.

نچ پنجابن سے پنجابن دی ٹور تک

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بالآخر ختم ہوگیا۔ بظاہر جمہوری نظام کو خطرات‘ اگر ٹل نہیں گئے تو کم از کم، مدّھم ضرورپڑ گئے لیکن کیا سازش بھی ختم ہو گئی؟ باخبر ذرائع ہی کو خبر ہو گی۔ دیکھنے والے بے خبر تو صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ سیاستدانوں کے چہروں پر کچھ اطمینان سا ہے۔ سنا ہے کہ مولوی نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسی فسادی صورتحال پیدا کرے گا کہ حکومت اسے لاشیں دینے پر مجبور ہو جائے گی اور پھر دما دم ہوگا۔ مولوی نے اپنے ''ان داتاؤں''کو جو ''وچن'' دیا ہے کہ وہ پاکستان کا ''انت'' کر کے رہے گا، اس کا پالن تو اس نے کرنا ہے، یہ الگ بات ہے کہ کسی کی قسمت میں طویل المیعاد اور تاحیات نامرادی لکھی گئی ہو تو اس کا علاج نہیں ہو سکتا چاہے کہیں سے کتنی ہی کمک کیوں نہ ملے۔

پارلیمنٹ میں کئی گرما گرم تقریریں ہوئیں، کچھ تو اتنی گرم تھیں کہ سننے پڑھنے والوں کو پھونکیں مارنا پڑیں۔ یہ اپنی قسم کا پہلا تجربہ تھا جو اس قوم کو ہوا۔ خورشید شاہ، محمود اچکزئی اور دوسروں کی تقریریں تو بہت مشہور بھی ہوئیں۔ سینیٹر سعید غنی کی تقریر اتنی مشہور نہیں ہو سکی حالانکہ یہ بھی کم تیز نہیں تھی۔ انہوں نے کہا فوج ریاستی ادارہ ہے، ریاست پر حملہ ہو تو وہ کس طرح غیر جانبدار رہ سکتا ہے۔ یہ بات مولانا فضل الرحمن نے بھی کہی۔ خیر، اب تو یہ بحث ہر جگہ ہو رہی ہے کہ آخر کیوں آئی ایس پی آر کے بیانات میں مسلسل ''دھرنائیوں'' کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی حالانکہ ایسی کوئی بات بظاہر اتنی زیادہ نظر تو نہیں آرہی ۔ شاید اپنی اپنی نظر، اپنا اپنا نقطہ نظر اور اپنا پنا زاویۂ نظر ہے۔ سینیٹر مشاہد اللہ کی تقریر سب سے گرم تھی لیکن وہ حال سے زیادہ ماضی کے تناطر میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور کسی نے پوچھا تک نہیں۔ یہ انہوں نے غلط کہا۔ ان کا اشارہ مارشل لاؤں کی طرف تھا۔لیکن مارشل لاء لگانے والوں کا جو حال ہوا‘ وہ بھی تو یاد کریں‘ ٹھیک ہے‘ عدالت نے سزا نہیں دی لیکن قدرت نے مجسّم عبرت بناکے رکھا کہ نہیں؟ بہرحال ماضی کا قصّہ یہ ہے کہ ملک 1958ء تک ٹھیک چلتا رہا، محدود وسائل کے باوجودقابل رشک ترقی کی۔

لسانی نفرت کا نشان تک نہیں تھا۔ سندھ میں مہاجروں کی بڑی تعداد آئی اور سندھی آبادی نے انہیں عزیز ازجان جانا لیکن 1958ء کا بدقسمت سال تھا کہ پہلے جعفر از بنگال کا سپتر سکندر مرزا اورپیچھے پیچھے ایوب خان آگیا اور اینٹ سے اینٹ بجائی شروع ہو گئی۔ تباہی کے ان دس برسوں کا اختتام یوں ہوا کہ سندھی مہاجر خلیج پیدا ہوئی، بنگالیوں کو گندے کیڑے مکوڑے قرار دے کر بھارت کے حوالے کر دیا گیا اور کرپشن سے نا آشنا بیوروکریسی (انگریزی دور کا یہ تسلسل تھا) کرپشن کا گڑھ بن گئی۔ ایوب خاں کے افسر خود کو قانون سے ماورا، جوابدہی سے آزاد اور اپنے آپ کو ''خدا'' سمجھتے تھے اس لئے کھل کر کرپشن کرتے تھے۔ انہیں دیکھ کر سول بیوروکریسی کے خربوزوں نے بھی رنگ پکڑا اور پھر چل سو چل۔ ایوب کی پھیلائی کرپشن، لوٹ مار، تباہ کاری، اندھیر گردی، چھوٹی قومیتوں پر مظالم (بلوچستان میں پہلا قتل عام کیا) اور لسانی منافرتیں پھیلانے کی پالیسی کو عروج مشرف نے دیا جس نے زیادہ ''سسٹمیٹک'' اور زیادہ ''سائنٹفک'' طریقے سے مذہبی، فرقہ وارانہ اور لسانی لڑائی کو پھیلایا، کراچی کو لسانی میدان جنگ بنا دیا، بلوچوں اور پٹھانوں کو پاکستان سے متنفر کیا اور کرپشن تو ایسی کی کہ سارا ایشیا مل کر بھی پیچھے رہ گیا۔

کہا جاتا ہے کہ سول حکومتوں کے دور میں (جن کی مدّت 1977ء کے مارشل لاء کے بعد کل ملا کر بارہ پندرہ سال بنتی ہے) جتنی کرپشن ہوئی، اس سب کو جمع کر لیا جائے تو بھی وہ مشرف حکومت کے کسی بھی وزیر کی محض ایک سال کی کرپشن سے کئی گنا کم نکلے گی۔ مشرف نے ملک کی خود مختاری کو بے نام و نشان کر دیا، کشمیر کاز کو بوری بند کر دیا، اور قومی استحکام کو ماضی کی کہانی بنا دیا۔ پاکستان کے بازوئے شمشیر زن یعنی قبائل کو گویا تن سے جدا ہی کر دیا۔ اور بھی بے شمار کارنامے اس سور مانے کئے ۔

یہ سب قصّہ ماضی تھا۔ حال کے اچھے ہونے کی امید کرنی چاہئے۔ مشاہد اللہ کی شعلہ بیانی میں جتنی حدّت تھی اس سے زیادہ نغمگی تھی اس لئے مکّرر ارشاد تو نہیں لیکن بدستور ارشاد کی فرمائشیں ہوتی رہیں۔ کئی تقریروں میں''حال'' کے اچھا ہونے کا ذکر بھی کیا گیا۔ گویا شکوہ بھی تھا اور امید بھی اور اعتماد بھی، ان تین عناصر کا مرکب بنا لینے کے بعد اجلاس ملتوی ہو گیا۔
__________________________

کپتان نے کہا تھا، جمعہ کو یہاں سمندر ہوگا‘ قدرتی بات ہے، بہتوں نے جمعے کا انتظار کیا۔ لیکن جمعہ کو جو اجتماع کپتان کا ڈی چوک پر ہوا،وہ سمندر تو کیا ہوتا، اتنا بھی نہیں ہو سکا جتنا سمندری ضلع فیصل آباد کے مین چوک پر ہو سکتا تھا۔ ادھر مولوی کے جلسے میں رقص کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلہ رقص کے بعد دونوں دھرنے پوری طرح ہم آہنگ ہوگئے۔ مولوی کے دھرنے میں ایک رقص اس دھن پر ہوا: ''بلّے بلّے بھئی ٹور پنجابن دی'' اور کپتان کے دھرنے کا توقومی ترانہ ہی ''نچ پنجابن نچ'' ہے۔ ایک دن پہلے خورشید شاہ کہہ رہے تھے، سندھ بڑا وسیع الظرف ہے، بالکل غلط۔ پنجاب بڑا وسیع الظرف ہے۔ خورشید شاہ سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ مولوی اور کپتان سندھ میں دھرنے دیں اور نچ سندھن نچ، بلّے بلّے بھئی ٹور سندھن دی کے ''قومی ترانے'' گائیں تو سندھی ان دھرنوں کا کیا حال کریں گے؟ پنجاب کے ظرف کی داد دیں کہ یہاں توبلّو دے گھر کا ٹکٹ سیلر بھی قومی اسمبلی کا الیکشن لڑتا ہے (اگرچہ ہار جاتا ہے ) کیا سندھ میں ایسا ٹکٹ سیلر الیکشن لڑنے کا سوچ سکتا ہے؟۔ وہ یا تو ہسپتال میں ہوگا یا پھر ۔۔۔چلئے چھوڑئیے۔

__________________________

بلاول زرداری کا ملتان، چنیوٹ اور دوسرے علاقوں میں بھرپور استقبال ہوا اور پھر سے یہ بحث چل نکلی ہے کہ کیا پیپلز پارٹی پنجاب میں پھر سے اپنا مقام بنا پائے گی؟

بالکل بنا لے گی، اگرچہ اپنی محنت سے کم، عمران کی محنت سے زیادہ۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک مسلم لیگ کے ووٹ بینک میں شامل نہیں ہوا، بلکہ تحریک انصاف سے جا ملا۔ عمران کی پچھلے ڈیڑھ مہینے کی حرکات و سکنات کا نیٹ نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ پیپلزپارٹی کا ناراض ووٹر کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے پھر سے لوٹ آیا ہے۔ ہاں، عمران کا وہ ووٹ خوب پکا ہے جو ڈیفنس ،گلبرگ اور بحریہ ٹاؤن میں آباد ہے۔ جس جس شہر میں بھی یہ کالونیاں ہیں، وہاں وہاں عمران کا ووٹ بینک کہیں نہیں جائے گا۔ لیکن یہ ووٹ بینک سیٹیں دلوانے کے لئے کافی نہیں ہے۔ لاہور میں ان پوش سوسائٹیوں کی ساری آبادی اشرافیہ نہیں، مڈل کلاس سے بھی ہے اور اردگرد کے مڈل کلاس علاقے بھی ملحق ہیں چنانچہ یہاں سے ایک سیٹ عمران کو ملی تو دوسری نواز لیگ لے اڑی۔

پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک پورا نہیں تو بڑی حد تک واپس آگیا ہے۔ وہ اعتماد سے اپنی تنظیم نو کرسکتی ہے اور الیکشن کی معرکہ آرائی کے لئے صف آراء بھی ہو سکتی ہے لیکن ہاں، ایک رکاوٹ ہے۔ کائرہ، وٹو، بسرا کھوسا ٹائپ کی چیزیں وہ رضا کارانہ طور پر تحریک انصاف میں جمع کرا دے یا قادری، چوہدری کمپنی کے حوالے کر دے۔ وہ بھی خوش، یہ بھی خوش، آپ بھی خوش!

__________________________

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں بھوکے ننگے کم اور پاکستان میں زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 20 سال پہلے بھارت میں فاقہ کش آبادی 21 کروڑ سے زیادہ تھی جواب کم ہو کر (حالانکہ ملک کی بڑھتی آبادی کے لحاظ سے یہ گنتی اب 27,26 کروڑ ہونی چاہئے تھی ) 19 کروڑ ہو گئی ہے جبکہ اسی دوران پاکستان میں روٹی سے محروم آبادی میں38 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

غربت میں کمی ہی نہیں بھارت ، تعلیم‘ صحت، صنعت اور آسائش زندگی ہر اعتبار سے ترقی کر رہا ہے جس کی وجہ یہ نہیں کہ بھارت کے لوگ پاکستانیوں سے زیادہ ''قابل'' ہیں بلکہ بھارتیوں کی ایک ''محرومی'' وجہ ہے۔ ایسی محرومی جو اسے شروع دن سے ہے اور جس کے لئے دعا ہے کہ ہمیں بھی ملے۔

بھارت میں کوئی ایوّب، کوئی مشرف، کوئی مٹّی پاؤ، کوئی مولوی ابو الفساد، کوئی ارب پتی ترین، کوئی کوکین خان نہیں ہے۔ وہاں بپاشا تو ہوتی ہے لیکن پاشا ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ بس یہی اس کی محرومی ہے جو دوسری محرومیوں کو دور کئے چلی جا رہی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ''نئی بات''

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.