فیصلہ ضروری ہے

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

پاکستانی فورسز اس وقت ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں، چار نہیں، پانچ نہیں بلکہ ایک درجن سے زائد محاذوں پر لڑ رہی ہیں۔ آج صبح آنکھ کھلی تو یہ ٹی وی ا سکرین پر یہ خبر دیکھنے کو ملی کہ افغانستان کے ساتھ مغربی بارڈر پر جھڑپ کے نتیجے میں تین فوجی جوان شہید ہوئے۔ دوسری خبر یہ تھی کہ گزشتہ روز خیبرایجنسی کے وادی تیراہ میں جیٹ طیاروں نے بمباری کی ہے (ماضی قریب میں مثال نہیں ملتی کہ کسی ملک کی ائیرفورس اپنے حدود کے اندر اپنے ہی بگڑے ہوئے شہریوں پر بمباری پر مجبور ہوئی ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی ابھی تک ہندوستان نے فضائیہ استعمال نہیںکی، حالانکہ کشمیری اس کے شہری نہیں ہیں) ۔ اپنے ملک میں اپنے ہی شہریوں سے جنگ کرنا، یہ کس قدر تلخ فریضہ ہے جو پاکستانی افواج گزشتہ دس سال سے سرانجام دے رہی ہے ۔ مشرقی بارڈر پر مودی کی سربراہی میں ہندوستان نے حربی اور سفارتی محاذوں پر چھیڑخانی کو روز کا معمول بنا لیا ہے ۔ لاکھوں کی تعداد میں اس وقت فوجی جوان اور افسران سیلاب زدگان کو بچانے میں مصروف ہیں۔ قبائلی علاقوں میں وہ ایک اور طرح کے ، بلوچستان میں ایک اور طرح،سندھ میں ایک اور طرح کے اور اسلام آباد میں آرٹیکل 245ء کے تحت ایک اور طرح کے آپریشن میں مصروف ہیں۔ ملکی معیشت کی زبوں حالی کی وجہ سے ایک عرصے سے افواج اور اس کے ادارے مالی مشکلات سے بھی دوچار ہیں۔ افغانستان کے مستقبل کی صورت گری میں پاکستانی فوج کو حسب منشاء کردار پر آمادہ کرنے اور چین سے پاکستان کو دور کرنے کے لئے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی نئی سازشوں کے جال بن رہے ہیں ۔

ان سازشوں کا خاص نشانہ افواج پاکستان اور ایٹمی پروگرام ہے ۔ سرکاری ٹی وی پر دھرنوں کے بلوائیوں کے قبضے کے بعد اب عالمی برادری کو یہ یقین دلانا مزید مشکل ہو گیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں۔ ایک طرف آئی ایس آئی ایس جیسی تنظیمیں اپنے دائرہ اثر کو پاکستان تک بڑھانا چاہتی ہیں اور دوسری طرف ٹی ٹی پی اور القاعدہ پاکستان کے اندر اپنی سرگرمیوں کو ایک بار پھر تیز کرنے لگی ہیں ۔ چند روز قبل پنجاب میں پاک فوج کے ایک بریگیڈیئر کے پراسرار قتل اور کراچی ڈاک یارڈ پر حملے کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کرلی ہے ۔ وزیردفاع کی طرف سے اس اعتراف کہ ڈاکیارڈ پر حملہ کرنے والوں کو اندر سے مدد حاصل تھی ، افواج پاکستان اور اس کے خفیہ ایجنسیوں کے لئے ایک نیا اور سنگین چیلنج بن گیا ہے ۔ ڈاکیارڈ کی القاعدہ کی کارروائی کامیاب ہوجاتی تو یہ پاکستان کے لئے نائن الیون سے بڑی آزمائش بن سکتی تھی جبکہ اس میں بعض کمیشنڈ افسران کا گرفتار ہونا اس معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس وقت پاکستانی افواج کو مغربی اور ہندوستانی میڈیا کی طرف سے شروع کردہ بدترین پروپیگنڈے کا بھی سامنا ہے ۔ دی اکانومسٹ کے تازہ ترین شمارے میں فوج اور آئی ایس آئی پر دیگر سنگین الزامات کے ساتھ ساتھ یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ عمران خان اور علامہ قادری کو انہوں نے ہی جمہوری حکومت کے خلاف میدان میں اتارا ہے ۔ دوسری طرف پاکستانی میڈیا کو ایک سازش کے تحت اس بری طرح تقسیم کرلیا گیا کہ وہ اس ہندوستانی اور مغربی پروپیگنڈے کا جواب تو کیا دے الٹا باہمی لڑائیوں کی وجہ سے بسا اوقات خود اس عالمی سازش کا حصہ بنتا ہوا نظرآتا ہے ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور افواج پاکستان کا اس سے بڑا خیرخواہ کوئی نہیں ہوسکتا جو افواج پاکستان اور سیاسی قیادت کو قریب لانے ، سول سوسائٹی اور میڈیا کو اپنی افواج کے ساتھ یک جان دو قالب بنانے اور فریقین کے درمیان موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے اور پاکستان یا افواج پاکستان کا اس سے بڑا دشمن کوئی اور نہیں ہوسکتا جو افواج کو سیاست میں ملوث کرنے، سیاسی قیادت یا سول سوسائٹی کے ساتھ اس کی غلط فہمیاں بڑھانے یا پھر افواج کے کاندھے پر بندوق رکھ کر اپنی سیاست یا صحافت چمکانے کی کوشش کرے۔

اب ان غیرمعمولی حالات میں ، ایک غیرمعمولی سیاسی شخصیت (مخدوم جاوید ہاشمی) نے ایک غیرمعمولی الزام لگایا ہے لیکن افسوس کہ اس حوالے سے ایک پراسرار خاموشی طاری ہوگئی ہے اور دھرنے حسب سابق جاری ہیں۔ جاوید ہاشمی پاکستان کےقابل قدر اور باوقار سیاسی رہنمائوں میں سے ایک ہیں ۔ درجنوں بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں ۔ اہم وفاقی وزارتوں پر فائز رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی صفوں میں عمران خان کے بعد اہم ترین شخصیت وہ ہیں جو جہانگیر ترین صاحب یا قریشی صاحب کی طرح نامزد کردہ نہیں بلکہ منتخب مرکزی صدر ہیں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان صاحب کور کمیٹی میں بتاتے رہے کہ ’’وہ‘‘ یعنی فوج میدان میں آئے گی اور نوازشریف کو رخصت کرکے تحریک انصاف اور قادری صاحب کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گی ۔ یہ باتیں عمران خان صاحب ، قریشی صاحب اور ترین صاحب وغیرہ خلوتوں میں بہ تکرار بتاتے رہتے تھے ۔ گجرات کے چوہدری اور شیخ رشید احمد تو خلوتوں کے ساتھ ساتھ جلوتوں میں بھی یہ قسمیں اٹھاتے تھے کہ فوجی اداروں کی شہ پر اگست کے مہینے میں ہی نواز حکومت کی قربانی ہوجائے گی ۔ تین مخصوص ٹی وی چینلوں کے وہ اینکرز جو خلوتوں میں اپنے آپ کو مخصوص اداروں کے بندے قرار دیتے ہیں، ہمارے سامنے قسمیں اٹھاتے تھے کہ ایمپائر کی انگلی اٹھے گی اور حکومت کا دھڑن تختہ ہوجائے گا۔ ریٹائرڈ ائرمارشل شاہد لطیف جیسے لوگ بھی نہ صرف دھرنوں کی کامیابی کی وعیدیں سناتے تھے بلکہ قومی حکومت میں اعلیٰ عہدے کے لئے بھی تیار بیٹھے تھے ۔ اب اس پس منظر کے ساتھ جاوید ہاشمی صاحب کے انکشافات اور دعوے کو معمولی اقدام سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر تو جاوید ہاشمی صاحب نے غلط بیانی کی ہے تو وہ افواج اور ملک کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں ۔

اگر عمران خان کور کمیٹی کے سامنے فوج کی شہ کا جھوٹ بولتے رہے تو وہ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں اور اگر عسکری اداروں کے کچھ کارندوں یا کسی ریٹائرڈ فوجی افسر نے اپنی طرف سے کہانی گھڑ کر یا اسکرپٹ لکھ کر قادری صاحب اور عمران خان کو فوج کی طرف سے جھوٹی تسلی دی تھی، تو وہ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اس لئے قوم کے اس غدار اور فوج کے اس دوست نما دشمنوں کا تعین اب ضرور ہونا چاہئے ۔ اس تناظر میں پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہ ایک اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرے ۔ اس کمیشن میں پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے نمائندے بھی شامل ہوں ۔ یہ کمیشن جاوید ہاشمی کے الزامات کی بھی تحقیقات کرے ۔ وہ چوہدری برادران اور شیخ رشید جیسے لوگوں کو بھی بلائے اور مارشل لا کی نویدیں سنانے والے اینکرز، صحافیوں اور ریٹائرڈ عسکری افسران کو بھی اور ان سے پوچھیں کہ ان کی پیشینگوئیوں کی بنیاد کیا تھی ۔

یہ کمیشن نہ صرف مجرم ثابت ہونے والوں کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمات بنائیں بلکہ میدان ہائے سیاست و صحافت میں فوج اور اس کے خفیہ اداروں کے تذکرے سے متعلق بھی ضابطہ اخلاق وضع کرے ۔ اسی طرح یہ کمیشن ریٹائرڈ فوجی افسران کے میڈیا پر آنے اور ملکی سیاست پر تبصرہ آرائی سے متعلق بھی ضابطہ اخلاق بنائے ۔ اب پرویز مشرف بھی سابق آرمی جنرل ہیں ۔ وہ سیاسی جماعت کے سربراہ بھی ہیں ۔ لیکن جب ان کو غداری کا ملزم کہا جاتا تھا تو ہمیں کہا جاتا تھا کہ اس سے فوج کے مورال پر اثر پڑتا ہے ۔

دوسری طرف وہی پرویز مشرف جنرل حمید گل اور جنرل اسلم بیگ کو سوڈو اینٹلیکچول کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ حالیہ دھرنوں کے بارے میں ائیر مارشل (ر) شاہد لطیف کہا کرتے تھے کہ فوج کی ہمدردیاں دھرنوں والوں کے ساتھ ہیں لیکن سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ لکھتے ہیں اور شاید درست لکھتے ہیں کہ یہ دھرنے پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف عالمی سازش کا حصہ ہیں ۔ان میں سے ہر کسی کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ وہ افواج کے مزاج شناس ہیں اور جو کچھ وہ فرماتے ہیں وہی فوج کی سوچ ہے لیکن ہم حیران ہیں کہ ہم کس سوچ کو افواج کی سوچ سمجھیں ۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہئے کہ وہ دھرنوں کا انتظار کئے بغیر انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن فوری طور پر قائم کرے ۔ اسی طرح انتخابی اصلاحات کے لئے بھی پارلیمنٹ کے مشورے سے اپوزیشن کے کسی مستند رہنما کی سربراہی میں پارلیمانی کمیشن کا قیام بھی وقت کا تقاضا ہے ۔ ہم ’’جیو‘‘ والے تو زیرعتاب ہیں ، ہمارے دفتر پر پی ٹی آئی کےگلو بٹوں کی طرف سے جو حملے ہوئے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ حکومت اس کی تو بازپرس نہیں کرسکے گی لیکن اگر یہ حکومت اپنے آپ کو حکومت ثابت کرنا چاہتی ہے تو اس کا فرض ہے کہ پہلی فرصت میں ان پولیس اہلکاروں کو سزائیں دلوادئے جو ڈان، ایکسپریس ، اے آر وائی ، سما ء اور آج نیوز کے کیمرہ مین اور اسٹاف کے خلاف بلاجواز تشدد کے مرتکب ہوئے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size