.

عراق میں رجعتی بر بریت

زبیر رحمن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی صدر صدام حسین پرکیمیائی ہتھیار رکھنے کے جھو ٹے الزام میں امریکا نے عراق پر حملہ کر کے اس کو تہہ با لا کر دیا۔ اس کے بعد امریکا اور ایران نے مل کر مالکی کو عراق کا صدر بنا دیا۔ مالکی نے فرقہ پرستی کو بڑھاوا دیا۔ جسکی وجہ سے سنی انتہا پسند فرقہ واریت شروع ہو ئی۔ امریکا نے ہی عراق میں مذہبی انتہا پسندوں کو تر بیت دی ، پھر اسی دہشت گرد تنظیم میں سے ایک دھڑا داعش کے نام سے تشکیل پایا۔

خودکو خلیفہ قرار دینے وا لے ابوبکر البغدادی نے اس کی قیادت سنبھال لی اور اب قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ظلم اور بر بریت کی شا ید ہی کو ئی حد ہو جسے ان مذہبی جنونیوں نے عبور نہ کیا ہو۔ان کا تازہ شکار یزدی فرقے کے بے گناہ عوام ہیں۔ مردوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اور عورتوں کو اغوا کر کے لونڈیاں بنایا جا رہا ہے۔ بچوں کو زندہ دفن کرنے کے واقعات منظر عام پہ آ ئے ہیں ۔ عراق کے وزیر خارجہ حوشیار زیباری نے 15 اگست کو بیان میں بتایا کہ :’’یہ لوگ بڑی گاڑیوں میں آئے اور دوپہر سے ہی قتل عام شروع کر دیا۔ یہ زبردستی لوگوں کا مذہب تبدیل کرواتے ہیں اور انکار کرنے والوں کو قتل کر دیتے ہیں ۔

ان جہادیوں نے مو صل پر قبضے کے وقت بھی عیسائی آبادی کو مذہب تبدیل کر نے یا قتل ہو نے کا آپشن دیا تھا ۔ مذہب کے نام پر بے گناہوں کے خون سے ہو لی کھیلنے اور خواتین کی عزت و آبرو لوٹنے والے یہ لوگ کون ہیں؟ یہ آسمان سے تو نازل نہیں ہو ئے۔ یہ افغان ڈالر جہاد کا ہی ری پلے ہے جو زیادہ تیزی سے چل رہا ہے۔ شام میں مغرب کے حمایت یافتہ اعتدال پسند جنگجوؤں پر مشتمل ’’آ زاد شا می فوج‘‘ ٹوٹ کر بکھر رہی ہے۔ اس وقت شام میں مذہبی جنونیوں کے 3 بڑے گروہ اسلامک اسٹیٹ، النصرہ فرنٹ اور اسلامک فرنٹ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔ اسلامک اسٹیٹ اور النصرہ دراصل القاعدہ سے الگ ہونے والے دھڑے ہیں جنھوں نے شام اور عراق کے مختلف علاقوں میں اپنی خلافتیں قائم کی ہوئی ہیں اور ان خلافتوں کے پیروکار ایک دوسرے کو ذبح کر نے میں مصروف ہیں ۔ ہر صورت میں محنت کش ہی مارے جاتے ہیں ۔ڈیڑھ لاکھ پناہ گزین، جن میں اکثریت یزدیوں کی ہے، 50 ڈگری کی گر می میں بے سرو سامان ہیں ۔

پانی اورخوراک کی قلت سے ہر روز بچوں کی ہلا کتیں ہو رہی ہیں ۔ بڑی تعداد میں لوگ عراق کے متاثرہ علاقوں سے جان بچا کر شام جا رہے ہیں ۔2003ء میں عراق پر امریکی حملے سے پیشتر فرقہ وارانہ اور لسانی منافرتیں اتنی شدید نہ تھیں ۔ شیعہ ،سنی ، یزدی اور کرد نہ صرف پر امن طریقے سے اکٹھے رہتے تھے بلکہ آ پس میں شادیاں بھی ہوا کرتی تھیں ۔ امریکہ نے جس ’’القاعدہ‘‘ اور ’’بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں، کو اپنے حملے کا جواز بنا یا تھا، ان کا نام و نشان بھی عراق میں نہیں تھا ۔ سامراجی جارحیت کے بعد القاعدہ سے دو ہاتھ آگے کی مخلوق پیدا ہو چکی ہے ۔ پو رے خطے کو تاراج کر نے والوں میں اب ’’انسانی ہمدردی‘ جاگ اٹھی ہے۔ یہ ’’انسانی ہمدردی‘‘ تب کہیں سو رہی تھی جب نیٹو کا با رود لا کھوں عراقیوں کو زندہ جلا رہا تھا۔

منا فقت کی کوئی انتہا نہیں ہوتی ۔ مغربی سامراج کے نما ئندے اب یزدی برادری کے قتل عام پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں ۔سامراجیوں نے ہی اس بربریت کو سرد جنگ کے دوران پیدا کیا اور پروان چڑھایا تھا ۔ اس بر بریت کو آج بھی شام کی پراکسی جنگ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ سامراج اور اسلامی پرستوں کے تعلقات جتنے بھی کشیدہ رہے ہوں کبھی منقطع نہیں ہوئے۔

اسلا می بنیاد پرستی دو دھا ری تلوار ہے جسے ایک طرف مختلف مما لک میں جارحیت کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو دوسری طرف ’’بیرونی خطرے‘‘ کے طور پر مغربی محنت کشوں کے شعور پر حاوی کر کے استحصالی نظام اور طبقاتی تضادات کو اوجھل کر نے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسلامک اسٹیٹ امریکا اور اس کے خلیجی اتحاد یوں کی ہی پیداوار ہے جو اب اپنے آقاؤں کے قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ پہلے اسلحے، تر بیت اور مالی امداد کے ذریعے شام میں جہادی تیار کیے گئے ۔

پچھلے سال مارچ میں نیو یارک ٹائمز میں وہ منصوبے بے نقاب کئے گئے تھے جن کے تحت سی آئی اے ترکی اور قطر وغیرہ کے ذریعے ان جنونیوں کو فوجی امداد کر رہی تھی ۔ شامی حزب مخالف کے ایک لیڈر نے نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہو ئے کہا تھا کہ: ’’ جو کوئی بھی ان مذہبی جنو نیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے وہ غلط کر رہا ہے۔‘‘ انھی جہادیوں میں سے اسلامک اسٹیٹ (داعش) برآمد ہو ئی جو عراق میں سرا ئیت کر کے مختلف علا قوں پر قابض ہو تی چلی گئی اور بھاگنے وا لی عراقی فوج کے چھوڑے ہوئے جدید امریکی اسلحے سے مزید مضبوط ہوئی ۔ زیر قبضہ علاقوں میں تیل کے ذخائر اور ریفائنریوں کی آمدنیوں سے اس گروہ کی مالی حیثیت بھی مستحکم ہو تی گئی۔ اسلا مک اسٹیٹ اس وقت دنیا کا امیر ترین دہشت گرد گروہ بن چکا ہے جسکے اثاثے 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔

اب امریکا اپنے تیارکر دہ جہا زوں کے زیر استعمال اپنا ہی اسلحہ تباہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر کا مزید اسلحہ چلا نے کی تیاری کر رہا ہے۔ شام میں ایک دوسرے سے متصادم امریکا اور ایران اب عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف مشتر کہ حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ عجیب پا گل پن ہے جس میں لاکھوں بے گنا ہوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ عراق میں امریکا کی تا زہ عسکری مداخلت سے کو ئی بہتری نہیں بلکہ مزید بر بادی ہی ہو گی۔ لوئی انٹوائن نے کہا تھا کہ:’’ یہ جرم سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔ یہ حماقت ہے۔‘‘ عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں پر امریکی بمبا ری ایسی ہی حما قت کا آ غاز ہے۔ یہ سامراجی اور مذہبی جنونی نسل انسانی کو صرف ذلت اور اذیت کی موت ہی دے سکتے ہیں۔ اسلامک اسٹیٹ کی درندگی اور سامراج کی وحشت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

اب یہ نا سور افغا نستان اور پا کستان تک پھیلنے لگا ہے ۔پشاور، فا ٹا اور افغانستان میں دا عش کا منشور تقسیم کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ’’خراسان‘‘ یعنی پاکستان، افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا کی ریاستوں تک خلا فت کو پھیلایا جا ئے گا۔ ادھر داعش کے خلاف حکو مت مو ثر کارروائی نہ کرنے کے خلاف، اغوا و قتل کیے گئے 1700 فو جیوں کے اہل خانہ اراکین پارلمینٹ سے دست و گریباں ہو گئے۔ پاکستان میں صرف اگست کے مہینے میں کراچی میں157 افراد قتل ہو ئے جبکہ ’’ضرب عضب‘‘ کی کارروائی میں اب تک 82 فو جی اور 902 عسکریت پسند یعنی کل تقریبا ایک ہزار افراد مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ طالبان کی گود میں القاعدہ پلے، پھر القاعدہ کی گود میں داعش پل رہے ہیں، ان سب کے پال نہار امریکی سامراج اور سی آئی اے ہے ۔ اسکا واحد علاج محنت کشوں کا عالمی انقلاب ہے ۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.