.

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دکھاوے کے نقلی شوپیس جیسے رہنمائوں کی بجائے حقیقی رہنما ایسے فوٹو سیشنز میں نہیں جاتے جہاں مصنوعی ہمدردی اور جھوٹے جذبات کو چہرے پر سجانا پڑے۔ حقیقی رہنما کام کرتے ہیں کیونکہ ان کا اصل مدعا یہی ہوتا ہے۔ کیمروں کے سامنے فوٹو شوٹ کرانا اُنہیں زیب نہیں دیتا۔ وہ خوابِ غفلت میں محو افسران کو گردن سے پکڑ کر جگاتے ہیں اور اُنہیں بتاتے ہیں کہ کام کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ وہ مصنوعی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمر پر ہاتھ رکھے بوٹ چڑھائے گھٹنوں گہرے پانی میں کھڑے ہو کر کیمرے کے سامنے نکاسیِ آب کی ہدایات جاری نہیں کرتے۔ ہر جگہ خود کو مصروف دکھانے کی بجائے ایک نظام تشکیل دیتے ہیں اورخود احتسابی کے تحت خود سے سوال کرتے ہیں جو آفت ہر سال ہمارا نقصان کرتی ہے، اس سے نمٹنے کے لئے کیا تیار ی کی گئی تھی۔
منگول حملہ آوروں کو روکنے کے لئے قدیم چینی شہنشاہوںنے عظیم دیوار تعمیر کی۔ اُس زمانے میں چین کی سرزمین پر منگول جنگجووں کی یلغار ویسی ہی تھی جیسے ہر سال ہمارے ہاں سیلاب آ جاتے ہیں۔ جاپان میں زلزلوں سے بچائو سب سے پہلی قومی ترجیح ہے کیونکہ ان کے ہاں زلزلے اُسی کثرت سے آتے ہیں جتنے ہمارے ہاں سیلاب۔ تاہم قدیم چینی ہوں یا جدید جاپانی، ہمارا اُن سے فرق یہ ہے کہ ہم سیلاب سے بچنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کرتے، بس ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے فوٹو شوٹ کراتے ہیں۔ ہماری تمام فعالیت اُسی وقت سرگرمِ عمل ہوتی ہے جب سر پر مصیبت پڑتی ہے۔ عین وقت پر کیمروں کے سامنے دکھائی گئی کارکردگی میں منافقت کے سوا کچھ بھی عیاں نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو ہمارے ہاں مصنوعی جذبات کا مینا بازار لگ جاتا ہے ۔ وی آئی پی مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے کچھ میڈیکل اور امدادی کیمپوں کا افتتاح کرتے ہیں اور جب تک کیمرہ آن رہے، طویل تقریر اور کچھ سامان تقسیم کرکے یہ جا وہ جا۔

کچھ چیزوں نے کبھی نہ تبدیل ہونے کی قسم کھائی ہوتی ہے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے مواقع پر ہمارا رد ِ عمل بھی ان میں سے ایک ہے۔ جب ان علاقوں، جہاں اگلے سال پھر سیلاب آنا ہوتا ہے، سے پانی اتر جاتا ہے تو کیمرے کا رخ تبدیل ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی حکمرانوں کی توجہ بھی۔ سیلاب اور اس کی تباہ کاری پانی اترنے کے ساتھ ہی حافظے سے بھی اتر جاتی ہے ، یہاں تک کہ ایک سال بیت جاتا ہے۔ اس دوران جن ایوانوں میں پلاننگ کی جانی تھی، وہاں کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں؟ میٹرو بس سروس، انڈر پاس، فلائی اوور یا ہر وہ چیز جو گڈ گورننس کے مردہ ڈھانچے کا میک اپ کر کے آنکھوں کو خیرہ کر سکے۔

ایسے روئیے راتوں رات راسخ نہیں ہوئے بلکہ ان کی نوک پلک سنورنے میں صدیاں لگی ہیں یہا ں تک کہ یہ ہمارے کلچر کا ایک لازمی حصہ بن گئے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے ایک مخصوص برتائو سیکھ لیا ہے جبکہ عوام بھی راضی برضا رہنے کے اتنے عادی ہوچکے ہیںکہ اُنہیں بھی تائو نہیں آتا ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو قسمت میں لکھا ہے، ہو کر رہے گا۔ ہر نقصان کی صورت میں وہ ’’خدا کو یہی منظور تھا‘‘ کہہ کر حکمرانوں کی غفلت کی منظوری دے دیتے ہیں۔ ہمارے صوفی شعراء کے ہاںیہ لاچارگی شاعرانہ سوز وگداز میں ڈھل جاتی ہے۔ جب شاہ حسین درد بھری آواز میں کہتے ہیں....’’مائیں نی میں کینوں آکھاں، درد وچھوڑے داحال نی‘‘۔ تو وہ صرف اپنے محبوب کے ہجر کے کرب میں ہی مبتلا نہیں بلکہ وہ ایک ایسے غمزدہ اور دکھی عاشق کی فریاد کو لفظوں کا روپ دیتے ہیں جو غم کی وادی میں اکیلا جدائی کے کانٹے آبلہ دار پائوں سے نکال رہا ہے اور اس کا دکھ بانٹنے والا کوئی نہیں۔ اگر یہ لافانی کلام حامد علی بیلا یا پٹھانے خان (کوئی گلوکار بھی اس کافی کو گانے میںحامد علی بیلا کے سوز کامقابلہ نہیں کر سکتا)کی آواز میں ہو تو اندرونِ سندھ اور پنجاب کے سامعین وجد میں آجاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ ان الفاظ میں پنہاں سوز کو پہچانتے ہیں۔ جب شاعری اور موسیقی عوام کا درد بانٹ سکتے ہیں تو پھر حکمران سیلاب پر اتنی زحمت کیوں کرتے ہیں؟ ان کے لئے بہتر ہو گا کہ وہ ریڈیو پر حامدعلی بیلا کی آواز میں شاہ حسین کا کلام نشر کر دیا کریں۔

روس کی مدد سے مصر کے جمال عبدالناصر نے دریائے نیل کے سیلابی پانی کو کنٹرول کیا۔ اگر دریائے نیل نہ ہوتا تو مصر ایک بنجر صحرا ہوتا۔ اسی طرح دریائے سندھ اور باقی دو دریائوں چناب اور جہلم، کی غیر موجودگی میں ہم بھی موجودہ ہریالی برقرار نہیں رکھ سکتے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے راوی اور ستلج کے پانی کو فروخت نہیں کیا تھا بلکہ ان حالات میں (اور موجودہ حالات میں بھی) سندھ طاس معاہدہ بہترین حکمتِ عملی تھی۔ اس کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بہت سی کشیدگی پیدا ہوئی، جنگیں ہوئیں لیکن یہ معاہدہ اپنی جگہ پر قائم رہا۔

اس وقت پاکستانی ذہن کو جاگنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پروپیگنڈے کا شکار نہ ہو جائے۔ نہ تو بھارت، چناب اور جہلم سے ہمارا پانی چرا کر ہماری زراعت تباہ کر رہا ہے اور نہ ہی وہ پانی چھوڑ کر ہمیں غرقاب کر رہا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ وہ آبی وسائل کو ہم سے بہتر استعمال کر رہا ہے۔ ہم بھارت کی طرح ان دریائوں پر ڈیم بنا کر پانی ذخیرہ کیوں نہیں کر سکتے؟ سندھ طاس معاہدے کی رو سے ہمیں بھارتی اقدامات کی پیش بندی کرنی چاہئے تھی لیکن ہمارا دھیان کبھی بزور شمشیر کشمیر آزاد کرانے اور کبھی افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں لگا رہا۔ اس وقت یہ سوال ہمارے اعصاب پر بری طرح سوار ہو چکا ہے کہ بھارت ہمارا پانی کیوں چرا رہا ہے لیکن ہم ڈیم تعمیر کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ہم جس عذاب کا شکار ہیں، اُس میں بھارتی سازش سے زیادہ ہماری اپنی غفلت کا عمل دخل ہے۔ کیا اب بھی کوئی اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرے گا؟ ہر گز نہیں۔ ہمارے منہ کو چینی سرمایہ کاری اور قرضوں کی مٹھاس لگی ہوئی ہے اور ہم کوئلے سے چلنے والے پلانٹ لینے کی آس میں خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں حالانکہ آلودگی کی وجہ سے چین خود بھی ان پر سے انحصار کم کرتا جا رہا ہے۔

فی الحال ہمیں ان کی تفاصیل کا علم نہیں کیونکہ ایسی سرمایہ کاری وغیرہ پر حکومت عوام کو اعتماد میں نہیں لیتی۔ ان معاہدوں کو پردے کے پیچھے سائن کیا جاتا ہے۔ جب ہم سے چھوٹے چھوٹے کام بھی سرانجام نہیں پاتے توہم بڑے منصوبوں پر کس طرح کام کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پلاسٹک بیگ کو دیکھیں۔ شاید ہمیں انتہا پسندی سے اتنا خطرہ نہیں جتنا ہوا کے دوش اُڑتے ہوئے اس کبھی نہ تحلیل ہونے والے بم سے۔ آپ کسی گائوں میں چلے جائیں، کسی آبی گزرگاہ کا مشاہدہ کریں، کسی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کو دیکھیں، تو پلاسٹک بیگ کے انبار دکھائی دیں گے۔ کسی دشمن ملک کا تخریب کار گروہ یا کوئی خفیہ ایجنسی ہمارا اتنا بڑا نقصان نہیں کرسکتی جتنے یہ بیگ۔ تاہم ان سے جان چھڑانا ہمارے بس میں نہیں۔ اس سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے کہ سیلابوں پر قابو پانا ہمارے بس میں کیوں نہیں۔

ہر ماہرِمعاشیات ہماری حالت دیکھ کر کہتا ہے کہ ہمیں اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہئے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کیا چیز برآمد کریں؟ کبھی کپڑے کی مصنوعات ہماری اہم برآمد تھی لیکن اب تو بنگلہ دیش اس میدان میں ہمیں بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ کچھ عرصہ سے لے دے کہ ہماری ایک ہی برآمد باقی رہ گئی ہے اور یہ جہاد ہے۔ تاہم اب اس کی مارکیٹ بھی کم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ اس پر بڑے بڑے ’’اداروں ‘‘، جیسا کہ آئی ایس آئی ایس، کی اجارہ داری قائم ہوتی جا رہی ہے۔ کون سی زہربھری فصل ہے جو ہمارے امریکی دوستوںنے کاشت نہیں کی، کون سی انتہا پسندی ہے جسے اُسے اُنھوں نے نہیں پالا۔ ان کی عراق جنگ کی حماقت کی وجہ سے یہ تمام خطہ انتہا پسندی کی نذر ہو رہا ہے۔ اب وہ اُس آگ کی تپش محسوس کر رہے ہیں جو اُنھوں نے خود ہی سلگائی تھی۔ اب تک کی اس خطے کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کی گئی ہر امریکی مہم جوئی کا دنیا کو خمیازہ بھگتنا پڑا۔

امریکہ کی ترجیحات پتہ نہیں کیا تھیں لیکن اس وقت ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہماری غلط ترجیحات ہیں۔ ہمارے سامنے کوئی منصوبہ بندی ہے نہ منزل، بس ہنگامی حالات میں اٹھائے گئے اقدامات کا نام گورننس ہے۔ لوگ من کی مرادیں پانے کے لئے اولیا ء کے مزارات پر جاتے ہیں، لگتا ہے کہ ہمیں بھی اسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ دنیا سے پردہ کیے ہوئے نیک افراد سے استدعا کرنے میں ایک کھلا فائدہ یہ ہے کہ اگر وہ نفع نہ پہنچا سکیں تو کم از کم نقصان بھی تو نہیں پہنچاتے۔ ہمارے لئے یہی کافی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.