.

نیٹو مشرقِ وسطی اور امریکہ

ڈاکٹر رشید احمد خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی گزشتہ 70 برس کی پالیسی کو اگر مختصر انداز میں بیان کرنا مقصود ہو تو یہ اس کیلئے ایک ہی لفظ کافی ہے اور وہ ہے ’’ناکامی‘‘۔ اس کا تازہ ترین ثبوت برطانیہ میں نیو پوآئنٹ، ویلز کے مقام پر شمالی بحراوقیانوس کے دفاعی معاہدے نیٹو کی حالیہ سربراہی کانفرنس کے اختتام پر مشرقِ وسطیٰ اور خصووصاً انتہا پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے متعلق آئندہ لائحہ عمل کا اعلان ہے۔ اس لائحہ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے امریکہ کے سیکرٹری خارجہ جان کیری نے کہا کہ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اسلامک سٹیٹ کے انتہا پسند عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد قائم کیا ہے۔ ان میں برطانیہ، فرانس ، آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی، ترکی ، اٹلی ، پولینڈ اور ڈنمارک کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ سے سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ جان کیری کے مطابق یہ اتحاد اسلامک سٹیٹ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے اور اس خطرے کا سدِ باب کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کرے گا جس میں صرف طاقت کے استعمال یعنی ائیر سٹرائیک اور ڈرون حملوں پر ہی اکتفا نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس سنگین مسئلے کے سیاسی، معاشی اور مالی پہلوؤں کو بھی مد نظر رکھا جائے گا۔ اس حکمت عملی کے تحت اسلامک سٹیٹ کی فنڈنگ کا پتہ چلا کر اسے بند کیا جائے گا جن ممالک میں اس تنظیم نے بھرتی دفتر کھول رکھے ہیں، انکو ختم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دنیا کے جن حصوں سے اس انتہا پسند تنظیم کو سیاسی اور نظریاتی حمایت ملنے کا امکان ہے اس کا راستہ روکنے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس حکمت عملی میں عراق کی سکیورٹی فورسز کو مضبوط کیا جائے گا اور خطے میں دیگر ایسے ممالک جو اس خطرے کا مقابلہ کرنے اور اس کے خلاف عملی اقدام کرنے پر تیار ہیں کی بھی فوجی امداد کی جائے گی۔ لیکن اس کیلئے امریکی یا نیٹو افواج نہیں بھیجی جائیں گی بلکہ ہوائی حملوں اور ڈرون کے ذریعے انتہا پسندوں کے ٹھکانوں، ہتھیاروں اور دوستوں کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ وہ پیش قدمی کر کے مزید علاقوں پر قبضہ نہ کر سکیں۔ عراق میں تمام سیاسی پارٹیوں پر مشتمل ایک مخلوط حکومت کی تشکیل بھی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد اسلامک سٹیٹ کے خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے اور ان انتہا پسندوں کا اس طرح پیچھا کیا جائے گا کہ انہیں دنیا کے کسی حصے میں پناہ نہیں ملے گی۔ کیونکہ اگر ان وحشی انتہا پسندوں کو کہیں بھی قدم جمانے کا موقع ملا تو یہ کینسر کی طرح دنیا میں پھر پھیل جائیں گے۔ جان کیری اور امریکی سیکرٹری دفاع چک ہیگل کے مطابق سیاسی اور فوجی اقدامات پر مشتمل یہ حکمتِ عملی دنیا کے کسی بھی حصے میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے ایک ماڈل حکمتِ عملی ثابت ہو گی۔ یعنی زمینی فوج خطے کے ممالک فراہم کریں گے۔ امریکہ صرف فوجی امداد دے گا یا ڈرون اور ہوائی جہازوں سے دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

لیکن اس حکمتِ عملی کی تیاری میں امریکہ ایک دفعہ پھر اس غلطی کا ارتکاب کر رہا ہے جس کا مرتکب وہ مشرقِ وسطیٰ میں دوسری جنگ عظیم سے اب تک ہو رہا ہے۔ اس کا تعلق امریکہ کی طرف سے خطے میں زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار ہے۔ امریکہ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ عالمی امور میں اس کے اثر و نفوذ میں بد ستور کمی واقع ہو رہی ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں امریکہ کے علاوہ اور بھی با اثر طاقتیں موجود ہیں جنکی موجودگی میں امریکہ پہلے کی طرھ عالمی معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکتا۔ اسکی سب سے نمایاں مثال یوکرائن کا مسٗلہ ہے۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال بھی 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں سے مختلف ہے۔ اب اس کیلئے براہ راست یا اسرائیل کے ذریعے خطے میں من مانی کرنا دشوار ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی نقشہ بدل چکا ہے۔ لیکن امریکہ اسے تسلیم کرنے پر تیار نہیں اور اب بھی 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں کی صورت حال کو بنیاد بنا کر خطے کے دفاع اور سلامتی کیلئے حکمت عملی وضع کرنے میں مصروف ہے۔ اس حکمت عملی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ امریکہ اس میں ایران کو کوئی اہم کردار دینے پر آمادہ نہیں۔ حالانکہ ایران اپنے جغرافیائی محلِ وقوع، خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے قدیم ثقافتی اور تجارتی روابط اور یہذیبی وورثہ کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کی ایک اہم طاقت ہے جسے ان علاقوں کے دفاع اور سلامتی کے امور سے الگ تھلگ نہیں رکھا جا سکتا۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی شرکت کے بغیر کوئی علاقائی حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس وقت اسلامک سٹیٹ کی صورت میں جو خطرہ موجود ہے اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ایران کا تعاون ضروری ہے۔ اور ایران نے امریکہ کو اپنے تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ ایران کی طرف سے مغربی ایشیاء کی پیچیدہ صورتِ حال کو سلجھانے کیلئے ایران نے امریکہ یا اس کے علاقائی حلیف ممالک کو تعاون کی پیش کش کی ہو۔ اس قسم کی پیش کش ایران القاعدہ کے خلاف بھی کر چکا ہے اور امریکہ نے ایران کے مثبت اقدامات کا مناسب جواب نہیں دیا۔ باوجود اس کے کہ ایران نے عراق میں حالیہ سیاسی تبدیلی میں بھی امریکہ کا ساتھ دیا ہے، امریکہ نے اسلامک سٹیٹ کی طرف سے پیدا ہونے والے خطرے کا سدِ باب کرنے کے لیے چند ممالک کا نام لیا ہے۔ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف باغیوں کی مدد کرنے میں بھی ان ممالک نے سر گرم حصہ لیا ہے۔اور اسکا نتیجہ سامنے ہے۔ صدر بشار الاسد کا پلہ اب بھی بھاری ہے۔ البتہ انکے خلاف باغیوں کی امداد کی وجہ سے اسلامکسٹیٹ کو اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کا موقع ملا۔

مشرقِ وسطیٰ کی دن بدن بگڑتی صورت حال اور خصوصا اسلامک سٹیٹ کی عراق اور شام میں پیش قدمی کے باعث امریکہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس خطے کے بارے میں اپنی تنگ نظر پالیسی پر نظر ثانی کرے اور زمینی حقائق کو تسلیم کر کے ایران کو بھی علاقائی حکمتِ عملی میں شامل کرے۔ امریکہ کے مشہور تھنک ٹینک کارنیکی انڈومنٹ کے مڈل ایسٹ سنٹر کی ڈائریکٹر لینا خاطب نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامک سٹیٹ کے انتہا پسندوں کو شکست دینے کیلئے ضروری ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کر کے انہیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے۔ دونوں ممالک اسلامک سٹیٹ کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایران کیلئے اسلامک سٹیٹ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اسی وجہ سے ایران نے اسکے خلاف امریکہ کو تعاون کی پیش کش کی ہے۔ مگر امریکہ اور ایران کے درمیان تعاون کے قیام سے قبل ایران اور سعودی عرب میں اعتماد کا قیام بہت ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک جزیرہ نما عرب اور خلیج فارس کے علاقے کی اہم طاقتیں ہیں اور ان علاقوں سے دونوں ملکوں کے اہم مفادات وابستہ ہیں۔ ان مفادات کا تحفظ صرف اسی صورت ممکن ہے جب تہران اور ریاض باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اسلامک سٹیٹ کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں جو دونوں کیلئے ایک سنگین خطرے کی نشانی ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب 1977ء سے قبل ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعاون اور اتحاد خلیج فارس کے دفاع اور سلامتی کیلئے ایک کنجی کی حیثیت سے مانا جاتا تھا۔ اس سوچ کو پروان چڑھانے اور اسے عملی شکل دینے میں امریکہ کا ہاتھ تھا۔ اس حکمتِ عملی کو Twin Pillar Strategy کہا جاتا تھا لیکن یہ دیر پا اس لیے ثابت نہ ہو سکی کیونکہ اسکا مقصد علاقے میں صرف امریکی مفادات کا تحفظ تھا۔ مگر اب صورت حال مختلف ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے ممالک اب سرد جنگ کے ماحول سے باہر آ چکے ہیں اور ان میں اپنی قسمت اپنے ہاتھ میں لینے کی خواہش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان حالات میں کوئی ایسی حکمتِ عملی جس کا انحصار مقامی حکومتوں کے تعاون پر ہواور پھر ان میں سے صرف ان حکومتوں کا چناؤ کیا جائے جو ایک نقطہ نظر کی مالک ہوں اور دوسرے طاقتوں کو ان کے جائز کردار سے محروم کیا جائے، بالکل کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لینا خطیب نے اپنے مضمون میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان ڈائیلاگ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں ملکوں میں ایک ایسی مفاہمت اور سمجھوتے کی ضرورت ہے جس کے تحت شام اور عراق میں انکے مفادات کی ضمانت دی جائے۔ اگر امریکہ اسلامک سٹیٹ کے خلاف مجوزہ بین الاقوامی کولیشن کی کامیابی کیلئے مقامی طاقتوں کا تعاون چاہتا ہے تو یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ وہ ان دونوں ممالک میں مصالحت کروا دے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.