مصری صدر کی خارجہ پالیسی

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

مصری صدرعبدالفتاح السیسی کی حکومت کے ایک سو دن پورے ہو چکے ہیں۔ اب یہ وقت ہے کہ اس ملک کی کامیابیوں کا شمار کیا جائے لیکن اس کا انحصار کسی شخص کے سیاسی موقف پر ہے۔ شاید کوئی بھی نہیں اور صدر السیسی کے مخالفین بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ انھوں نے داخلی محاذ پر بہت ہی مشکل فیصلے کیے اور ان کا نفاذ بھی کیا ہے۔ انھوں نے ایندھن جیسی بنیادی اشیاء پر زر ِتلافی کو ختم کر دیا اور بریڈ پر کم کیا ہے۔ اس کے باوجود مصر مضبوط ہے، موجود ہے اور مصری عوام نے قیمتوں میں اضافے کو برداشت کیا ہے۔ انھوں نے حکومت کے اس وعدے پر اعتبار کیا ہے کہ ملک کو بچانے کا صرف یہی واحد راستہ تھا۔

ہم السیسی کی جانب سے خارجہ محاذ پر مصر کے نَئے کردار کے منتظر ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان کی زیادہ تر توجہ ملک کے داخلی مسائل پر مرکوز ہے جبکہ ان کے دونوں پیش روؤں ڈاکٹر محمد مرسی اور حسنی مبارک نے خارجہ امور پر اپنی توجہ مرکوز کیے رکھی تھی۔

اس میں بیرونی دنیا کے لیے بہت سے اشارے ہیں۔اول، یہ کہ نئے صدر داخلی مسائل سے راہ فرار اختیار کرکے بین الاقوامی ایشوز پر توجہ مرکوز نہیں کرنا چاہتے ہیں حالانکہ دوسروں نے ایسے ہی کیا تھا۔ دوم،انھوں نے بیرونی طاقتوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ داخلی ایشوز بشمول روزمرہ زندگی اور سکیورٹی ان کے کنٹرول میں ہیں۔ سوم، بظاہر وہ توجہ کے حصول کے خواہاں نہیں ہیں اور ان کے عالمی لیڈروں کے ساتھ بیشتر انٹرویوز بہت مختصر اور داخلی ایشوز یا خطے میں مصر کے مسائل سے متعلق تھے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک عارضی صورت حال ہے اور ملک آگے بڑھے گا صدر علاقائی امور پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔

سب سے اہم بحران اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ تھی۔اس کے دوران صدر السیسی نے ثابت کیا ہے کہ وہ میڈیا اور رائے عامہ سے متاثر نہیں ہوئے ہیں جو ان سے مداخلت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے اس وقت مداخلت کی جب انھوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب مصر ایک خاص کردار ادا کر سکتا ہے۔انھوں نے متحارب فریقوں اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک لکیر بھی کھینچ دی اور اس بات کو یقینی بنا لیا کہ وہ مصر پر حملہ آور نہیں ہوئے اور اس کی قیادت کو بلیک میل نہیں کیا۔

اسی وجہ سے حماس مصری شرائط پر قاہرہ لوٹ آئی تھی۔ اس نے جب سمجھ لیا کہ ایران ،ترکی اور قطر اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتے تو وہ بہت سے نامناسب بیانات سے دستبردار ہو گئی کیونکہ مصری مداخلت ہی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کا واحد راستہ تھی۔ مزید برآں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا اس وقت قاہرہ میں خیر مقدم کیا گیا تھا جب انھوں نے غزہ پر زمینی چڑھائی کی دھمکیاں دینا بند کر دی تھیں۔

میری رائے میں اس وقت حقیقی چیلنج لیبیا ہے۔ یہ ملک مسلسل اداروں کی سطح پر توڑ پھوڑ اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔ اس سے مصر کی سلامتی کو براہ راست خطرات لاحق ہیں۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ عبدالفتاح السیسی لیبیا میں بھائیوں کے درمیان تنازعے میں الجھنا نہیں چاہتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے خود کو ایک فاصلے پر رکھا ہوا ہے۔تاہم وہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نہیں چاہتے کہ آگ ان کے ملک کی سرحدوں تک پہنچ جائے۔

یہی وجہ ہے کہ انھوں نے حال ہی میں لیبیا کے ایک اور بڑے پڑوسی ملک الجزائر کے ساتھ ایک سمجھوتے کا فیصلہ کیا۔یہ واضح ہے کہ استحکام کی بحالی اور ایک جائز حکومت اور پارلیمان کی حمایت دونوں ممالک کی سیاسی اور سکیورٹی سرگرمیوں میں سر فہرست ہے۔ الجزائر اور مصر کے درمیان تعاون ہی واحد ضمانت ہے جس سے لیبیا میں صورت حال کو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکتا ہے اور بیرونی مداخلت کو روکا جا سکتا ہے۔

جہاں تک عراق اور شام کے ایشوز کا تعلق ہے صدر السیسی نے ان بحرانوں سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے سوائے اس کے کہ انھوں نے داعش کے خلاف بین الاقوامی اعلامیے میں محدود پیمانے پر شرکت کی ہے۔ اس قدم سے مصر کو مسلح اپوزیشن گروپوں کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی اور اس سے السیسی کے اخوان المسلمون کو سزا دینے کے حق کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ اخوان داعش کے خلاف جنگ کی مخالف ہے۔

دوسری جانب السیسی نے اپنے حقیقی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنایا ہے۔ ان کے ساتھ جنھوں نے ان کے ساتھ اقتدار سنبھالنے سے بھی پہلے تعلقات استوار کر لیے تھے اور وہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور روس ہیں۔گذشتہ ایک سو دنوں کے دوران ان کے درمیان داخلی اصلاحات پروگرام کے مفاد میں اس تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اس اتحاد نے انھیں اس قابل بنایا ہے کہ وہ مغربی حکومتوں کی جانب سے ہونے والی تنقید کے خلاف مضبوط موقف اپنائیں۔ درحقیقت امریکیوں اور یورپی یونین کو مصر میں ایک نئی حقیقت کا سامنا ہوا ہے۔ بالآخر انھوں نے مصر میں نئی حکومت کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا اور اس کو نامنظور کرنے کے اپنے پہلے موقف سے دستبردار ہو گئے۔

روس کے ساتھ تعاون کے لیے خارجہ پالیسی کی سمت ابھی متعین نہیں ہوئی ہے۔ مصر کے امریکا کے ساتھ طویل المعیاد تعلقات کی قیمت پر بھی یہ بھی یہ تعلقات استوار نہیں کیے جا رہے ہیں۔ کیا صدر السیسی تیسری مرتبہ تاریخ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

پہلی مرتبہ مصر کی خارجہ پالیسی میں اس وقت تبدیلی ہوئی تھی جب مرحوم صدر جمال عبدالناصر نے امریکی کیمپ کے مقابلے میں سوویت یونین کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا اور ایسا چیک اسلحہ ڈیل کے ذریعے کیا گیا تھا۔ دوسری تبدیلی اس وقت رونما ہوئی تھی جب صدر انورالسادات نے سوویت ماہرین کو مصر سے بے دخل کر دیا تھا اور امریکا کے ساتھ مثبت تعلقات بحال کر لیے تھے۔ ہمیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ السیسی کی پالیسی ماسکو کی جانب رُخ موڑنے کے لیے بنیادی تبدیلی کی مظہر ہے یا انھوں نے عارضی ضروریات کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں