یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات!

عطاء الحق قاسمی
عطاء الحق قاسمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

عمران خان اور طاہرالقادری صاحب اپنے محبت کرنے والے پیروکاروں کے ساتھ فیس بک والے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ فیس بک ایک بہت مفید چیز ہے اس سے لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں مگر اس میں چکر دینے کی بھی بہت ’’صلاحیت‘‘ ہے۔ آپ اس میں سیٹنگ پر جائیں، پرائیویسی والی آپشن استعمال کریں اور اس کے بعد کسی سے اپنا پروفائل ’’ہائیڈ‘‘ کرلیں۔ کسی پہ ظاہر کر دیں۔ کسی کو فرینڈ، ان فرینڈ، بلاک بھی کرسکتے ہیں فیک آئی ڈی بھی بنا سکتے ہیں۔ ایک ذریعہ ’’فیس بک یوزر‘‘ بھی ہے مگر یہ بدنام بہت ہے۔ بہرحال ’’پرائیویسی‘‘ میں ایسے بہت سے طریقے موجود ہیں کہ آپ اپنے رابطے خفیہ رکھ سکتے ہیں اور جس کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو اس کی اس سے زیادہ انسلٹ نہیں کی جا سکتی۔ عمران خان اور طاہرالقادری نے بھی انقلاب اور آزادی کے نام پر اپنے پیروکاروں کو لاکھوں کی تعداد میں جمع کرنے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام ہوئے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ان کے پیروکاروں کو بھی پتہ چل گیا ہو کہ ان کے رہنمائوں نے ’’پرائیویسی‘‘ کا آپشن استعمال کر کے اپنے اصل رابطے ان سے ’’ہائیڈ‘‘ کئے ہوئے ہیں ممکن ہے انہیں بھی اس سے اپنی ذلت کا احساس ہوا ہو، بہرحال اب تو یہ رابطے بہت واضح ہو کر سامنے آ گئے ہیں۔ کیونکہ آج کی دنیا میں کوئی چیز چھپی نہیں رہتی، مخدوم جاوید ہاشمی نے ان رابطوں کی پوری تفصیل بیان کردی ہے بلکہ اب تو آپ راہ چلتے کسی ان پڑھ شخص سے بھی بات کریں تو وہ آپ کو ان دھرنوں کی اصلیت بتا دے گا۔

اور اب اگر آپ سچ پوچھیں تو قادری صاحب سے زیادہ مجھے عمران خان کے ایکسپوز ہونے کا زیادہ افسوس ہے، قادری صاحب کو ان کے مریدوں کے علاوہ کوئی نہیں مانتا، نہ انہیں مذہبی پیشوا سمجھا جاتا ہے اور نہ کوئی سیاسی رہنما، جبکہ عمران خان کے بارے میں میرے سمیت بہت سے لوگ ان کی ماضی کی غلطیوں کے باوجود اچھی رائے رکھتے تھے، مگر دھرنا اور اس کے بعد اس کی ناکامی نے عمران خان کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے، انہوں نے اس دوران اتنے پینترے بدلے ہیں اور ایک دن ایک بات کہہ کر دوسرے دن اس سے متضاد بیان نے ان کی پوزیشن بہت خراب کردی ہے۔ اس کے علاوہ بھلے وقتوں میں بزرگ نو جوانوں کو بڑوں کا ادب سکھایا کرتے تھے، اگر کسی سے اختلاف بھی ہو تو انہیں سلیقے سے اپنی بات کہنے کی تلقین کرتے تھے۔ مگر اب یہ بزرگ خود ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جو اخلاق اور شائستگی سے ہٹ کر ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ شدید بدحواسی کے عالم میں اور دوسرے لفظوں میں Desprate ہو کر نوجوانوں کو تشدد پر بھی اکساتے ہیں چنانچہ ان کے نوجوان نہ صرف یہ کہ اپنے لیڈر کی زبان سے بھی زیادہ گری ہوئی زبان اختلاف کرنے والوں کے لئے استعمال کرتے ہیں بلکہ ان پر حملہ آور بھی ہوتے ہیں۔ پی ٹی وی پر حملہ اور اس کی نشریات بند کر دینا (نشریات ممکن ہے کسی اور نے ردعمل آزمانے کے لئے معطل کی ہوں گی) پارلیمنٹ پر دھاوا اور اب روزانہ ’’جیو‘‘ پر پتھرائو اور اس کے کارکنوں پر تشدد ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔

میں گزشتہ روز خاں صاحب کی تقریر سن رہا تھا ان کے منہ میں جو آتا تھا وہ کہے جارہے تھے۔ فلاں منصوبے میں اتنے ارب، فلاں میں اتنے ارب اور فلاں میں اتنے ارب کی کرپشن ہوئی۔ عجیب دور آگیا ہے۔ آپ کسی پر کوئی بھی الزام لگائیں، آپ بغیر ثبوت کے لگا سکتے ہیں اور اگر ثبوت مانگا جائے تو کہا جائے گا کہ ’’وائٹ کالرڈ جرائم کا بھی کبھی کوئی ثبوت ہوا ہے؟‘‘ گویا صلائےعام ہے یاران نکتہ داں کے لئے۔ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ الزام لگانے والے اور جن پر الزام لگایا جاتا ہے، انہیں کٹہرے میں کھڑا کریں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے یہ میں نے صرف خواہش کا اظہار کیا ہے۔ میں جانتا ہوں قانون میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ویسے ہی قانون کچھ عرصے سے خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، پیمرا ’’جیو‘‘ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے ۔ اور اس کا نوٹس نہیں لیا جارہا۔ مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آتی اور وہ یہ کہ پیمرا آخر کس ’’حکومت‘‘ کے ماتحت ہے؟ وزیر اطلاعات پرویز رشید کئی دفعہ اسے ’’بندے دا پتر‘‘ بننے کی دھمکی آمیز تلقین کر چکے ہیں۔ مگر اس ادارے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

اس سارے معاملے کا خوفناک ترین پہلو یہ ہے کہ کمزور قسم کے لوگ سچی بات کہنے سے ڈرنے لگے ہیں۔ میں یہاں تھوڑی سی ترمیم کرتا ہوں سچی بات سے میری مراد وہ بات ہے جو آپ اپنے ضمیر کی آواز پر کہتے ہیں، خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو یا کسی کو اس سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو، جب حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہو، صحافیوں کو قتل کیا جا رہا ہو، کالم نگاروں کو ماں بہن کی گندی گالیاں دی جاتی ہوں، ایک چینل کو سزا پوری کرنے کے بعد بھی کھلنے نہ دیا جارہا ہو، اسے اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا جارہا ہو، اسپانسرڈ دھرنوں سے ملکی معیشت تباہ حالی کا شکار ہورہی ہو، ٹی وی چینلز کی ایک تعداد اپنی جان بچانے کے لئے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار بنتی چلی جا رہی ہوں، قلم کاروں کا ایک قبیلہ اپنے قلم برائے نیلام بازار میں لے آیا ہو، مجھے بتائیں کیا ایسی صورت حال میں حقائق عوام تک پہنچائے جاسکیں گے؟ سقوط مشرقی پاکستان سے قبل بھی ہم سے حقائق چھپائے گئےتھے، ہمیں بتایا کچھ جارہا تھا اور حقیقت کچھ اور تھی۔ آپ جانتے ہیں، اس کا نتیجہ کیا نکلا تھا، خدا کے لئے یہ سارے ڈرامے بند کریں، خدا کے لئے ملک و قوم پر رحم کریں اور خدا کے لئے پاکستان کی دی ہوئی نعمتوں کی اس طرح ناشکری نہ کریں۔ اسی حوالے سے اہل دانش میں جو بے چینی پائی جاتی ہے اوران کا ذہن جن سمتوں میں سفر کرنے لگا ہے یہ جاننے کے لیے سلیم صافی کا گزشتہ روز کا کالم پڑھ لیں!

اس وقت ہماری فوج کے جوان اور افسر آپریشن ضرب عضب میں جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ سیلاب آدھے سے زیادہ ملک کو ڈبو چکا ہے، شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز ہماری پوری توجہ کے مستحق ہیں، حکومتی ترقیاتی منصوبے التوا کا شکار ہو رہے ہیں، سرمایہ کاری رک گئی ہے، ڈالر 98 سے 102 تک آگیا ہے۔ اس کے علاوہ اخلاق اور شائستگی کا جنازہ ہے جس پر ہر طرف سے الامان الامان کی صدائیں آرہی ہیں۔ عزت اور جانیں دونوں خطرے میں ہیں، حکومتی رٹ ختم ہو گئی ہے۔ یہ سب کیا ہورہا ہے اور یہ کب تک ہوتا رہے گا، خدا کا خوف کریں اوراب اس ڈرامے کا ڈراپ سین ہونے دیں! ذیل میں افتخار عارف کی ایک بہت پرانی نظم درج کر رہا ہوں، باقی باتیں اس نظم کے ذریعے آپ تک پہنچ جائیں گی؎

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا
مرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا
چراغ حجرۂ درویش کی بجھتی ہوئی لو
ہوا سے کہہ گئی ہے اب تماشا ختم ہوگا
کہانی میں نئے کردار شامل ہوگئے ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا
کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا
زمین جب عدل سے بھر جائے گی نور علیٰ نور
بنام مسلک و مذہب تماشا ختم ہوگا
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہوگا
تماشا کرنے والوں کو خبر دی جاچکی ہے
کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہوگا
دل نامطمئن ایسا بھی کیا مایوس رہنا
جو خلق اٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہوگا

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں