.

سعودی معاشرے میں گھریلو تشدد کے خلاف جنگ

خالد المعینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی شہر جیزان میں سماجی خدمات کا محکمہ اس بارے میں تحقیقات کر رہا ہے کہ ایک باپ نے مبینہ طور پر آٹھ سالہ بیٹے علی کو کیوں زخمی کیا۔ اس زخمی ہونے والے بچے کے سر کی بیرونی جلد کے کٹے پھٹے ہونے کی تصاویر مقامی اخبار میں بھی نمایاں طور پر شائع ہوئی ہیں۔ اب تک سامنے آلی اطلاعات کے مطابق سماجی خدمات کا محکمہ، شعبہ صحت کے حکام کے ساتھ مل کر اس کیس کی کرید کر رہا ہے۔ اس دوران لوگوں کے لیے یہ کسی گوشہ اطیمنان کی بات ہے کہ سوشل میڈیا اس طرح کے متشدد رویوں کو مسلسل سامنے لا رہا ہے اور ان غیر قانونی اقدامات سے معاشرے کو خبردار کر رہا ہے جو عدل و انصاف کو مسخ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

مملکت سعودیہ کے قومی ذرائع ابلاغ کے بڑے حصے کو سوشل میڈیا سے سامنے آنے والے واقعات کو فالو اپ کے طور پر سامنے لانا پڑتا ہے۔ اس صورت میں تشدد بھرے واقعات کے دیگر پہلو بھی سامنے آ جاتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ انسانی حوالے سے ان اہم واقعات کو نظر انداز کرنے سےنہ صرف اخبارات کے قارئین کا حلقہ متاثر اور محدود ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی بڑا نقصان معاشرتی شعور کے حوالے سے ہوتا ہے۔

جیزان میں پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے میں ہمیں مزید تحقیقات کا ابھی انتظار ہے۔ لیکن اگر اس واقعے میں اپنے بیٹے پر بہیمانہ تشدد کا ذمہ دار والد ہی ثابت ہوا تو اسے سخت ترین سزا دی جانی چاہیے تاکہ دوسروں کو ایسے ظلم سے روکنے کے لیے ایک نظیر قائم ہو سکے۔ سوشل میڈیا پر اس کے علاوہ بھی ایسی رپورٹس آتی رہتی ہیں جن میں بچوں پر معاشرے میں ہونے والی ہر قسم کی زیادتی، تشدد اور مظالم کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

ان مظالم میں سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو بچوں کو اپنے سر پرستوں کی طرف سے بھگتنا پڑتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہیں خاموشی اختیار کرنا پڑتی ہے کہ انہیں چپ رہنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ان کے سرپرست چاہتے ہیں کہ بچے یہ ظلم و زیادتی خاموشی سے برداشت کرتے رہیں۔ حد یہ کہ بعض بچوں کو قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ اس سے بھی تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ عدالتی فیصلوں میں بھی مجرمانہ حرکتیں کرنے والوں کے بارے میں نرمی کا انداز محسوس ہوتا ہے۔

ایک سکول ٹیچر کا اس حوالے سے کہنا تھا ''ہم نے خطرے کی گھنٹی پر چوکس ہونے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے شتر مرغ کی طرح اپنے سر ریت میں چھپا کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش میں ہیں کہ ہم ایک بہترین معاشرت کے حامل ہیں، اگرچہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے۔ '' سکول کی اس معلمہ کا اصرار تھا کہ''ہمارے ملک میں کو بچوں کو ایسی زیادتیوں سے بچانے کے لیے موثر قوانین کی ضرورت ہے۔ ایسے قوانین بنانے چاہییں جو ظلم اور زیادتی کے مرتکب والدین کو بھی سزا دلوا سکیں خصوصا نشے کے عادی والدین کے لیے ایسے قوانین کی ضرورت اور بھی زیادہ ہے۔ ''

اس ناطے دیکھا جائے تو ایسی متعدد کانفرنسیں بھی ہو چکی ہیں۔ تاکہ گھروں کے اندر ہونے والے اس تشدد کا تدارک ممکن ہو سکے۔ میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایسی کانفرنسوں اور ورکشاپس کے دوران سامنے آنے والی سفارشات پر عمل در آمد کے لیے تیار ہوں اور ان باتوں پر کان دھریں، جو ہمارے سماجی دانشوروں اور تعلیمی ماہرین گاہے گاہے کہتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی طرف سے سامنے آنے والی سفارشات پر سختی سے عمل کی ضرورت ہے، تاکہ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا راستہ روکا جا سکے۔

ان تعلیمی ماہرین کا اس پر بھی اصرار ہے کہ سکولوں کے اساتذہ کو خصوصی تربیت دی جائے تاکہ وہ بچوں پر ہونے والے گھریلو تشدد کو سمجھ سکیں اور اس ایسے بچوں کو خصوصی توجہ دے سکیں جو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنے ہوں۔ اس ناطے اساتذہ کرام کو زیادہ موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے ان کے دائرہ اختیار کو بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مہارت پیدا کرنے کے لیے انہیں تربیت کے مواقع ملنے چاہیں۔ نتیجتاً وہ نفسیاتی مسائل اور زیادتی کے شکار بچوں کے رویے کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے اور انہیں بھر پور توجہ دے سکیں گے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ زیادہ موثر اور تجربہ کارا اساتذہ دستیاب ہوں، بہتر تعلیم یافتہ معلمین میسر ہوں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ والدین کو بھی اس حوالے سے جوابدہ بنایا جائے۔ جو اپنے بچوں پر تشدد اور ظلم کے مرتکب ہوں ان کو کسی قسم کا قانونی تحفظ حاصل نہ ہو۔

معاشرے کو اس اذیت ناک مسئلے سے نجات دلانے کے لیے ضروری ہے کہ سخت ترین قوانین بنائے جائیں، خصوصا نشہ کے عادی والدین سے بچوں کو تحفظ دلانے کے لیے ایسے اقدامات کیے جانا ضروری ہے۔ ریاست کو چاہیے ایسے بچے جو کسی قسم کے ظلم کا شکار ہوئے ہوں ان کے لیے محفوظ گوشے بنائے جائِیں تاکہ ان معصوموں کو مزید کسی خطرے سے تحفظ مل سکے۔ ایسے بچے جو اپنے بنیادی حقوق سے محروم کر دیے گئے ہوں، انہیں بہتر زندگی کے لیے بہتر ماحول دیا جائے۔ حتی کہ پولیس تھانوں میں بھی ایسے تعلیم یافتہ افراد تعینات کیے جائیں جو گھریلو تشدد کے مسائل سے نمٹنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔

ایک ایسا معاشرہ جو خواتین کے بارے میں تعصبانہ رائے رکھتا ہو اس میں گھریلو تشدد کے خلاف لڑائی لڑنا آسان نہیں ہے۔ ایسے معاملات میں قریبی رشتہ دار بھی مداخلت سے بچتے ہیں۔ اکثر خاندان ایسے واقعات کے بارے میں تجاہل عارفانہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک معاشرے کے طور پر ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم اس طرح کے معاملات کا حل تلاش کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیس بڑھ کر ایک چیلنج بن رہے ہیں۔

ہمیں اس موضوع کا جائزہ لیتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایسے تشدد کا ذہن رکھنے والے بچوں کے پیچھے والدین کا اسی نوعیت کا انداز اور رویہ موجود ہوتا ہے۔ سماجی علوم کے ماہرین کا کہنا ہے ایسی خواتین جو اپنے شوہروں کے تشدد کی شکایت کرتی ہیں انہوں گھروں میں مزید ظلم و تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا مملکت سعودیہ کی سول سوسائٹی کو ایک زیادہ مشکل جدوجہد درپیش ہے تاکہ بچوں اور عورتوں کے لیے گھروں میں بہتر حفاظت کا امکان بڑھایا جا سکے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.