نئی امریکی جنگ ’’مسلم ورلڈ‘‘ اور دھرنا؟

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی موجودہ تعداد 193 ہے اور کینیڈا، برطانیہ اور پاکستان سمیت 162 ممالک نے تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ پارلیمانی جمہوریت کا نظام اختیار کر کے عالمی تنظیم ’’انٹر پارلیمانی یونین‘‘ کی ممبر شپ بھی اختیار کر رکھی ہے۔ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ کے چھوٹے بڑے غریب،کرپٹ، معاشی، سیاسی اور انسانی مظالم کے واقعات کا ریکارڈ رکھنے والے ممالک بھی اپنے پارلیمانی نظام کے دائرہ کار میں رہ کر اصلاحات کرنے نقائص کو آئینی طریقہ کار سے دور کرنے کی کوششیں کررہے ہیں مگر 65 سال سے قائم اور 30 سال سے زائد عرصہ فوجی آمریت کی حکمرانی کے تمام تلخ تجربات کے باوجود ہم اس پارلیمانی نظام سے باہر ہی دھرنا سیاست کے ذریعے اس نظام کو مسترد کرکے تباہ کرنے میں لگے ہیں اور اس مسائل اور مشکلات کی شکار ’’مملکتِ خداداد پاکستان‘‘ کو بھی نقصان پہنچنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ شخصیات کی تبدیلی اور ان سے انتقام کیلئے گھر کے در و دیوار کو بھی گرانے میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا جا رہا۔ اقوام متحدہ اور اس کے 193 رکن ممالک 15 ستمبر کو عالمی سطح پر یوم جمہوریت بنا کر پارلیمانی جمہوریت والے 162 ممالک اپنے نظام کو مضبوط اور بہتر بنانے کا سالانہ عزم دہرا چکے لیکن ہم دنیا سے مختلف روش اور کسی بھی آئین کی حدود کے اندر رہ کر اصلاح کی بجائے دھرنا سیاست، اپنے حقوق پرزور اور دوسرے کے حق سے انکار، قانون کے تحت فرائض اور مہذب انداز تقریر و سیاست سے بے نیاز ہوکر دھرنا اور انتقامی سیاست کے ذریعے تبدیلی لانے کے کھیل میں مصروف ہیں۔

عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری دونوں ہی دنیا کے دیگر ممالک گھوم پھر چکے ہیں کاش وہ دھرنا شروع کرنے سے قبل دنیا کے نظام، بھارتی دھرنا لیڈروں کے انجام، قائد اعظم کی آئین پرستی پر نظر ڈال لیتے۔ یہ حقیقت یقینی ہے کہ ان دونوں محترم شخصیات طاہر القادری اور عمران خان میں سے کوئی بھی ’’گاندھی‘‘ نہیں ہے اور نہ ہی سیاہ فام امریکی مارٹن لوتھر کنگ کی سوچ، فلسفہ اور حکمت عملی اپنانے کی سکت و صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ اس کا پرامن مارچ ڈنڈا بردار نہیں تھا اور صدیوں کے نسلی امتیاز و ظلم کے باوجوداس نے ایک بھی ذاتی انتقامی تقریر نہیں کی۔ دھرنا اور مارچ کے ذریعے انقلاب کے خواہشمندوں کو تاریخ اور عوام میں اپنا نام محفوظ کرانے اور کامیابی کیلئے ان مذکورہ دو شخصیات کا مطالعہ، کرلینا چاہئے تھا۔ ڈنڈا بردار چند ہزار حامیوں کو میوزک اور انتقامی تقریروں، قانون شکنی، دوسروں کے حق سے انکار سے کنٹینر سازی کی صنعت، شجرکاری اور ڈنڈا برداری کے کاروبار کو فروغ ملا ہے مگر عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی، کمزور معیشت، بدامنی اور خراب امیج کا چرچا ہوا ہے۔

ہمارے دھرنا قائدین اس قدر مصروف ہیں کہ انہیں یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ صدر اوبامانے امریکی قوم سے اپنے گزشتہ روز کے خطاب میں ’’اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا‘‘ (ISIS) جسے عرف عام میں ’’داعش‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے اس کو دہشت گرد قرار دے کر ایک نئی جنگ کا آغاز کر دیا ہے جس کی سمت اور مدت کا دہشت گردی کے خلاف 13 سالہ جنگ کی طرح دنیا کو کچھ علم نہیں ہے۔ یہ نئی جنگ کتنے سال چلے گی؟ اور کس کس کو لپیٹ میں لے کر اس کا کیا حال کرے گی؟ اس بارے میں ’’مسلم ورلڈ‘‘ اور اس کے حکمرانوں کو بھی پروا نہیں ہے۔ بلکہ تازہ اطلاع ہے کہ 10 مسلم ممالک کے حکمرانوں نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کو ’’داعش‘‘ کے خلاف بمباری اور جنگ کے لئے اپنے فضائی اڈے اور سرزمین کے استعمال کا تعاون فراہم کر دیا ہے بلکہ ’’داعش‘‘ کے خلاف عراق میں امریکی فضائی حملوں کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ البتہ شام کے بشار الاسد نے روس کی حمایت سے یہ کہا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں ’’داعش‘‘ کے خلاف امریکی حملوں کی اجازت نہ دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ نئی جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد نگرانی اور فیصلوں کے تحت فی الوقت عراق کی سیکورٹی فورسز اور ’’سلطنت اسلامیہ‘‘ کے دعویداروں کے درمیان عراق سے شروع ہوئی ہے اب یہ تیونس، مراکش اور مصر سے لے کر انڈونیشیا اور ملائشیا تک پھیلے ہوئے مسلم ممالک میں کس کس کو کب اور کیسے اپنی لپیٹ میں لے گی؟

اس بارے میں دہشت گردی کے خلاف 13 سالہ جنگ کے تجربات اور مقاصد سے اندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں۔ ان ممالک کے حکمران محض اپنے اقتدار کی وقتی ضروریات پر مرکوز رہنے کی بجائے مستقبل پر بھی نظر ڈال کر عبرت کے احساس کو بھی اپنے اندر اجاگر کرلیں۔ میرے خیال میں اس نئی جنگ کے نتیجے میں ان علاقوں کے انسان اور حالات اس قدر زیادہ تبدیل ہوں گے کہ صرف جغرافیہ ہی نہیں بلکہ سوچ، قیادت اور بھی ماحول تبدیل ہوجائے گا۔ مگر مسلم دنیا کے موجودہ حکمران اور قائدین اپنے اقتدار کی ہوس میں الجھے ہوئے ہیں اپنے عوام کا مستقبل بھی دائو پر لگائے ہوئے ہیں۔

کیا پاکستان کے دھرنوں اور اقتدار کے ایوانوں میں کوئی ایسا مفکر، لیڈر، مقرر ہے جو امریکی صدر اوباما کی اعلان کردہ نئی جنگ کے مضر بلکہ مہلک ممکنہ اثرات سے بچانے کی کوئی عملی تدبیر قوم کے سامنے پیش کر سکے؟ جن کو ’’خلافت‘‘، اسلامی سلطنت‘‘ فرقہ وارانہ تقسیم اور دیگر اصطلاحات سے والہانہ لگائو ہے وہ ’’داعشٔ‘‘ کی خلافت اور اسلامی سلطنت کے خلاف اس نئی جنگ میں اب کیا کریں گے؟ وہ کہاں کھڑے ہیں؟ مسلم ممالک اور مسلم دنیا کے قائدین، دانشور اور علمائے کرام اس نئی صورتحال میں کسی تصادم کے بغیر پرامن بقاء کا راستہ تلاش کر کے طوفانوں کے گزر جانے تک مسلم دنیا کو راستہ اور حکمت عملی دکھائیں زمینی حقائق کا ادراک کریں۔ ورنہ دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ سے برباد اور متاثرہ مسلم ممالک میں سےکوئی بھی مسلم ملک اس نئی جنگ کی مخالفت، مزاحمت یا عدم حمایت کی سکت نہیں رکھتا اور نہ ہی موجودہ صدی کے زمینی حقائق آپ کے حق میں ہیں۔ بلکہ غلط حکمرانوں کے غلط فیصلوں کے منطقی انجام اور قیمت چکانے کا مرحلہ آگیا ہے؟

’’داعشٔ‘‘ کے خلاف نئی جنگ ’’دھرنا‘‘ کے پاکستانی جنگجو قائدین حکمرانوں اور اپوزیشن کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ اگر خدانخواستہ 13 سالہ دہشت گردی کی جنگ سے تھکے ہوئے بدحال معیشت اور سیلابی تباہ کاریوں کے شکار پاکستان کو خدانخواستہ کچھ ہوا تو پھر مسلم ورلڈ کا کوئی بھی ملک اور اس کے وسائل صرف چند گھنٹوں کے مہمان ثابت ہوں گے ۔ مسلم دنیا پہلے ہی تنزلی کی جانب دھکیلی جاچکی ہے۔ داخلی دھرنا چھوڑیئے اقتدار کی دوڑ، انتقامی سیاست، حکمرانی کا غرور پھر کبھی سہی فی الحال نئی امریکی جنگ کے ممکنہ منفی اثرات سے بچائو اور خطرات سے بچ کر دریائوں کے سیلاب اور نئی جنگ کے منفی اثرات سے بچ کر بحالی اور بقاء کی ضرورت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں