’’اوئے …عمران خان!‘‘

مطیع اللہ جان
مطیع اللہ جان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کے دوران جناب اعتزاز احسن نے ایک دلچسپ قصہ سنایا۔ ایک نافرمان نوجوان اپنی والدہ سے بدتمیزی کرتے بھی نہیں چوکتا تھا حتیٰ کہ اسے کبھی ماں کہہ کر بھی نہیں پکارتا تھا۔ ایک دن کسی جرم کی پاداش میں مقامی تھانیدار کے ہتھے چڑھ گیا۔ بیٹے کی محبت کی ماری ماں اسے ڈھونڈتے ہوئے جب تھانے پہنچی تو اس کے لخت جگر کی لتر پریڈ (چھترول) ہو رہی تھی اور نوجوان کے منہ سے ہر چھتر پڑنے پر ایک ہی صدا نکلتی ’’ہائے ماں میری ماں‘‘ ماں نے جب یہ منظر دیکھا تو تھانیدار کا ہاتھ روکنے کی بجائے ٹھٹک کر رک گئی اور ’’میری ماں‘‘ کی ہر صدا پر آنکھیں بند کرتی اور سینے پر ہاتھ رکھ کر بولتی ’’ماں صدقے ۔میرے پتر ایک واری فر بلا ‘‘ (میرے بیٹے ایک بار پھر صدا دو) ہاتھ میں چھتر پکڑے تھانیدار نے حیرانگی سے خاتون کو دیکھا تو خاتون چلائی ’’صدقے جانواں وے تھانیدارا توں آج میرے پتر نوں ماں تے یاد کرا دیتی اے‘‘ (صدقے جاؤں تھانیدارا کہ توں میرے بیٹے کے منہ پر ماں کا لفظ لے آیا ہے) آج کے حالات میں بھی سول نافرمانوں کی کمی نہیں۔ پولیس کی طرف سے بڑے پیمانے پر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی گرفتاری نے پینتیس سال کے نوجوان کی مضبوط ہڈیوں کے حامل عمران خان کو بھی بے ساختہ یہ کہنے پر مجبور کردیا ہے کہ جنرل مشرف کا دور بھی نواز شریف کے دور سے بہتر تھا۔ یہ بیان سن کر جنرل مشرف نے بھی آنکھیں بند کر کے اور سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر یہی کہا ہو گا ’’صدقے جاواں او نواز شریفا‘‘ کچھ مبصرین کے مطابق عمران خان کے مشرف دور سے متعلق اس بیان کے بعد ’’بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ یہ وہی عمران خان ہیں جو ریفرنڈم کے ذریعے جنرل مشرف کے بطور صدر منتخب ہونے کی حمایت کرنے پر قوم سے معافی مانگ چکے ہیں۔

خان صاحب کے دریافت شدہ نئے سیاسی برادر طاہر القادری کے جلسوں میں مشرف کے خصوصی معاون راشد قریشی اور احمد رضا قصوری پہلے ہی کئی بار حاضری دے چکے ہیں۔ اب جبکہ عمران خان صاحب نے مشرف دور کو نواز حکومت سے بہتر قرار دے ہی دیا ہے تو پھر شرمانا کیسا اب انہیں مشرف کی رہائی کا مطالبہ بھی کھلے عام کر دینا چاہئے۔ امید ہے کہ جنرل مشرف بھی عمران خان کے تازہ ترین بیان کے بعد ان کی ماضی کی ’’خطاؤں‘‘ کو درگزر فرمائیں گے اور ان سے یہ مطالبہ نہیں کریں گے کہ وہ ماضی میں ریفرنڈم کی حمایت پر قوم سے معافی مانگنے پر ایک نئی معافی مانگیں۔ کرکٹ کے کھیل کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایک باؤلر یو ٹرن لئے بغیر دوسری گیند نہیں پھینک سکتا۔ اس لئے جتنی گیندیں، اتنے یو ٹرن۔ خان صاحب نے اپنے سامنے کھڑے شریف بلے بازوں کے علاوہ باؤنڈریوں کے دو جانب لگی ’’وائٹ سکرین‘‘ (یا بلیک سکرین) کے منتظمین کو بھی دھمکی لگانا شروع کر دی ہے جن سے عمومی طور پر صرف بلے بازوں کو ہی شکایت ہوتی ہے کہ وہ وائٹ سکرین کی جگہ تبدیل کر کے بلے باز کے بال دیکھنے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ آخر عمران خان کے پولیس کے سپاہیوں سے لے کر آئی جی تک کے عہدیداروں کو روزانہ د ھمکی دینے کو اور کیا سمجھا جائے۔ ’’اوئے تھانیدارا۔ اوئے آئی جی۔ اوئے پولیس والو‘‘ جیسے بیانات ’’نیا پاکستان‘‘ تو کیا ’’پرانے پاکستان‘‘ سے پہلے ’’بہت پرانے پاکستان‘‘ کے اس دور کا پتہ دیتے ہیں جس میں فلم ’’مولا جٹ‘‘ کے ہیرو سلطان راہی کے مشہور ڈائیلاگ ’’اوئے تھانیدارا‘‘ پر سینما ہال تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ عدالتی قتل کا شکار ہونے والے ملک کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا ایک سرکاری فائل پر وہ نوٹ گلے کا پھندہ بن گیا تھا جس میں انہوںنے مبینہ طور پر نواب احمدرضا قصوری سے متعلق یہ لکھا تھا "Sort him out" (اس کا بندوبست کرو) اب اگر عمران خان صاحب کنٹینر پر کھڑے ہو کر سرعام یہ کہیں کہ ’’آئی جی میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا‘‘ تو اس کا کیا مطلب لیا جائے ؟

ایک ملکی سطح کی سیاسی جماعت کا قائد جب گریڈ اکیس اور بائیس کے ملازموں کو براہ راست مخاطب کر کے ایسی دھمکیاں لگائے گا تو اس کی ذہنی سطح کے بارے میں کیا رائے دی جا سکتی ہے۔ اب ذرا سوچیے کہ اگر آئی جی پولیس بھی اپنے دفاع میں یہ کہے کہ ’’اوئے عمران خان اپنی زبان سنبھال کر بات کرو… مجھے نوکری سے زیادہ عزت پیاری ہے‘‘ تو پھر خان صاحب کیسا محسوس کرینگے ؟ ایک فاسٹ باؤلر آل راؤنڈر اور کپتان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ٹیل اینڈ (آخری نمبر پر بلے بازی کے لئے آنے والے کھلاڑی) کے کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کی بجائے انہیں باؤنسر مار کر ان کا مذاق اڑاتا پھرے۔ ویسے کبھی کبھی آخری کھلاڑی کے بلے پر باؤنسر آ جائے تو گیند سٹیڈیم سے باہر بھی چلی جاتی ہے۔ کہاں ایک وزیراعظم سے مقابلہ اور کہاں اب ایک آئی جی کے لیول کے سرکاری ملازم سے توں توں میں میں۔ بظاہر اب آئی جی اسلام آباد نے بھی اپنا قانونی اختیار جتانا شروع کر دیا ہے۔ ریڈ زون میں ایمبولینسوں اور میڈیا کے داخلے پر پابندی محض اعلان اور قابل مذمت ہی سہی مگر عمران خان کو کھلا چیلنج ضرور ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنے صوبے خیبرپختونخوا میں تو خان صاحب نے اپنی پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ اب وہ اسلام آباد کے آئی جی کے اقدامات اور اعلانات پر حکومت یا وزیر داخلہ کو کیسے مورد الزام ٹھہرائیں گے؟

اگر آئی جی اسلام آباد یہ کہہ دے کہ وہ ریڈ زون کو خالی کرانے کے لئے تمام اقدامات کریں گے اور اس میں وزیر داخلہ کی مداخلت بھی نہیں مانی جائے گی تو عمران خان کس منہ سے حکومت کو ان اقدامات کا الزام دیں گے۔ جب ریڈ زون میں آنسو گیس، لاٹھی چارج اور ربڑ کی گولی چلائی گئی تو فوج کی طرف سے عدم تشدد اور سیاسی حل کا مشورہ دیا گیا۔ فوج کے اس بیان کے بعد نہ صرف حکومت بلکہ بہت سے پولیس افسران نے بھی کمزور دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی چوک کے علاقہ غیر بننے پر خاموشی اختیار کی۔ بہت سے پولیس افسران اور اہلکار تو بہانے بنا کر ڈیوٹی سے بھی غائب رہے۔ آخر پولیس افسران سے زیادہ فوج اور اس کی خفیہ اداروں کی طاقت سے کون واقف ہوگا۔ یہی وہ حالات ہیں کہ جن کے باعث کپتان کا عزم ایک فوج کے نوجوان کپتان کی مانند بلند ہے۔ ان انقلابی لیڈروں کو اس کی پرواہ نہیں کہ ان کے ساتھ دس لاکھ تو کیا شاید دس ہزار لوگ بھی نہیں وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ کھیل کا فیصلہ کسی ایمپائر نے کرنا ہے کھلاڑیوں نے نہیں۔

فوج کے ترجمان اپنے پسندیدہ صحافیوں کے جھرمٹ میں جو بھی کہیں ان کے بیانات واضح طور پر دھرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ضرب عضب آپریشن سیلاب میں امدادی کارروائیاں اور ملالہ کے قاتلوں کی گرفتاری کو حکومت کی بجائے فوج کی کارکردگی بتایا جاتا ہے۔ کیا یہ مناسب نہیں کہ دنیا کے سامنے ان تمام اقدامات کو حکومتی اقدامات ظاہر کیا جائے۔ آخر فوج اور حکومت میں مقابلہ کس چیز کا ہے؟ کیا فوج حکومت کا ماتحت ادارے نہیں؟ کیا ضرب عضب آپریشن‘ سیلاب میں امدادی کارروائیاں اور ملالہ کے قاتلوں کی گرفتاری کا سہرا اس منتخب حکومت کو نہیں جاتا جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے فوج کا نظم و نسق چلاتی ہے؟ یہی وہ صورت حال ہے جس کے باعث غیر ملکی شہریت کا حامل ایک عالم یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ پاکستان میں انقلاب آئین کے اندر نہیں ماورائے آئین قوتوں کے تعاون سے لایا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے فوجی ترجمان کے ذریعے آج تک جاری ہونے والے بیانات نے عوام کی منتخب پارلیمنٹ اور ہماری قومی افواج کے افسروں اور نوجوانوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر رکھی ہیں۔

حامد میر پر حملے کے بعد نام نہاد دفاعی تجزیہ کاروں نے سوچے سمجھے بغیر جن (پلس رپورٹ"Pulse Report" کا ذکر کیا وہ فوج کے اندر حکومت مخالف جذبات کا اشارہ کرنے سے زیادہ انہیں ابھارتی تھی۔ اس ساری صورت حال میں فوجی ترجمان کا ہر روز محض ایک نیا بیان کافی نہیں ہو سکتا۔ حکومت کو فوری طور پر فوجی ترجمان کے ادارے آئی ایس پی آر کو وزارت دفاع کے سامنے جوابدہ بنانا ہو گا۔ مزید برآں آئی ایس پی آر کو فضائی اور بحری افواج کا بھی اتنا ہی ترجمان ہونا چاہئے جتنا بری افواج کا۔ اگر حکومت ایسا کر سکتی ہے تو پھر اسے عمران خان اور قادری کے دھرنوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ دھرنے تو ایک دن ختم ہو جائیں گے۔ حکومت اور سیاسی نظام کو اصل خطرہ ان پالیسی دھرنوں سے ہے جو ہمارے چند اداروں نے ہمارے سیاسی نظام کے خلاف آج تک دے رکھے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں