.

قومی سلامتی کا تصور

اکرام سہگل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہماری پالیسیوں کے کھوکھلے پن نے ہمیں بین الاقوامی طور پر ایسی طاقتوں کے دباؤ میں دیدیا جن کے مخصوص مفادات ہیں اور داخلی طور پر بھی ہم بُرائی کی طاقتوں کے مسلسل حملوں کی زد میں ہیں جن کی لوٹ مار کی ہوس گزشتہ نصف صدی سے زاید عرصے میں بھی تسکین نہیں پا سکی۔ حالیہ سیاسی، اقتصادی اور سفارتی بحران نے حالات کو انتہائی خطرناک نہج تک پہنچا دیا ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ گورننس کی ناکامی کی وجوہات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اصلاح احوال کی کوشش کی جانی چاہیے۔

آنجہانی سیاست دان ہانس مورگن تھاؤ(Hans Morgantha ) نے اپنی کتاب (Politics Among Nations) ’’اقوام میں سیاست‘‘ میں نیشنل سیکیورٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قومی سرزمین اور اس کے اداروں کی یک جہتی کا نام ہے۔ عالمگیریت نے قومی سرحدوں کو غیر متعلقہ بنا دیا ہے جس کے باعث قومی سلامتی کا تصور کافی حد تک بدل سا گیا ہے۔ فی زمانہ صرف فوج ہی قومی سرزمین اور ملکی فضا کی سلامتی کی ذمے دار نہیں رہی بلکہ اقتصادی اور ثقافتی معاملات بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔

اب فیصلہ سازی کے عمل میں کوئی تنہا ادارہ شامل نہیں بلکہ اس حوالے سے اخلاقی اقدار،، مفادات اور مقاصد کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ پاکستان عارضی بنیادوں پر ہی پالیسیاں تشکیل دیتا رہا ہے اور یہ روش مسلسل 60 سال سے قائم ہے۔ ہم نے حکومت سے باہر کے ذرایع سے کبھی مشاورت نہیں کی کہ وہ ہمیں ان اہم مسائل پر رہنمائی دے سکیں یہی وجہ ہے کہ ٹھوس زمینی حقائق پر توجہ دینے کے بجائے ہم محض زبانی جمع خرچ سے کام لیتے رہے ہیں۔ اس میں کوئی تزویراتی ہم آہنگی نہیں اور فیصلے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مستحکم طریقے سے نہیں کیے جاتے۔ علت و محلول کا غیر جانبدارانہ جائزہ ہی نہیں لیا جاتا۔

جس سے کہ معاملے کی صحیح معنوں میں تفہیم ہو سکے اور اس کا مناسب طریقے سے تجزیہ کر کے منصوبہ بندی کی جائے اور پھر فیصلے کو نافذ کیا جائے۔ تمام تر انحصار انٹیلی جنس ایجنسیوں پر کیا جاتا ہے جن کی اپنی محدودات،، تعصبات اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ انفرادی ترنگ اور متلون مزاجی سے یک طرفہ فیصلے کیے جاتے ہیں حالانکہ ایک مستقل طریقہ کار کے ذریعے تمام وفاقی اور صوبائی ذرایع کو استعمال کر کے معلومات حاصل کی جانی چاہئیں نیز جو سفارشات کی جائیں ان کی بنیاد بھی ٹھوس ہونی چاہیے۔
موجودہ نظام کا غیر مناسب ہونا اور

(1) اگرچہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں بہت مضبوط ڈھانچہ رکھتی ہیں لیکن مسلح افواج کو خارجہ پالیسی اور اقتصادی انتظامی امور کے بارے میں پالیسی سازوں اور ماہرین کی طرف بہت کم ،،،،فیڈ بیک،،،، دی جاتی ہے۔

(2) سویلین اور عسکری انٹیلی جنس ایجنسیوں میں بہت محدود تعاون ہوتا ہے۔

(3) فوجی اسٹیبلشمنٹ اور منتخب سول سیٹ اپ کے مابین قومی سلامتی کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے بہت زیادہ تفاوت موجود ہے۔ بار بار رونما ہونے والی سیاسی کشیدگی موجودہ سیاسی عدم استحکام کا باعث ہے۔

(4) قومی سلامتی کونسل (NSC) سیکریٹریٹ کے بغیر منضبط پالیسی متبادلات کی تشکیل ممکن نہیں۔

(5) این ایس سی سیکریٹریٹ کے بغیر کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا کردار بہت محدود ہو جاتا ہے جہاں شاذ و نادر ہی قومی سلامتی کے بڑے مسائل زیر غور آتے ہیں۔

قومی سلامتی کی حکمت عملی کو پانچ بنیادی مقاصد حاصل کرنے چاہئیں:

(1) تزویراتی بصیرت سے انتظامیہ اور پارلیمنٹ کو آگاہ کریں تا کہ اس مقصد کے لیے وسائل کو قانونی طور پر حاصل کیا جا سکے۔ قومی طاقت کے اہم عناصر ہونے کی حیثیت سے انھیں تزویراتی ماحول اور انتظامیہ کے مضبوط عزم کی ضرورت ہے۔

(2) اس حوالے سے حاصل ہونے والی مشترکہ بصیرت سے ملک کے شہریوں،، اہل دانش اور عوام الناس کو اجتماعی طور پر آگاہ کیا جائے۔

(3)حکومت کی سلامتی کی پالیسیوں کو، جو ہم آہنگی اور دور اندیشی پر مبنی ہوں ان کے لیے تمام شہریوں کی مکمل حمایت حاصل کی جانی چاہیے۔

(4) سمت،، ترجیحات اور دورانیے کے ساتھ ان کے متبادل نظریات سے بھی متعلقین کو آگاہ کیا جانا چاہیے۔

(5) برسر اقتدار سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ قومی ایجنڈے کے مقاصد سے سب کو آگاہ کرے۔ اس کے بعد اشتراک عمل سے تمام اختلافات کو دور کیا جائے اور ایک حتمی دستاویز تیار کی جائے۔

ہمارے معاشرے کا بڑا حصہ چونکہ غربت اور محرومیوں کا مارا ہوا ہے جس کی ہنر مندی میں کوئی خاص تربیت ہی نہیں۔ اس وجہ سے بہت کم لوگوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کا موقع ملتا ہے۔ ہمیں اپنے متوسط طبقے کی حالت زار کو بہتر بنانا ہو گا تا کہ ان کو بھی تعمیر و ترقی کا فائدہ پہنچ سکے جب کہ اقربا پروری اور کرپشن جو کہ بالائی طبقے میں پھیلی ہے اس کا بھی قلع قمع ہو سکے۔
پاکستان کو آج ہم اسلام کا گڑھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس کی وہ شکل نہیں جو اسلام پیش کرتا ہے اور نہ ہی یہ شاعر مشرق علامہ اقبال کے یا بابائے قوم قائد اعظم کے نظریے کے مطابق ہے۔ واضح رہے آج بابائے قوم کی 66 ویں برسی بھی منائی جا رہی ہے۔ ہر قوم کی ایک منظم ہئیت ہوتی ہے جسے ایک لائحہ عمل (روڈ میپ) کی ضرورت ہوتی ہے جو واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرے کہ ہم کیا ہیں، ہم کیا بننا چاہتے ہیں اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.