوں نے یہ کہنے کی زحمت ضرور کی کہ قوم کی توجہ 10 لاکھ وزیری مہاجرین سے ہٹ گئی ہے۔ اکا دکا یہ آواز بھی ضرور اٹھی کہ جس وزیر اعلی کو 10 لاکھ مہاجرین کے مسائل سے نبٹنے کے لئے اپنے صوبے میں ہونا چاہئے تھا، وہ ان سے اغماض برت رہا ہے اور پندرہ سولہ روز سے اسلام آباد کے عالی شان محلات میں چھپا بیٹھا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کی خبریں اخبارات سے بھی غائب ہوتی چلی گئیں۔ ظاہر ہے اخبار کو وہ کچھ بیچنا ہے جو قائین پڑھنا چاہتے ہیں مگر اب آئی ایس پی آٓر نے بھی خبریں ریلیز کرنا شروع کی ہیں اور اخبارات بھی ان کو شہہ سرخیوں سے مزین کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ وزیر ی مہاجرین کے خادم اعلی ڈاکٹر آصٖف جاہ کا ان دنوں محل وقوع کیا ہے کیونکہ ان سے رابطہ کٹا ہوا ہے، آخری خبر یہ تھی کہ وہ مہاجرین کے ساتھ 6 ستمبر کی تقریبات منانے کے لئے بنوں جا رہے ہیں، تو وہ اس سفر میں ہوں گے اور چند روز بعد ہی ان کی سرگرمیاں شروع ہو سکیں گی، میںنے کوشش کی تھی کہ ان کے انتہائی سرگرم ساتھی اعجاز سکا سے مل کر مہاجرین کے لئے امدادی منصوبوں کی تفصیل معلوم کروں مگر وہ اپنی بیٹے کی شادی خانہ آبادی کی تقریب کے لئے کراچی چلے گئے، ایک خاندان کے لئے فطری طور پر یہ بہت بڑی خوشی کا موقع ہوتا ہے، سو ان کے بیٹے کو نئی زندگی کی شروعات مبارک ہوں، اعجاز سکا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ چند روز تک اس خاندانی مصروفیت سے فارغ ہو جائیں گے اور پھر سے وہ فلاحی پرگراموں پر بھر توجہ مرکوز کر دیں گے۔

میری اپنی کوشش ہوتی ہے کو جو افراد نیکی میں پیش پیش ہوتے ہیں اور انسانی بھلائی میں ہاتھ بٹاتے ہیں، ان کا تذکرہ کیا جائے اور بار بار کیا جائے تاکہ ان کی دیکھا دیکھی دوسرے صاحب استطاعت آگے بڑھیں اور ان کی پیروی میں آندھی کی طرح سخاوت کریں۔ مغربی معاشرہ میں بل گیٹس سے لے کر بل کلنٹن تک ہر ایک نے اپنی آمدنی کا معقول حصہ فلاحی کاموں کے لئے مخصوص کر رکھا ہے اور اسلامی معاشرت کا تو طرہ امتیاز ہی یہ رہا ہے کہ کسی کا ہمسایہ بھوکا نہ سوئے اور خلیفہ وقت حاجتمند کے دروازے پر آٹے کی بوری اپنے کندھوں پر رکھ کر پہنچائے۔ اس لحاظ سے اعجاز سکا ہمارے لئے روشنی کا مینار ہیں۔

میں ضرب عضب کی بات بھی کرتا چلوں۔ یہ آپریشن اب تک کی پاک فوج کی تمام جنگوں میں سے مشکل تریں کاروائی ہے، فاٹا اور خاص طور پر شمالی وزیرستان میں ہر کوئی قدم رکھنے سے گھبراتا رہا ہے، اسکندر اعظم جیسے عالمی فاتحین کو یہاں مشکلات پیش آئیں ، انگریز افواج باب خیبر سے ٹکرا ٹکرا کر پاش پاش ہوتی رہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ سیاچین کی جنگ بھی ایک سنگین چیلنج رہا ہے جہاں دشمن کے علاوہ موسم بھی جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ مگر شمالی وزیرستان میں تو یہ معلوم نہیں کہ دشمن آگے ہے یا پیچھے، دائیں ہے یا بائیں، یا آپ کی صفوں میں گھسا ہوا ہے۔اس لڑائی میں تو قوم بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی نظر نہیں آتی، وہاں سے شہیدوں کے جسد خاکی آتے ہیں اور چند محلے دار جنازہ پڑھ کر ان کو دفنا دیتے ہیں۔ قوم کا ایک حصہ حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے لئے دعائیں ضرور کرتا رہا ہے مگر اب 24 گھنٹوں کی دھرنا نشریات نے لوگوں کو الووں کی طرح جاگنے پر مجبور کر دیا ہے، اس عالم میں کسی کو کیا یاد ہے کہ کیسی ضرب عضب، کہاں کی ضرب عضب، پاک فوج نے چودہ اگست کا تہوار آدھی رات کے اندھیرے میں منایا ، مجھے معلوم ہے کہ 6 ستمبر منانے کے لئے پاک فوج نے زبردست تیاری کر رکھی تھی وہ اپنے شہیدوں اور غازیوں کو سلام پیش کرنا چاہتی تھی، نئی نسل کو انکے کارناموں سے آگاہ کر نے کے لئے کئی پروگرام بنائے گئے تھے مگر دھرنے والوں کی دھماچوکڑی میں 6 ستمبر کیسے منایا جائے گا ، یکم ستمبر کو ایک پروگرام کی وسیع پیمانے ریہرسل اور ریکارڈنگ ہونے جا رہی تھی، وہ تو دھرنا سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی۔ میں خود اپنی کتاب ۔۔ضرب عضب ۔۔

6 ستمبر کے موقع پر لانچ کرنا چاہتا تھا مگر مجھے نظر نہیں آتا کہ موجودہ ماحول میں اس کتاب کی طرف کوئی نظر بھی اٹھا کر دیکھے گا، بہر حال میں مایوس تو نہیں، تاخیر ضرور ہو گئی ہے مگر ستمبر کے اندر اندر میں یہ کتاب بک اسٹالوں تک پہنچا ضرور دوں گا ، اگے تیرے بھاگ لچھیئے۔ مجھے اپنے خدا پر یقین ہے کہ شہیہدوں کے صدقے آپریشن ضرب عضب ضرور کامیاب ہو گا۔ ہم بڑی حد تک دہشت گردی سے محفوظ ہو چکے ہیں، پاک فوج کو آپریشن کی ا ٓزادی ملی رہی تو کوئی وجہ نہیں کہ جس پاک فوج کی مدد سے سری لنکا جیسے ملک نے آخری دہشت گرد کا قلع قمع کر دیا ہے تو ہم کیوں ان دھشت گردوں سے چھٹکارہ نہیں پا سکیں گے۔

جو ملک ایک روز کی بارشوں میں ڈوب کر رہ گیا، اس کی حکومتوں سے آپ کو کوئی امید ہو سکتی ہے، مجھے کوئی نہیں،انہیں تو اپنی بقا کی فکر ہے، اس وقت جب لاہور ڈوبا ہوا ہے، خادم اعلی جی ایچ کیو کے ہنگامی پھیرے لگا رہے ہیں۔ وہ لکشمی چوک میں تصویر کھنچوانا بھول ہی گئے اور چین کے صدر کا دورہ اگر ملتوی ہو چکا ہے تو یہ ایک قومی سانحہ ہے۔ میرے پاس اس کا ماتم کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.