مقدر کا سکندر

ڈاکٹر فرقان حمید
ڈاکٹر فرقان حمید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو قسمت کے دھنی ثابت ہوئے اور انہوں نے اپنی قسمت خود اپنے ہاتھوں سے بنائی۔ دنیا کی انہی گنی چنی شخصیات میں ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب ایردوان بھی شامل ہیں۔ جب آپ ترکی کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو ایسی کوئی شخصیت نظر نہیں آتی جو غربت کی پستی میں پسی ہو اور پھر اس میں جلتے جلتے کندن بن کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچی ہو۔ ان کے اس بلندی تک پہنچنے کے باوجود ان کی مقبولیت میں ذرہ بھر بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا گیا اوراسی مقبولیت کی وجہ سے وہ آج ترکی کے پروٹوکول کے لحاظ سے سب سے بڑے عہدے یعنی مسندِ صدارت پروہ عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہو کر براجمان ہوئے ہیں۔ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا ایردوان مقدر کا سکندر کیسے بنا؟ آئیے اس پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔

1954ء میں بحر اسود کے چھوٹے اور پسماندہ شہر (اس شہر کی ترقی گزشتہ چند سالوں کے دوران ہی ممکن ہوئی ہے) ریضے کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے اور اسی غربت کی وجہ سے ان کا خاندان اس شہر کو ترک کرتے ہوئے اس وقت ’’سونا اگلنے اور غریب پرور شہر‘‘ کے نام سے مشہور استنبول کا رخ اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔ یہاں ایردوان نے اپنی اسکول کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے گلیوں اور سڑکوں پر پانی کی بوتلوں کے علاوہ (گول رِنگ کی طرز کا کلچہ یا نان) بیچنا شروع کر دیا اور یوں انہوں نے اپنے والد پر مالی بوجھ ڈالے بغیر اپنی ہائی اسکول کی تعلیم کو جاری رکھا۔ یہ اسکول ترکی کے عام اسکولوں سے مختلف مذہبی طرز کا ایک مدرسہ تھا جسے ترکی زبان میں امام خطیب (جہاں پر مساجد کے اماموں کو تعلیم و تربیت فراہم کی جاتی ہے ) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے میں داخلہ لے لیا اس اسکول یا مدرسے کی دیگر خصوصیت مذہبی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ دیگر تمام اسکولوں میں دی جانے والی جدید تعلیم سے بھی بہرہ مند کیا جانا ہے ۔ ایردوان نے اسکول ہی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران فٹ بال میں دلچسپی لینے کا سلسلہ جاری رکھا اور دوستوں کے ساتھ گلی کوچوں میں فٹ بال کھیلتے ہوئے اس کھیل میں مہارت حاصل کر لی اور اسی مہارت کی بدولت انہوں نے استنبول بلدیہ کے فٹ بال کے پیشہ وارانہ کلب میں اپنے والد کو اطلاع دئیے بغیر شمولیت حاصل کر لی۔ اُن کے والد اُن کے کھیل میں دلچسپی لینے سے اُس وقت آگاہ ہوئے جب اُن کے کلب کو چمپئین ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ایردوان کی آج بھی فٹ بال میں دلچسپی لینے کا سلسلہ جاری ہے اورجب کبھی ان کو موقع ملتا ہے فٹ بال دیکھنے اور کھیلنے سے نہیں چونکتے۔

ایردوان نے ستر کی دہائی میں جب ملک شدید ترین سیاسی بحران سے گزر رہا تھا سیاست میں قدم رکھا اور اس وقت کی ملی سلامت پارٹی کے رہنما نجم الدین ایربکان کے ہاتھوں پر سیاسی بیعت کی اور ایربکان ہی کو اپنی سیاست کا کعبہ اور قبلہ سمجھا۔ 4 سال کی سیاست کے بعد ملک میں سیاسی بحران کی وجہ سے جنرل کنعان ایورن نے ملک میں مارشل لا لگا دیا جس سے دل برداشتہ ہو کر ایردوان نے سیاست سے وقتی طور پر کنارا کشی اختیار کر لی اور ایک پرائیویٹ فرم میں ملازمت اختیار کر لی۔ اسی دوران ملک میں مارشل لا کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر نجم الدین ایربکان کی جماعت ’’رفاہ پارٹی‘‘ کے لئے کام کرنا شروع کر دیا اور نجم الدین ایربکان نے انہیں 1994ء میں استنبول کے مئیر کے لئے امیدوار کھڑا کر دیا۔ اس موقع پر جماعت ہی کے اندر سے ان کی مخالفت کی جانے لگی اور ان کے بارے میں کہا جانے لگا کہ: ’’یہ ایک علاقے کے کونسلر تک منتخب نہیں ہو سکتے‘‘ تو پھر بھلا نجم الدین ایربکان نے ان کو استنبول بلدیہ کے مئیر کے طور پر کیوں امیدوار کھڑا کر دیا ہے؟ استنبول میں 1994ء میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کسی بھی شخص کو ایردوان کے استنبول کا مئیر منتخب ہونے کا ذرا بھی یقین نہ تھا لیکن ایردوان نے ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا اور استنبول کے مئیر منتخب ہونے کے بعد ایردوان کی سیاسی زندگی تبدیل ہو کر رہ گئی۔ انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر استنبول شہرک ا نقشہ ہی بدل دیا۔ انہوں نے بہت ہی کم وقت میں استنبول شہر کی پانی کی قلت، نکاسی آب اور ٹریفک نظام میں دور رس تبدیلیاں کرتے ہوئے شہر پر مشرقی شہر کی چھاپ کو ہٹا کر اسے مغربی شہر کا روپ عطا کر دیا۔ استنبول شہر میں بلدیہ کے مئیر کی حیثیت سے انہیں جو شہرت حاصل ہوئی اس شہرت نے انہیں مقامی سیاست سے نکال کر ملکی سیاست کی دہلیز پر لا کھڑا کیا جہاں اِن کی سیاست کے چرچے ہونے لگے۔

ایردوان نے مقامی سیاست سے نکل کر ملکی سیاست میں اُس وقت قدم رکھا تھا جب انہوں نے ایک جلسے میں نہایت ہی خوش الحانی سے مذہبی اشعار پڑھے تھے۔ اِن اشعار کی بدولت اُن کو آٹھ ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی اور انہیں جیل جانا پڑا۔ ایردوان کا جیل جانا ہی ان کے لئے’’ مدرسہ یوسف‘‘ ثابت ہوا۔ اسی دوران ان کے نجم الدین ایربکان سے اختلافات ہو گئے اور انہوں نے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ رفاہ پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کے نام سے ایک نئی پارٹی تشکیل دے دی اور اس پارٹی کو انہوں نے سالوں اور مہینوں میں نہیں بلکہ چند ایک ہفتوں کے اندر ملک کی مضبوط ترین پارٹی بنا دیا اور پارٹی کی تشکیل کے 8 ماہ بعد ہی اس جماعت نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں کلی اکثریت حاصل کر لی اور یوں 2001ء میں جب ایردوان جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے اقتدار حاصل کر لیا۔ ایردوان کی عدم موجودگی میں ان کے قریبی ساتھی عبداللہ گل نے وزارتِ اعظمیٰ کے اختیارات سنبھال لئے اور جیل سے رہائی کے بعد ملک میں ضمنی انتخابات کرواتے ہوئے ایردوان کو رکنِ پارلیمنٹ منتخب کر لیا گیا اور یوں ایردوان کے لئے وزارتِ اعظمیٰ کے دروازے کھل گئے۔

مقدر کے سکندر نے اپنی کامیابیوں کے سفر کو اپنی مقبولیت میں اضافہ کرتے ہوئے جاری رکھا ۔ مقدر کے سکندر کا یہ سفر کوئی آسان سفر نہ تھا اس سفر میں انہیں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں ابتدا میں سابق صدر نجدت سیزر کی جانب سے قومی اسمبلی میں منظور کئے جانے والے بلوں کے ویٹو کرنے کے ساتھ ساتھ بیوروکرسی کے تبادلوں کی بھی اجازت نہ دی گئی اور اسی دوران فوج نے بھی اپنے دباو کو جاری رکھا اور اس دوران دو تین بار ان کی حکومت کا تختہ بھی الٹنے کی کوشش کی گئی لیکن مقدر کے اس سکندر نے کبھی بھی ہمت نہ ہاری اور کامیابی کی جانب اپنے سفر کو جاری رکھا ایردوان نے اپنے تین ادوار میں نہ صرف ترکی کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا بلکہ ترکی جو کہ دنیا کا تیسرے درجے کا ایک ملک سمجھا جاتا تھا کو دنیا کی پندرہویں اقتصادی قوت بنا کر اور فی کس آمدنی 1800 ڈالر سے بڑھا کر 11,000 ڈالر تک پہنچا دیا۔ انہوں نے اس دوران ملک میں سڑکوں اور ریلوئے لائن کا جال بچھا کر اور مردہ ٹرکش ائیرلائن میں روح پھونک کر نئی جان ڈال دی اور اسے یورپ کی سب سے بڑی اور دنیا کی تیسری بڑی ائیر لائن بنا دیا۔

ایردوان ترکی اور دنیا میں واحد شخص ہیں جن کی مقبولیت میں ان کے اقتدار میں موجود رہنے کے دوران ہی اضافہ ہوتا رہا ہے جس میں ان کی ذاتی مقبولیت نے بھی بڑا اہم کردارا ادا کیا ہے۔ ملک میں تین ادوار تک وزارتِ اعظمیٰ کے فرائض ادا کرنے کے بعد قسمت کے دھنی اس انسان نے ترکی میں پہلی بار براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ترکی میں پروٹوکول کے لحاظ سے سب سے اہم اور ارفع ترین عہدے مسندِ صدارت کو سنبھال لیا اور انہوں نے صدر منتخب ہونے سے قبل اور بعد میں بھی واضح طور پر عندیہ دے دیا ہے کہ وہ ترکی کے دیگر صدور کی طرح صرف نام ہی کے صدر نہ ہوں گے ۔ انہوں نے برملا اظہار کیا ہے کہ وہ آئین میں دئیے جانے والے اختیارات کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ وہ مستقبل قریب میں ملک میں پارلیمانی نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے صدارتی نظام کو متعارف کروانے کے خواہاں ہیں۔ ایردوان کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ جس چیز کا فیصلہ ایک بار کر لیں تو وہ اس فیصلے کو عملی جامہ پہنا کر ہی دم لیتے ہیں ہیں جو مقدر کے سکندر کا خاصہ ہوتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں