جنوبی ایشیا کا مستقبل؟

ظہیر اختر بیدری
ظہیر اختر بیدری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جس دہشت گردی کا شکار رہا ہے ضرب عضب کے ذریعے اس پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردوں نے اپنے لیے جو محفوظ پناہ گاہیں بنا لی تھیں وہ اب بھی موجود ہیں۔ جس کا مشاہدہ ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ایک مخصوص مسلک کے لوگوں کو نشانہ بنا کر کیا جا رہا ہے۔ ملک میں سیاسی بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہا پسند طاقتیں ایک بار پھر سر گرم ہو رہی ہیں، جس پر نظر رکھنا ہماری حکومتوں کی ذمے داری ہے۔

انتہا پسند طاقتیں کس قدر مضبوط ہو گئی ہیں اس کا اندازہ عراق، شام اور افریقی ممالک میں ان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے کیا جا سکتا ہے۔ اب تازہ اطلاعات کے مطابق القاعدہ نے بھی جنوبی ایشیا میں اپنی شاخیں قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت اس اعلان سے تشویش میں مبتلا ہو گئی ہے اور حفاظتی اور احتیاطی اقدامات بھی کیے جانے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔

اس حوالے سے اصل ذمے داری امریکا پر آتی ہے کہ اس نے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ایسے احمقانہ اقدامات کیے جو بعد میں خود اس کے گلے پڑ گئے۔ مثلاً افغانستان سے روس کو نکالنا اس کے سیاسی مفادات کا تقاضا تھا لیکن امریکا کے منصوبہ سازوں نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے نہ اپنی فوج استعمال کی نہ نیٹو کی بلکہ اس نے ضیا الحق اور بعض دینی جماعتوں کی مدد سے وہ مذہبی انتہا پسند تخلیق کیے جو اب القاعدہ، داعش سمیت کئی تنظیموں کی شکل میں ساری دنیا میں آپریٹ کر رہے ہیں شام میں محض بشارالاسد کو ہٹانے کے لیے امریکا نے شام میں فقہی تقسیم کر کے القاعدہ کے انتہا پسندوں کو اسد حکومت کے خلاف استعمال کیا اب شام مختلف انتہا پسند گروپوں کی سرگرمیوں اور ان کی آپس کی لڑائیوں کا شکار ہو کر رہ گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ فقہی اختلافات کے نام پر سعودیہ اور عرب امارات امریکا کے ساتھ ملکر شام میں انتہا پسندوں کی بھاری مالی مدد کر رہے ہیں۔

امریکا نے اپنے دس سالہ قیام عراق کے دوران عراق کو جنگجو فقہی دھڑوں میں اس طرح تقسیم کر دیا کہ فقہی جنگ میں عراق خون میں نہایا کھڑا ہے اور داعش جیسی مذہبی انتہا پسند تنظیم اب عراق پر قبضہ جما رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکی حکومتیں ایسے مفکرین اور تھنک ٹینکوں سے یکسر محروم ہو گئی ہیں، جنھیں خود امریکی مفادات تک کا احساس نہیں۔ عراق کی بے نتیجہ اور بیہودہ جنگ میں جہاں پانچ لاکھ سے زیادہ عراقیوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا وہیں امریکا اور نیٹو کے ہزاروں سپاہیوں کا جانی نقصان اور کھربوں ڈالر کا مالی نقصان بھی ہوا۔

امریکا دنیا کی سپر پاور ہے لیکن کوریا ویت نام سے لے کر عراق اور افغانستان کی جنگ پر نظر ڈالیں تو ہر جگہ امریکا کو کھربوں ڈالر اور ہزاروں اپنے فوجیوں کا جانی نقصان اٹھاتے ہی دیکھا جا سکتا ہے صرف ویت نام کی جنگ میں 59 ہزار امریکی فوجیوں کا جانی نقصان ہوا۔ ہو سکتا ہے ان جنگوں کا آغاز امریکی مفادات کی خاطر ہوا ہو لیکن ان تمام جنگوں کا انجام امریکا کو کھربوں ڈالر کے مالی نقصان اور لاکھوں افراد کے جانی نقصان کی صورت میں برداشت کرنا پڑا اور دنیا بھر میں رسوائی اور جگ ہنسائی بھی اس کے حصے میں آئی۔

امریکا اور اس کے اتحادی اب داعش کی بڑھتی ہوئی طاقت اور القاعدہ کے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک سے خائف نظر آتے ہیں لیکن غالباً اب بھی اس جرم کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ یہ سارے عفریت ان کے ہی ایجاد کردہ ہیں۔ امریکا عراق میں داعش کی پیش قدمی روکنے کے لیے بمباری کر رہا ہے لیکن کیا اب بمباریوں سے ان منظم اور انتہا پسند طاقتوں کی پیش قدمی اور بڑھتی ہوئی طاقت کو روکا جا سکتا ہے؟ امریکا دنیا کے ایٹمی ممالک کے ذخیروں کی حفاظت کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے لیکن کیا یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ امریکا دہشت گردوں کی ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی کو روک پائے گا؟ پاکستان اس حوالے سے سب سے زیادہ نشانے پر ہو سکتا ہے۔ کیا ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت زیادہ ضروری ہے یا ایٹمی ہتھیاروں کی تلفی زیادہ اہم ہے؟ اس سوال پر امریکا کے دانشوروں اور تھنک ٹینکوں کو غور کرنا ہو گا۔

پاکستان میں دہشت گرد طاقتیں جس تیزی سے کارروائیاں کر رہی تھیں اس کی ایک وجہ ہماری بعض سیاسی جماعتوں کی خطرناک مفاد پرستی تھی یہ جماعتیں محض سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر دہشت گردوں کی بالواسطہ اور بلا واسطہ حمایت کر رہی تھیں لیکن پاکستان کی عسکری طاقتوں کو بہر حال یہ احساس شدت سے تھا کہ اگر ان طاقتوں کو اسی طرح بے لگام چھوڑا گیا تو یہ پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جائے گی۔ اسی پس منظر میں فوج نے ضرب عضب کے نام سے وہ آپریشن شروع کیا جو بڑی حد تک شمالی وزیرستان میں کامیاب رہا، ضرب عضب کی وجہ سے اگرچہ کہ شدت پسند طاقتیں پسپا ہو رہی ہیں لیکن جیسا کہ ہم نے نشان دہی کی ہے کہ کراچی سمیت ملک کے دوسرے کئی علاقوں میں یہ طاقتیں اب بھی موجود ہی نہیں بلکہ سرگرم بھی ہیں جس کا ایک ثبوت نرسری کی پولیس چوکی پر کامیاب حملہ ہے۔

فوج شمالی وزیرستان میں کامیابی سے پیش قدمی کر رہی ہے لیکن کراچی سمیت ملک کے کئی علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کو روکنا صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے، کراچی میں جاری ٹارگیٹڈ آپریشن اگر سیاسی ترجیحات سے آزاد ہو تو کراچی کو دہشت گردوں سے پاک کیا جا سکتا ہے کیا ٹارگیٹڈ آپریشن کو سیاسی مفادات سے بالا تر ہونا چاہیے؟ اس سوال کے مثبت جواب سے ہی کراچی کا مستقبل وابستہ ہے۔ اب اصل فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ جنوبی ایشیا کا خاص طور پر اور ساری دنیا کا عمومی مستقبل کیا ہو گا؟

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں