وزیراعظم کا دورۂ اقوام متحدہ۔ ممکن یا ملتوی

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

امریکہ میں آباد ہر پاکستانی چاہے وہ نواز شریف کا حامی ہے یا عمران خان کے آزادی مارچ یا طاہرالقادری کے انقلاب مارچ کا طرف دار ہے یا پھر ملک کے موجودہ آئینی نظام کے دائرہ کار میں رہ کر پارلیمانی اور جمہوری انداز میں نظام کی اصلاح کا حامی ہے۔یہ تمام پاکستانی آبائی وطن پاکستان کی صورتحال کے حوالے سے نہ صرف پریشان ہیں بلکہ اپنے امریکی دوستوں کے سامنے شرمندہ بھی ہیں کہ وہ کیا جواب دیں؟ اپنے آبائی وطن کی سرزمین پر جو شخصی انتقامی سیاست کا دنگل جاری ہے اس بارے میں وہ کیا وضاحت دیں؟ کیا تاویل پیش کریں؟ انتہائی مخدوش معیشت اور عدم استحکام کے شکار پاکستان کی یہ حالت کہ وہاں نہ حکومت نہ پارلیمنٹ نہ سیاسی روایات نہ ہی قانون اور اس کا نفاذ کرنے والے ادارے موثر ہیں۔ پاکستان سے آئے ہوئے سینیٹر جہانگیر بدر کے نوجوان صاحبزادے علی اکبر ایک بڑے متوازن اور مختلف انداز میں پاکستان کی صورتحال کا تجزیہ کر کے اسے ایک ٹریجڈی قرار دے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے جیالے اور تمام عمر حامی رہنے والے جہانگیر بدر کی اگلی نسل کے نوجوان سے متوازن اور سنجیدہ تجزیہ سن کر خوشی ہوئی کہ نئی نسل حقائق سے بخوبی آگاہ ہو کر دلیل اور دنیا کے موجودہ حالات کی زبان سمجھتی ہے۔ محمد خان جونیجو اور اقبال احمد خان کی قیادت میں کام کرنے والی مسلم لیگ کی امریکہ شاخ قائم کرنے اور پھر نوازشریف کا نیویارک میں خیرمقدم کرنے والے سردار نصراللہ مشہور مسلم لیگی سردار ظفراللہ خان (مرحوم) کے صاحبزادے ہیں جو بعد میں مسلم لیگ (ن) سے علیحدہ ہوگئے۔ وہ نوازشریف کو درپیش صورتحال پر بڑے خوش ہیں اور عمران خان کے دھرنے کے حامی ہیں۔ سلمان بٹ اور ملک رضا بھی لاہور کے حلقوں میں جانے پہچانے نام ہیں اور اب وہ بھی نوازشریف کی کارکردگی پر تنقید کرنے میں پیش پیش ہیں۔ شاہد نواز چغتائی ہمارے محترم قانون داں ایس ایم ظفر کے انتہائی قریب اور عقیدت مند ہیں مگر وہ بھی پاکستان کی صورتحال میں آئین سے بالاتر اور جمہوری نظام سے باہر طاہرالقادری اور عمران خان کے دھرنے اور مقاصد کے حامی ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رانا سعید، میاں فیاض آئین، جمہوریت اور نواز شریف حکومت کے حامی اور آئین سے بالاتر دھرنوں کے شدید مخالف ہیں۔

ایک پاکستانی تعلیم یافتہ خاتون کہہ رہی تھیں کہ بھارت میں انا ہزارے کا احتجاجی دھرنا موجودہ پاکستانی دھرنوں سے کہیں زیادہ بڑا اور موثر تھا مگر آخر میں بھارت میں آئین اور پارلیمنٹ ہی اپنی تمام خرابیوں اور خوبیوں کے ساتھ بالاتر رہی۔ بھارت میں بھی کرپشن، اقربا پروری اور غریب سے بے رحمانہ سلوک کرنے کا وجود ہے مگر سیاسی جمہوری پارلیمانی نظام میں اصلاح، قانون سازی اور حالات کو سمجھنے اور نظام میں سمونے کی حکمت عملی نظام کو چلارہی ہے۔ آئین اور پارلیمنٹ اور حکومت کو ختم کرکے جو خلاء پیدا ہوگا اسے فوری طور پر کون پورا کرے گا؟ بہت سے پاکستانی عمران خان کے ’’آزادی دھرنے میں نوجوانوں کی مادر پدر آزادی کے ماحول اور خبروں پر مضطرب ہیں۔ ادھر امریکی اخبار کے ادارئیے کی سرخی ہے ’’پاکستان خود اپنا بدترین دشمن ہے‘‘. اس ادارئیے میں پاکستان میں جاری صورتحال پر تجزیہ اور تیز تنقید ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی پاکستان کے بارے میں خبریں کوئی اچھا تاثر قائم نہیں کر رہی ہیں۔ چینی صدر کے دورۂ پاکستان کی منسوخی یا التواء کی خبر اور اس پر عمران خان کا جوابی تبصرہ دونوں ہی امریکہ کے پاکستانیوں کیلئے قابل تشویش ہے کہ عالمی برادری میں پاکستان کے واحد طرفدار ملک چین کو بھی پاکستان کی داخلی سیاست میں گھسیٹا جارہا ہے۔ چاہے امریکہ کے پاکستانی کسی کے طرفدار یا مخالف ہیں۔ وہ پاکستانی صورتحال پر پریشان ہیں اور اپنے غیرپاکستانی دوستوں کے سامنے شرمندہ بھی ہیں۔ حالات بہتر ہونے کیلئے دعا گو ہیں۔

چینی صدر کے دورۂ پاکستان کے التواء کے بارے میں اب اگلے چند روز میں یعنی ستمبر کے آخری ہفتے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہونے والا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کی مجوزہ آمد، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب، غیرملکی شخصیات سے ملاقاتوں اور پاکستانی وفد کے قیام و طعام کے انتظامات کو پاکستانی مشن برائے اقوام متحدہ اور پاکستانی سفارتخانہ واشنگٹن آخری شکل دے رہے ہیں مگر ایک غیریقینی کیفیت بھی ہے کہ کیا ملک کی موجودہ سیاسی اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نیویارک آسکیں گے؟ یا پھر صدر مملکت ممنون حسین یا مشیرخارجہ سرتاج عزیز کو نمائندگی کیلئے بھیجیں گے؟ یا اس سال اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر کو نمائندگی کرنے کو کہا جائے گا۔ صورحال 9 ستمبر تک بھی واضح نہیں مگر انتظامات جاری ہیں۔ ادھر بھارت کے نریندر مودی جن کو امریکی حکومت نے شدت پسند اور فرقہ وارانہ منافرت کے ریکارڈ کے باعث پچھلے کئی سال سے امریکہ کا وزٹ ویزا دینے سے بھی مسلسل انکار کیا تھا اب سرکاری طور پر واشنگٹن میں وہی اوباما حکومت نریندر مودی کا شاندار استقبال کرے گی کیونکہ بھارت کے پارلیمانی نظام میں کرپشن، کرائم، اسکینڈل اور دیگر خرابیوں کے باوجود بھارتی جمہوریت اور پارلیمنٹ نے نریندر مودی کو وزیراعظم چن لیا ہے اور دھرنے والے انا ہزارے واپس گھر لوٹ چکے ہیں۔ نریندر مودی بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے بلکہ اپنی بھارتی کمیونٹی سے بھی عالمی شہرت یافتہ کئی ہزار نشستوں والے میڈیسن اسکوائر کے ہال میں خطاب کریں گے۔ ابھی تک نیویارک میں اس موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم کی روایتی ملاقات بھی یقینی نہیں۔ پاکستانی مشن اور سفارتخانہ دونوں ہی غیریقینی کیفیت کے باعث وزیراعظم کے ممکنہ دورہ اور ملاقاتوں کی تفصیلات کو سینے سے لگائے اور خفیہ رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ ان حالات میں وزیراعظم کے ممکنہ دورۂ اقوام متحدہ کے حوالے سے متعدد حقائق اور سوالات کا جائزہ لینا چاہئے۔

(1) ایسے وقت میں کہ جب پاکستانی سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہیں اور بھارت کی جانب سے پاکستان کی طرف پانی دھکیلنے سے یہ تباہ کاریاں ہوئی ہیں تو وزیراعظم کا سیلاب زدہ عوام سے قریب رہنا ان کی بحالی کی نگرانی و احکامات سے براہ راست تعلق وزیراعظم کی ذمہ داری بھی ہے اور سیاسی ضرورت بھی ہے۔

(2) کیا وزیراعظم دھرنا سیاست، حکومت کی رٹ اور بدامنی کے حوالے سے عالمی میڈیا کے سوالات کا سامنا کر سکیں گے؟

(3) کیا وہ امریکہ کی بھارت سے مکمل الحاق اور تعاون کی پالیسی پر تنقید کرسکیں گے؟ کیا وہ اقوام متحدہ میں بھارت کی جانب سے سیلابی ریلے کے بارے میں کوئی شکایت کرسکیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کی دھرنا سیاست اور واقعات نے امریکہ اور دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ہی تشویش اور شرمندگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ نواز حکومت بھی پارلیمانی حمایت کے باوجود عالمی حلقوں میں کمزور امیج کا شکار بنی ہے بلکہ پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔ سیلاب نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنادیا ہے۔ اس وقت نیویارک اور واشنگٹن کے افق پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چھائے ہوئے ہوں گے۔ اس دورۂ امریکہ میں بھارت، امریکہ مذاکرات، معاہدات اور ملاقات جنوبی ایشیا کے تناظر میں اہم اور بھارت کیلئے بڑی مفید ہوگی۔

وہ زمانہ گزرچکا جب کشمیر اور دیگر پاک بھارت تنازعات کے تناظر میں بھارت کو جنوبی ایشیا کی ’’حدود‘‘ میں رکھا جاتا تھا۔ اب امریکہ بھارت کو علاقائی طاقت تسلیم کرکے تمام مراعات و تعاون فراہم کررہا ہے۔ امریکہ اور بھارت جنوبی ایشیا اور بقیہ ایشیا میں اپنے مشترکہ مفادات اور مقاصد پہلے ہی طے کرچکے ہیں۔ اس تناظر میں وزیراعظم نوازشریف کے دورۂ اقوام متحدہ کا بھارتی وزیراعظم دورۂ نیویارک اور واشنگٹن سے موازنہ درست تو نہیں ہوگا مگر ان کے سیاسی مخالفین یہ موازنہ کریں گے۔ نوازشریف نظر ثانی کریں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں