.

"شو باز شریف"

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لاہور کو پیرس بنانے کے دعوے کہاں گئے؟ 2 دن کی بارش نے پورے شہر کو ڈبو دیا۔ اگر تمام وسائل میٹرو بس اور اس طرح کے فضول منصوبوں پر جھونکنے کے بجائے نکاسی آب کا نظام بہتر بنانے پر توجہ دی ہوتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اب پانی میں ڈوبے ہوئے شہر کے لئے میٹرو کشتیاں چلانے کا بندوبست کیا جائے۔ جمعہ کی شام تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو اس نوعیت کی تنقید کا سامنا تھا اور یہاں تک کہ جب وہ لکشمی چوک میں بارش کے پانی میں کھڑے ہو کر واسا حکام کی سرزنش کر رہے تھے تو تب بھی ان پر "شو باز شریف" کی پھبتی کسی گئی۔ بخدا مجھے کسی کی محبت نے گھائل کیا ہے نہ کسی کی نفرت نے مائل کیا ہے۔ میں کسی کا سیاسی حلیف ہوں نہ مفاداتی رقیب۔ میں ان قلمکاروں میں سے نہیں جو کسی کی ایوان اقتدار آمد پر سردھنتے اور رخصتی پر عیب چنتے ہیں۔ شوقِ کمال میں قصیدے لکھنے اور خوفِ زوال میں مرثیہ خوانی کرنے کا شوق انہیں مبارک جن کا خیال ہے کہ ان کا رزق بااثر لوگوں کی ناراضگی یا خوشی سے وابستہ ہے۔ نہ جانے تنگی کے خوف سے حق چھوڑنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ رزق تو اس دہر میں کتوں کو بھی مل جاتا ہے۔ مجھ پر پہلے ہی جمہوریت کی وکالت اور آئین کی دلالت کرنے پر "لفافہ جرنلسٹ" کا بہتان ہے اور طفلان انقلاب شریف خاندان سے بی ایم ڈبلیو تک لینے کے الزامات عائد کر چکے ہیں مگر پھر بھی میں نے یہ کالم لکھنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ قافلے تو گزرتے رہتے ہیں۔

آپ کو یاد ہو گا جس دن آزادی مارچ اسلام آباد پہنچا اسی دن پشاور میں آندھی اور بارش کے باعث 18 افراد ہلاک ہو گئے۔ جب صوبائی حکومت پر تنقید ہوئی تو اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ قدرتی آفات پر کسی کا اختیار نہیں، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہ کی جائے۔ لیکن جب لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بارش نے تباہی مچا دی تو یوں لگا جیسے یہ بارش مشیت ایزدی نہیں بلکہ خود ساختہ تھی۔ پشاور میں محض 1.5 گھنٹہ بارش ہوئی اور متعلقہ حکام نے بارش کا تخمینہ 56 ملی میٹر لگایا مگر تین دن صوبائی دارالحکومت کے بازار اور سڑکیں کیچڑ اور بارش کے پانی میں لت پت رہے۔ لیکن لاہور میں تاریخ کی بدترین بارش ہوئی ،1980ء میں 332 ملی میٹر بارش ہوئی تھی اور اس کے بعد اب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے کہ 24 گھنٹوں میں 274 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مسلسل تین دن بارش برستی رہی ،جمعہ کی شام کو تعطل آیا اور ہفتہ کی شام میں شہر کا جائزہ لینے نکلا تو بھاٹی، لوہاری، اردو بازار، انارکلی، لکشمی چوک، گوالمنڈی، شملہ پہاڑی، گڑھی شاہو سمیت لاہور کے کسی کونے میں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا حالانکہ گزشتہ روز کئی علاقوں میں چار چار فٹ پانی جمع ہو گیا تھا۔ اگر حکومت 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں بارش کا پانی نکالنے میں کامیاب ہو گئی ہے تو انتظامیہ یقینا تعریف کی مستحق ہے نہ کہ تنقید کی۔ خدا نہ کرے اگر اس قدر بارش پشاور میں ہوئی ہوتی تو کئی دن تو کیا کئی مہینے لگ جاتے پانی نکالنے میں۔ میں خود بیشتر وقت وہاں گزارتا ہوں اور مجھے اندازہ ہے کہ ہلکی بوندا باندی بھی ہو جائے تو قصہ خوانی بازار، نمک منڈی، ایل آر ایچ سے ملحقہ بازار اور ماسوائے حیات آباد کے تمام علاقوں میں کئی کئی دن کیچڑ ختم ہونے میں نہیں آتی۔ جب غیر متوقع طور پر رحمت زحمت بن جائے تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ مسلم ممالک میں ملائیشیا وہ ملک ہے جہاں مون سون کے دوران سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں اور ہر سال سیلاب آ جاتا ہے۔

ملائیشیا وسائل اور ترقی کے اعتبار سے ہم سے کوسوں آگے ہے۔ وہاں سالا نہ اوسطاً 2875 ملی میٹر بارش ہوتی ہے اس لئے بڑے شہروں میں نکاسی آب کا جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے جسے Sustainable Urban Drainage System کہتے ہیں ۔ان تمام پیشگی انتظامات کے باوجود وہاں بارش کی تباہ کاریاں ختم نہیں ہوئیں۔2013ء کے آخری مہینے میں Kelantan شہر میں 600ملی میٹر بارش ہوئی تو گاڑیاں پانی میں تیرتی پھرتی تھیں اور 40،000 افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ صرف ملائیشیاء ہی کیا بسا اوقات امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی قدرتی آفات کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں۔ جاپان میں زلزلوں کی تاریخ بہت پرانی ہے ،ہر مرتبہ جاپانی حکومت انتظامات کرتی ہے تو یوں لگتا ہے کہ اب زلزلہ آبھی گیا تو تباہی نہیں ہو گی لیکن جب بھونچال آتا ہے تو زلزلہ پروف گھروں کو بھی ملیا میٹ کر دیتا ہے۔عالمی اداروں نے بارشوں کے اعتبار سے 169 ممالک کی جو درجہ بندی کی ہے اس میں پاکستان 135 ویں نمبر پر ہے جہاں اوسطاً سالانہ 494 ملی میٹر بارش ہوتی ہے اب اگر بدقسمتی سے ایک شہر میں ایک ہی دن میں 274 ملی میٹر بارش ہو جائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔ حکمرانوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس صورتحال سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور غافل نہ ہوں۔ جسے آپ "شو باز شریف" کہتے ہیں کم از کم وہ شخص بارش کے پانی میں آپ کے ساتھ کھڑا تھا،اپنے محل میں جا کر سو نہیں گیا اور نہ ہی کہیں کسی جلسے میں ڈانس کر رہا تھا۔

رواں سال اپریل کے مہینے میں جب تحریک انصاف 11مئی کے مارچ کی تیاریوں میں مصروف تھی تو میں پشاور میں خیبر پختونخوا کے ایک صوبائی وزیر کے پاس بیٹھا تھا۔ سامنے اخبار پڑا تھا،جس میں خبر تھی کہ لاہور میں 872 میٹر طویل والٹن اوور ہیڈ برج 62 دن کی ریکارڈ مدت میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ میں نے اخبار دکھاتے ہوئے وزیر موصوف کو کہا،آپ یہ تاویلیں پیش کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت آپ کو کام نہیں کرنے دیتی ،آپ کے صوبائی دارالحکومت میں چرغانو چوک والا اوور ہیڈ برج اے این پی کے دور سے نامکمل ہے ،اے این پی والوں نے اس چوک کانام تو تبدیل کر کے باچا چوک کر دیا مگر یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔ آپ کی حکومت کو بھی ایک سال ہو گیا مگر حالات جوں کے توں ہیں۔ آپ اس منصوبے کو 62 دن میں مکمل کرنا چاہیں تو کیا رکاوٹ ہے؟ وہ طنزیہ انداز میں مسکرائے اور کہنے لگے، غوری صاحب! وہ تو شعبدہ باز ہے۔ ایسے پاگل اور جنونی شخص کی مثال نہ دیں ہمیں۔ میں نے یاد دلایا کہ انتخابی مہم کے دوران آپ کے قائد کہا کرتے تھے کہ جنون کا مقابلہ قارون سے ہے اگر آپ یہی جنون دکھاتے اور کام میں جُت جاتے ، شہباز شریف پر سبقت لے جاتے تو آئندہ الیکشن میں آپ کی فتح یقینی تھی۔ شہباز شریف میں بے شمار خامیاں ہیں، اس کی سیاسی غلطیوں پر بات ہو سکتی ہے لیکن اس شخص کی جانفشانی اور مستعدی قابل تحسین ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے طویل انڈر پاس 82 دن میں مکمل ہوا۔ 2.53 کلومیٹر طویل آزادی چوک فلائی اوور کا منصوبہ 165 دن میں مکمل ہوا۔ جو منصوبے کئی سال میں مکمل نہیں ہو پاتے تھے، اب مہینوں نہیں دنوں میں پایہ تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں۔ پرویز خٹک نے حلف اٹھاتے وقت کہا تھا کہ میں شہباز شریف کی تقلید کروں گا ۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر بارش کے پانی میں کھڑا ہونا،محض 3 گھنٹے سونا اور سالوں کی مدت دنوں میں سمونا شعبدہ بازی ہے اور یہ شخص "شو باز شریف" ہے تو تینوں وزیراعلیٰ"شو باز" کیوں نہیں بن جاتے؟

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.