.

پاکستان میں محصور جمہوریت

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک وقت وہ تھا جب پاکستان عوام ملک کے معاملات میں مداخلت کی خواہاں فوج کی یلغار سے اپنے جمہوری نظام کا دفاع کرنے کیلئے سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ آج وہی پاکستانی عوم یہ چاہتے ہیں کہ ملک کے بچے کھچے جمہوری ڈھانچے کو بچانے کے لیے فوج مداخلت کرے۔

یہ واضح طور پر اس وقت دیکھا گیا جب عوام کے منتخب کردہ وزیر اعظم نواز شریف نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کر کے ان سے مدد کی درخواست کی۔ نواز شریف نے سوچا تھا کہ وہ غیر فوجی وزیر اعظم کی حیثیت سے فوج کی مدد مانک کر بچ نکلیں گے لیکن فوج نے ایک رسمی پریس ریلیز جاری کر کے یہ کہا ہے کہ وزیر اعظم نے درخواست کی تھی جو فوج نے قبول نہیں کی۔ فوج کی طرف سے وضاحت میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک جمہوری نظام میں اس کا روائیتی کردار ملک کا دفاع کرنا ہے نہ کہ اس کا نظم و نسق چلانا۔

دراصل وزیر اعظم نواز شریف نے خود یہ مصیبت اپنے سر لی ہے۔ انکی بدنظمی نے عوام کو ان سے دور کر دیا ہے۔ وہ ان سے اور ان کے بھائی پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے چاہتے ہیں کہ وہ منصب سے دست بردار ہو کر وسط مدتی انتخاب کرائیں۔ اس کے بجائے نواز شریف نے اپنی حمایت کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کرا لی ہے۔ اس سے صورت حال کے معمول پر لانے میں کوئی مدد ملنے والی نہیں ہے کیونکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری دونوں ہی غیر فوجی ہیں۔

نواز شریف کے مخالف بعض لیڈران نے وسط مدتی انتخاب کا مطالبہ کیا ہے ۔ انکی سوچ یہ ہے کہ عوام کو ایک بار پھر اس کا فیصلہ کرنا چہیے کہ کیا وہ کش کھو چکنے والے نواز شریف کو چاہتے ہیں یا کسی اور کو حکومت کا انتظام سنبھالنا چاہیے۔ اس پر ابھی محض قیاس آرائی ہی کی جا سکتی ہے کہ کیا ازسرنو انتخاب سے کوئی ایسا دوسرا شخص مسندِ اقتدار پر آئے گا جو نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ، شمال مغربی صوبہ سرحد اور بلوچستان کے لیے بھی قابلِ قبول ہو ۔ تاہم اگر انتخاب کرایا گیا تو یہ بھی ممکن ہے کہ عوام کی ناپسندیدہ فوج کو نظم و نسق چلانے کی اجازت عوام کی طرف سے مل جائے۔ عالمی رائے عامہ چاہے اسے قبول کرے یا نہ کرے، فوج واحد وسیلہ اتحاد نظر آتی ہے لیکن جیسا کہ فوجی کمانڈروں کی ملاقات میں انکشاف ہوا ہے وہ مداخلت کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہی ہے۔

پھر بھی پاکستان میں جو کچھ ہوا ہے وہ ایک ہلکی بغاوت ہے۔ ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہو فوج کو اس میں مرکزی حیثیت حاصل رہتی ہے۔ عوام کا مزاج ایسا بن گیا تھا کہ وہ فوج کی تائید حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس صورتِ حال میں سوال یہ ہے کہ مسئلے کا حل کیا ہے۔

پاکستان پہلے بھی کئی بات ایسی ہی صورت حال کا سامنا کر چکا ہے ۔ چاہے اپنی مرضی سے یا کسی جبر کے تحت فوج نے 37 سال یعنی ملک کی آزادی سے اب تک کی نصف مدت تک حکومت کی ہے۔ کوئی جمہوری ملک نہیں چاہے گا کہ فوج اس پر حکومت کرے۔ حزب مخالف کے بعض لیڈران نے اس پر کافی اصرار کیا کہ حکومت کا انتظام چلانے میں فوج کا کردار ہونا چاہیے لیکن بڑی سیاسی جماعتیں اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پھر بھی جس سوال کا سامنا پاکستان کو ہے وہ یہ ہے کہ کون سا سیاسی نظام اختیار کیا جائے جس میں بشمول فوج سب کے لیے گنجائش رکھی جا سکے۔

مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے حکمران جنرل ضیاء الحق نے کہا تھا کہ شاید ترکی جیسا نمونہ جس میں ملک کے نظم و نسق میں فوج کے کردار کو تسلیم کیا جاتا ہے، پاکستانی نظام کو بھی تقویت پہنچا سکے گا۔ ترکی کے آئین میں درج ہے کہ اگر کبھی جمہوریت پٹری سے اترے تو فوج مداخلت کر سکتی ہے لیکن عوام کے منتخب کردہ لیڈروں نے اسے مسترد کر دیا۔

آج فوج ایک سیاسی دھڑے کے نقطہ نظر سے دوسرے دھڑوں کو آگاہ کرنے کے لیے ثالث کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ اسے غیر جانبدار فریق تصور کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں معروف کرکٹ کھلاڑی عمران خان کے آمادہ پیکار ہونے سے اس کا کافی ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر مصروف احتجاج انکے حامی نواز شریف کو اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ وہ استعفیٰ نہ دے دیں۔ پی اے ٹی سے تعلق رکھنے والے مولانا طاہر القادری بھی نواز شریف سے نجات پانے کے اس مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں۔

عوام سے رابطہ جمہوریت کی بنیادی شرط ہے۔ اور وزیر اعظم نواز شریف نے عوامی میٹنگوں کے ذریعے اس روایت کو برقرار رکھا ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ ان کا ہر عمل پاکستان کی جمہوری اور آئینی مشنری کی بقا کے ضامن اداروں کے دفاع کی حیثیت رکھتا ہے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب فوج نے نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے ہٹایا تھا۔ اب فوج کے سربراہ سے انکی مداخلت کی درخواست موقف سے پوری طرح ہٹ جانے کے مترادف ہے۔ لیکن انہیں احساس نہیں ہے کہ حالات کے تقاضے کے تحت فوج کبھی بھی بغاوت کرنے سے نہیں ہچکچائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اپنے بیانات میں اس امر پر تاکید کے لیے کہ فوج کا کردار زیادہ سے زیادہ عارضی ہے، پارلیمانی جمہوریت کو درمیان میں لاتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان میں مسلح افواج کی مداخلت بار بار ہو رہی ہے۔ عوام ا سکے عادی ہوتے جا رہے ہیں اور فوجی نظام میں انہیں استحکام نظر آرہا ہے۔ یہ احساس بنیادی طور پر جمہوریت مخالف ہے کیونکہ کسی بھی جمہوری معاشرہ میں عوام کی شمولیت کے برعکس کوئی فوجی نظام ایک جابرانہ نظام ہوتا ہے۔

پاکستان کے حالات پر افسوس ہوتا ہے۔ وہاں کے عوام ہندوستانی عوام سے مختلف تو نہیں ہیں لیکن اعلیٰ سطح پر بد نظمی نے فوج کو قدم رکھنے کا موقع دے دیا ہے۔ اس وقت کے فوجی سربراہ ایوب خان نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مارشل لا لگا دیا اور آٹھ سال حکومت کی۔ اور جب فوج نے انتظام سنبھال لیا تو فوجیوں کے بیرکوں میں واپس چلے جانے کے بعد بھی ان کا اثر باقی رہا۔ اسکے بعد سے پاکستان میں غیر یقینی صورت حال رہی ہے۔ دراصل مشرقی پاکستان کی علاحدگی کے لیے جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا، فوج کے اختیار کردہ سخت گیر طریقے ذمہ دار تھے۔ بدقسمتی سے پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں چاہے کتنا بھی جمہوری ہونے کا دعویٰ کرتے ہیوں وہ ہر وقت اس خطرے کی زد پر رہتے ہیں کہ فوجی ، صدر دفتر سے انکے لیے کیا حکم آ جائے۔ تاہم جو کچھ انتخابات کی شکل میں باقی رہ گیا ہے وہی ان ملکوں میں جمہوریت کے لیے امید کی کرن ہے۔

ایک ریٹائرڈ فوجی افسر نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ اگر وسط مدتی انتخاب کرایا جاتا ہے تو نواز شریف کم ووٹوں سے منتخب ہوں گے اور انکی نشستیں گھٹ جائیں گی۔ بہر کیف عوام کے اقتدار کا افسوس ناک انجام ہو گا کیونکہ جمہوری طور پر منتخب شدہ وزیر اعظم سے عمران خان جیسے افراد اقتدار سے دست بردار ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کی 342 ممبران کے ایوان میں سے کل 32 نشستیں ہیں۔ لیکن انتخاب ہونے میں کتنے دن باقی ہیں اور وہ کیا شکل اختیار کریں گے اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس وقت تک کے لیے پاکستان کا جمہوری نظام محصور رہے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.