.

ادھوری سازش

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر یہ کوئی سازش تھی اور یہ اس کا نتیجہ ہے تو سازش کرنے والوں کو کسی تربیتی کیمپ میں شمولیت اختیار کر کے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس لانگ مارچ اور دھرنے سے ہم نے کیا حاصل کیا؟ رہنمائوں کے چہرے حسبِ سابق سرخ اور گو کہ ان کے اعتماد کو کچھ دھچکا ضرور لگا ہے لیکن وہ اپنی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ اگر اس تمام بکھیڑ کا مقصد انہیں کچھ دھچکا ہی پہنچانا تھا تواس سے اجتناب ہی کیا جانا بہتر ہوتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک مرتبہ تو حکمرانوں کی نیندحرام ہو گئی تھی۔ گزشتہ تین ہفتے بہت ہنگامہ خیز تھے لیکن انجام کیا ہوا؟ کیا ملک کے حکمران طبقے نے، جو ہمارے ناقابلِ معافی گناہوں کی پاداش میں ہم پر مسلط ہے، نے اس جھٹکے سے کوئی سبق سیکھا ہو گا؟ وزراء کے بیانات کو دیکھیں تو نہیں لگتا کہ یہ کچھ سیکھنے کے لئے بنے ہیں۔

میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کی جانے والی تقاریر سن رہا تھا۔ جب مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفے فوراً ہی قبول کر لینے چاہیئں تو وزیر ِ اعظم ان کے جوشِ خطابت سے جھوم اٹھے، ان کے چہرے پر خوشی کا کوندا لپکا اور وہ اپنا ڈیسک بجائے بغیر نہ رہ سکے۔ اگر حکمران گروہ اتنی ہزیمت کے بعد بھی ایسا جارحانہ رویہ اپنانے کا سوچ سکتا ہے تو پھر یقین مانیں کہ ان کی عقل کسی فولادی ڈبے میں بند، سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں کھو چکی ہے۔ یہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت ِ اسلامی ہیں جو پی ایم ایل(ن) کو اس بحران سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگر اس موقع پر حکمران جماعت کا ہاتھ کوئی نہ تھامتا تو پھر دیکھتے کہ لاہوری جمہوریت کے چمپئن اس دلدل سے کیسے باہر آتے۔ اگر مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی کی شعلہ بیانی پر تکیہ ہوتا تو اب تک ہم شاہراہ ِ دستور پر بہت سے تماشے دیکھ رہے ہوتے۔ اب تک پاکستانی سیاست میں ایک بات ریاضی کے اصول کی طرح مستند اور پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ کسی بھی معاملے میں جس طرف مولانا فضل الرحمن ہوں گے، دوسرے گروہ کا ساتھ دینا بہتر ہو گا۔ کچھ عرصہ پہلے وہ مشرف دور میں ایم ایم اے کے نقیب تھے ، آج وہ جمہوریت کے چمپئن ہیں۔ اے جمہوریت، تیری قسمت اتنی خراب کب تھی؟

قومی سیاست میں عقل کا تقاضا غالب آرہا ہے لیکن دیوار سے لگے ہوئے حکمران اپنی مدد کو آنے والوں کے ممنون نہیں۔ پی پی پی اور جماعت ِ اسلامی آگے بڑھ کر ان کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ وزیر ِ اعظم کواستعفیٰ نہیں دینا چاہئے۔ اس سے یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ اس وقت حکومت اپنی بقا کے لئے اپوزیشن کے رحم و کرم پر ہے۔ کیا یہ ان کو اچھا لگا ہو گا جب آصف زرداری اس بحران سے نکلنے کاسیاسی مشورہ دے رہے تھے؟ حکمرانوں کے کیا محسوسات ہوتے ہیں جب رحمٰن ملک جرگہ لے کر ان کی خاطر طاہرالقادری اور عمران خان کو منانے جاتے ہیں ؟ کیا پی ایم ایل(ن) کے زخموں پر نمک پاشی نہیں ہوتی جب ملک صاحب نہایت شائستہ لہجے میں دھرنا دینے والے رہنمائوںسے کہتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے احاطے سے اپنے خیمے باہر منتقل کرلیں؟ قہر یہ ہے کہ رحمٰن ملک کی بات مانتے ہوئے مظاہرین پارلیمنٹ ہائوس سے باہر منتقل ہو رہے ہیں۔

الحمدﷲ، گوالمنڈی کی جمہوریت کا سر ننگا نہیں ہوا لیکن اس فتح نے حکمرانی کے مشروب میں سرکہ ملا دیا ہے۔ نوازشریف جانتے ہیں کہ دوچیزیں ان کو بچا گئیں...

(1) پارلیمنٹ نے غیر معمولی طور پر اپنا دفاع کرنے کی ہمت دکھائی.

(2) یا تو سازش کرنے والے آخری لمحے گھبرا گئے یا پھر اس سازش کو یہاں تک پہنچانا مقصود تھا... یعنی حکومت کو جھٹکا دینا نہ کہ گرانا۔

ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ اگر شب خون مارنے کے لئے کسی جواز کی ضرورت تھی تو وہ پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز پر حملے کے وقت مل گیا تھا۔ اْس وقت، جبکہ پورا پاکستان ٹی وی پر نظریں جمائے بیٹھا تھا، یہ دکھائی دے رہا تھا کہ دارلحکومت میں ہر طرف افراتفری کا عالم ہے اور حکومت نامی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی ۔ شب خون مارنے کے لئے اس سے زیادہ مناسب شاید کوئی موقع نہ تھا لیکن وہ لمحہ بھی گزر گیا۔ ٹرپل ون بریگیڈ کے دستوں نے حرکت تو کی مگر قبضہ کرنے کے لئے نہیں، پی ٹی وی کی عمارت کو مظاہرین سے واگزار کرانے کے لئے۔ اس کے بعد آرمی چیف نے وزیر ِ اعظم سے ملاقات کی اور تختہ الٹے جانے کے خدشات دم توڑنے لگے۔ منگل کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اگر فوج مظاہرین کو ایک خاص حد سے آگے بڑھنے سے نہ روکتی تو اجلاس نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لئے اگر ہم اسے سازش کہیں تو یہ ایک ادھوری سازش تھی۔

تاہم اب سوال یہ ہے کہ ایسے ’’ادھورے بحران‘‘ کیوں پیدا ہوتے رہتے ہیں؟ کیا ’’مہارت ‘‘ کی کمی ہے یا پھر کوئی بات ہے؟ اس سے پہلے میمو گیٹ کو بھی ایک ادھوری سازش قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کا مقصد بھی کوئی حساب کتاب برابر کرنا تھا۔ خدانخواستہ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ کام پایہ ٔ تکمیل تک کیوں نہیں پہنچایا جاتا بلکہ جس کاوش کا مقصد حکمرانوں کو سبق سکھانا ہوتا ہے، اس پر اتنا وقت، سرمایہ اور توانائی کیوں صرف کر دی جاتی ہے؟ موجودہ حکمرانوں کی آب و تاب کافی حد تک گہنا چکی تھی، ان کو مزید سبق سکھانے کے لئے اتنی طویل کارروائی، جس میں پورا موسم ِ گرما گزرگیا اور اربوں روپوں کا نقصان ہوگیا، کی ضرورت نہیں تھی...غریب ملک ہے، سبق سکھانے کے لئے کوئی موثر شارٹ کٹ ہونا چاہئے۔

جب امریکہ نےمصدق (Mossadegh) کو وزارت ِ اعظمی سے ہٹانا تھا تو اُنھوں نے سی آئی اے کے ایجنٹ کرمیٹ روز ویلٹ (Kermit Roosevelt) کو دس ملین ڈالر کیش دے کر تہران بھیجا۔ وہ بہت کامیاب منصوبہ تھا... گلیوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور پھر فوج کی مداخلت۔ سوویت یونین کابل میں امین کو اقتدار سے ہٹا کر ببرک کارمل کو حکمران بنانا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لئے اُنھوں نے افغانستان میں فوج بھیج دی جو دس سال کے لئے اس وطن کی سنگلاخ چٹانوں کی بھول بھلیوں میں پھنس کر رہ گئی۔ اگرہمارے اس موجودہ بحران کے پیچھے واقعتا خفیہ اداروں کا ہاتھ تھا تو میری استدعا ہے کہ روسی طریقے کی بجائے امریکی طریقہ اختیار کیا جائے۔

اچھی چیزیں بھی ادھوری رہ جاتی ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کواحساس ہوچلا تھا کہ ان کا تختہ الٹا جانے والا ہے لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ ماڈل ٹائون کے واقعے کے بعد شہباز شریف پنجاب کی سیاست میں ایک کمزور سی شخصیت بن چکے ہیں لیکن کیا وہ اقتدار سے دستبردار ہوں گے؟ ہرگز نہیں۔ ان کی انگشت ِ شہادت ابھی بھی لہراتی رہے گی لیکن رفتار میں کچھ کمی ضرور واقع ہوگی۔ اس پر بھی اہل ِ پنجاب کو شکرکرنا چاہئے۔ امید کی جانی چاہئے کہ حکمرانوں کی طرف سے آئندہ چین، ترکی اور دیگر ممالک کے دوروں کے دوران خاندان کے افراد کی نسبتاً کم تعداد شامل ہو گی، نیز وہ سیمنٹ کارٹل کے چارٹرڈ طیاروں میں سفر نہیں کریں گے۔ تاہم کیا ہم میٹروبس، فلائی اوور، انڈرپاس اور بلٹ ٹرین خبط سے بھی نجات پالیں گے؟ میرا نہیں خیال کہ قسمت ہم پر اتنی بھی مہربان ہے۔ اس دوران ایک اور سیاسی پیش رفت ہو رہی ہے۔ کیا آپ کو کچھ عجیب بات محسوس ہو رہی ہے؟

طاہر القادری کے بارے میں ادا کئے جانے والے تمام توہین آمیز بیانات کا سلسلہ تھم چکا ۔ آپ اُنہیں جتنا بھی ناپسند کریں یا ان کے خیالات سے اختلاف کریں لیکن ایک بات طے ہے کہ آپ اُنہیں نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے ہزاروں جانثار پیروکار ان کی ایک آواز پر موسم کی سختی اور دیگر مصائب کو ہنس کر برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والے نام نہاد دانشوریہ بات پسند نہیں کریں گے کہ علامہ صاحب اب پنجاب کی سیاست میں ایک قدآور شخصیت بن کر ابھریں گے۔

لیکن اگر وہ اپنے دیوان خانوں سے باہر نکل کر دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ پنجاب میں اصل اسٹریٹ پاور کس کے پاس ہے؟ تاہم اس بات کا دارومدار اس پر ہے کہ اب قادری صاحب اپنے پتے کیسے کھیلتے ہیں۔ اگر وہ پاکستان میں ہی رہتے ہیں اور موجودہ اسلامی کولیشن ان کے ساتھ رہتا ہے تو وہ ایک اہم سیاسی کھلاڑی بن کر ابھریں گے، بشرطیکہ وہ ایک مرتبہ پھر کسی نہ کسی بہانے سے کینیڈا نہ چلے گئے۔ اس تمام پس ِ منظر میں ایک اور سیاسی حقیقت ابھر کر سامنے آرہی ہے کہ پی ایم ایل (ن) یا پی پی پی کی نئی نسل کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے۔ یہ دونوں جماعتیں ماضی کی علامت ہیں ، اس لئے مستقبل کے سیاسی خدوخال میں ان کی کوئی جگہ نہیں۔ اگرموجودہ سیاسی اتحاد ، جس میں طاہر القادری، سنی اتحاد کونسل اور مجلس واحدت المسلمین شامل ہیں ، قائم رہا تو یہ ایک اہم سیاسی قوت ثابت ہو گا۔

جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو اُنہیں اپنے کنٹینر سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ ان کے حامی نوجوان لوگ ہیں، اس لئے وہ اپنے سیاسی مستقبل کی امید کر سکتے ہیں۔ موجودہ بحران میں آُن کے لئے بھی سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ ایک کامیاب جنرل وہ ہوتا ہے جو جانتا ہے کہ کب آگے بڑھنا ہے اور کب پیچھے ہٹنا۔ ان معرکوں میں پیچھے ہٹنا شکست نہیں، فوجی حکمت ِ عملی کہلاتی ہے۔ اب اُنہیں واپس آجانا چاہئے کیونکہ وہ بہت سے مورچے فتح کرچکے ہیں۔ آخری بات، اُنہیں اپنے ’’ہمسائے‘‘ علامہ قادری صاحب سے بات کرنے کا سلیقہ بھی سیکھنا چاہئے کیونکہ جب تک آپ ڈھنگ سے بات ہی نہیں کر سکتے تو کون سی آزادی اور کون سا نیا پاکستان۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.