نیول ڈاکیارڈ پر حملہ

اشتیاق بیگ
اشتیاق بیگ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کراچی میں واقع نیول ڈاکیارڈ پاکستان نیوی کی انتہائی حساس تنصیبات تصور کی جاتی ہے جہاں نہ صرف نیوی کے بحری جہاز اور آگسٹا آب دوزیں لنگر انداز ہوتی ہیں بلکہ یہاں واقع خشک گودی میں ان کی مرمت بھی کی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں یوم دفاع کے موقع پر ڈاکیارڈ میں دہشت گردی کا ایک سنگین واقعہ پیش آیا مگر اُس وقت پوری قوم کی نظریں اسلام آباد میں جاری احتجاجی دھرنوں پر مرکوز تھیں۔ عوام اور میڈیا کو سانحہ کا علم دو دن بعد آئی ایس پی آر اور نیوی کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے ذریعے ہوا لیکن اُس وقت تک دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل ہو چکا تھا اور ڈاکیارڈ کو دہشت گردوں سے کلیئر کروایا جا چکا تھا۔ واقعہ کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ دہشت گرد سمندری راستے سے نیول ڈاکیارڈ میں داخل ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق نماز فجر کے وقت پاکستان نیوی کی یونیفارم میں ملبوس جدید اسلحہ سے لیس 7 دہشت گرد سمندری راستے سے ڈاکیارڈ میں داخل ہوئے اور وہاں لنگر انداز پاکستان نیوی کے فریگیٹ پی این ایس ذوالفقار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی مگر جہاز پر موجود عملے نے انہیں نیوی کے ایس ایس جی کمانڈوز کے پہنچنے تک روکے رکھا، بعد ازاں کمانڈوز کی بھاری نفری نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوںکے حملے کو ناکام بنا دیا۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے دوطرفہ فائرنگ کے تبادلے میں پاکستان نیوی کے ایک افسر نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 6 جوان زخمی ہوئے۔ مقابلے کے دوران 2 دہشت گرد بھی مارے گئے جبکہ 4 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا جن کے قبضے سے بڑی تعداد میں ہینڈ گرنیڈ، اے کے 47 کلاشنکوفیں، خودکش جیکٹس اور سیٹیلائٹ فون برآمد ہوئے۔ حملے کے بعد تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ڈاکیارڈ پر حملے میں طالبان کو اندرونی مدد حاصل تھی جس کی تصدیق وزیر دفاع خواجہ آصف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں کرچکے ہیں۔ دہشت گردوں کے حملے کے بعد ایک اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ نیوی کمانڈوز کے ہاتھوں مارا جانے والا ایک دہشت گرد، اے آئی جی سندھ شبیر جاکھرانی کا بیٹا اویس جاکھرانی تھا جس نے اپنے مذہبی نظریات کی بناء پر 4 ماہ قبل نیوی کی ملازمت چھوڑی تھی۔ اویس جاکھرانی کی موت کو ابتداء میں اغواء کاروں کی کارروائی قرار دیا جا رہا تھا مگر بعد میں آئی جی سندھ نے یہ اعتراف کیا کہ مارا جانے والا ایک دہشت گرد ان کے ساتھی اے آئی جی شبیر جاکھرانی کا بیٹا اویس جاکھرانی تھا جو نیوی کمانڈوز کی جوابی کارروائی میں مارا گیا۔

ڈاکیارڈ پر حملے کے واقعہ کے بعد گرفتار دہشت گردوں کی نشاندہی پر حملے میں ملوث 3 مرکزی ملزمان جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ نیوی کے کمیشنڈ افسران ہیں اور کارروائی کے بعد افغانستان فرار ہونا چاہتے تھے، کو کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا جن کے قبضے سے سیٹیلائٹ فون اور کالعدم تنظیم کا جہادی لٹریچر بھی برآمد ہوا۔ گرفتار کئے گئے نیوی کے ان گمراہ اہلکاروں سے دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ڈاکیارڈ پر حملے کی منصوبہ بندی انہوں نے کالعدم دہشت گرد تنظیم کے ساتھ مل کر تیار کی تھی جس میں اُنہیں پڑوسی ملک کی مدد بھی حاصل تھی۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ دہشت گرد پی این ایس ذوالفقار کو عملے سمیت اغواء کر کے دہشت گردی کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ دہشت گرد جہاز پر موجود انتہائی تباہ کن اور دور مار ہتھیاروں کے ذریعے پڑوسی ملک کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ واضح ہو کہ گزشتہ 6 برسوں کے دوران دہشت گرد وقفے وقفے سے حساس عسکری تنصیبات کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے ہدف کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ دہشت گردوں نے پاکستان نیوی کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا ہو بلکہ اس سے قبل بھی دہشت گرد پی این ایس مہران، نیوی کی ٹرانسپورٹ بسوں اور افسران پر حملے کر چکے ہیں۔

کچھ سال قبل میک اے وش فائونڈیشن پاکستان کے لاعلاج مرض میں مبتلا ایک بچے کی نیوی فریگیٹ دیکھنے کی آخری خواہش پر پاکستان نیوی نے ہمیں ڈاکیارڈ مدعو کیا جہاں سیکورٹی کے کئی مراحل سے گزر کر ہم ڈاکیارڈ اور پھر نیوی کے جہاز تک پہنچے۔ ڈاکیارڈ کے دورے کے موقع پر وہاں تعینات نیوی کے ایس ایس جی کے چاق و چوبند کمانڈوز کی مشق دیکھنے کا بھی موقع ملا جسے دیکھ کر میں نہایت متاثر ہوا۔ اس موقع پر میں سوچ رہا تھا کہ اتنی سخت سیکورٹی اور ایس ایس جی کے ہمہ وقت تیار کمانڈوز کی موجودگی میں کسی دہشت گرد میں اتنی جرات نہیں کہ وہ یہاں داخل ہو سکے لیکن میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ڈاکیارڈ تک پہنچنے کے لئے دہشت گرد سمندری راستہ اختیار کریں گے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کو اندرونی معاونت حاصل تھی۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ میک اے وش پاکستان کے بچے کی خواہش پر اُسے نیوی کے جس جہاز کا وزٹ کرایا گیا، وہ میزائلوں اور راکٹوں سے لیس پی این ایس ذوالفقار ہی تھا۔

طالبان کا یہ دعویٰ کہ ڈاکیارڈ میں داخل ہونے اور پی این ایس ذوالفقار پر حملے میں اُنہیں اندرونی مدد حاصل تھی، مسلح افواج کے لئے یقینا لمحہ فکریہ ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیکورٹی اداروں میں تمام چیزیں ٹھیک نہیں اور ملکی سیکورٹی کتنی غیر محفوظ ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان آرمی اور فضائیہ کے مقابلے میں پاکستان نیوی میں انتہا پسند سوچ کے حامل افراد کی تعداد زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ نیوی کے افسران اور تنصیبات پر پے درپے حملے ہو رہے ہیں۔ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ڈاکیارڈ حملے میں ملوث دہشت گردوں میں سے کسی کا تعلق ماضی کی طرح قبائلی علاقوں سے نہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں کیا گیا یہ دعویٰ کہ ’’پاکستانی افواج کو شدت پسندوں سے پاک کر دیا گیا ہے‘‘ محض خام خیالی ہے کیونکہ دہشت گردوں کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھنے والے انتہا پسند ذہنیت کے افراد آج بھی مسلح افواج میں موجود ہیں جو مذہب اور ملکی سلامتی کے بارے میں کنفیوژن کا شکار ہیں جس کا واضح ثبوت نیول ڈاکیارڈ پر ہونے والا حالیہ حملہ ہے مگر یہ امر خوش آئند ہے کہ نیوی کے کمانڈوز نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر پاکستان کو نہ صرف بہت بڑے نقصان بلکہ شرمندگی سے بھی بچا لیا۔

بالفرض اگر دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جاتے تو یہ دنیا میں دہشت گردی کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوتا۔ یہ خیال بھی کیا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کا اگلا ہدف قریب ہی لنگر انداز آگسٹا سب میرین ہو سکتی تھی جو پاکستان نیوی کا دل تصور کی جاتی ہے، ایسی صورت میں مسلح افواج کو ایبٹ آباد آپریشن کے واقعہ کے بعد نہ صرف دنیا بھر میں ایک اور بڑی سبکی کا سامنا کرنا پڑتا بلکہ اس کے انتہائی خطرناک نتائج بھی برآمد ہو سکتے تھے۔ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری پاک فوج کے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کی کامیابی یقینی ہے مگر ہمیں اصل کامیابی اُس وقت حاصل ہوگی جب ہم مسلح افواج میں موجود یونیفارم میں چھپے ایسے انتہا پسند ذہنیت کے حامل افراد کا بھی صفایا کریں جو اپنے دلوں میں دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں، بصورت دیگر دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کو کامیاب تصور کرنا محض خام خیالی ہوگی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں