.

سعودی خواتین ترقی کی راہ پر!

خالد المعینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فوربس مڈل ایسٹ نے اپنی 2014ء کی عرب دنیا کی سب سے طاقتور دو سو خواتین کی فہرست میں ستائیس سعودی خواتین کو شامل کیا ہے۔ ان میں خاندانی کاروبار کرنے والی خواتین سے لے کر سرکاری عہدوں اور کارپوریٹ دنیا میں انتظامی عہدوں پر فائز شخصیات شامل ہیں۔ اس فہرست میں مصر سے سب سے زیادہ انتیس شخصیات شامل ہیں۔ سعودی عرب دوسری نمبر پر ہے اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات چھبیس خواتین کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

ان سعودی خواتین کی فوربس کی فہرست میں شمولیت اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ مختلف شعبوں میں ترقی کر رہی ہیں۔ گذشتہ پانچ عشروں کے دوران لڑکیوں کی ثانوی سطح کی تعلیم کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ماضی میں ان میں بہت سی طالبات اپنے وطن میں تعلیمی سہولتوں کے فقدان کے سبب اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک نہیں جا سکتی تھیں۔ جو بعض خاندان اپنی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلا سکتے تھے، انھوں نے انھیں ہمسایہ عرب ممالک میں بھیجا۔ وہ خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے لوٹیں اور وہ اپنے اپنے شعبوں میں بانی ہو گئیں۔

پھر 1970ء کا عشرہ آیا اور تیل کی دولت دریافت ہوئی۔ دنیا بھر سے بہت سے لوگ سعودی مملکت کی ترقی کا حصہ بننے کے لیے آئے۔ آغاز میں ترقی کے عمل میں خواتین کی موجودگی قابل ذکر حد تک نہ ہونے کے برابر تھی۔ تاہم حکومت کی جانب سے خواتین کی تعلیم کے لیے رقوم مہیا کرنے کے عزم کے بعد ملک بھر میں کالج اور جامعات قائم ہو گئیں۔

بہت سے خاندانوں نے اپنی خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے لیے حوصلہ افزائی کی اور انھوں نے حال ہی میں اعلان کردہ شاہ عبداللہ اسکالرشپ پروگرام سے استفادہ کیا ہے۔ اب سخت گیروں اور کٹڑ لوگوں کی جانب سے عاید کردہ پابندیاں اور کنٹرول اس حقیقت کے ادراک کے بعد کمزور پڑ رہا ہے کہ سعودی مملکت معاشرے کے ایک حصے کو پسماندہ رکھ ترقی نہیں کرسکتی ہے۔

کوئی بھی معاشرہ خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ہے۔ آج قانون سازی اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی کوششوں کی بدولت خواتین کو بنک کاری،کاروبار، صنعت، تعلیم، تدریسی تحقیق اور طب کی دنیا میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

معاشرے کے لیے ضرر رساں

تاہم ابھی خواتین کے خلاف اور ان کے کام کرنے کی راہ میں حائل تعصبات کے خاتمے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ خواتین کے بارے میں منفی رویّے نے ہمارے معاشرے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ہم افرادی قوت میں ان کی مکمل شمولیت کو زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔

اس وقت اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ان خواتین کی بھرپور مدد کی جائے جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اور کاروباری ماحول میں کام کرنے کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس نعرے کو بھی اپنے ذہنوں سے محو کرنے کی ضرورت ہے کہ خواتین کم زور اور بے یار ومددگار ہیں۔

آج ہم سعودی خواتین سائنسدان، تجزیہ کار، انجینیرز، محققات، چیف ایگزیکٹو آفیسرز، چئیرویمن اور صنعت کار خواتین دیکھ رہے ہیں لیکن ان میں بہت سی خواتین اپنے خاندان کی دلچسپی یا حمایت کی وجہ سے ان مناصب تک پہنچی ہیں۔ انھیں خود یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ڈرائیونگ سیٹ تک پہنچ سکتی ہیں۔

لیکن جب تک معاشرہ بحیثیت مجموعی تعلیم، تفہیم، حوصلہ افزائی اور قوم کی تعمیر میں خواتین کے کردار کو تسلیم نہیں کرتا ہے، اس وقت تک خواتین کی ترقی کے عمل کو تیز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

معاشرے میں خواتین کو تسلیم کیا جانا محض صنف یا اس دنیا کو یہ دکھانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے کہ سعودی عرب میں خواتین کو کام کے مواقع مہیا کیے جا رہے ہیں بلکہ کام اور ملازمتیں کرنے والی خواتین کی صلاحیت پراعتماد میرٹ اور ان کی پیشہ واریت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

مسابقت بہت اہم ہے۔ خواتین کو ملازمتوں میں اپنی ہم صنفوں کے علاوہ مردوں کے مقابلے کی اجازت بھی دی جانی چاہیے۔ اس سے خدمات اور کام کا معیار بڑھے گا۔ہماری معیشت کا تنوع بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ صرف تیل پر ہی انحصار کافی نہیں ہے۔ معیشت کو متنوع بنانے کے لیے ہمیں اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل مرد وخواتین کی ضرورت ہے جو کاروبار اور صنعت میں کپتان بن سکیں۔ ہماری جامعات کی ستاون فی صد گریجوایٹس خواتین ہیں اور وہ ہماری آبادی کا پچاس فی صد ہیں۔ انھیں اس تناسب سے مردوں کے شانہ بشانہ آنا چاہیے۔ انھیں اگر دیوار سے لگایا جاتا ہے تو اس سے ہماری معیشت کا ایک بڑا نقصان ہو گا اور ہماری ترقی کا عمل بھی متاثر ہو گا۔

فوربس مڈل ایسٹ کی لسٹ میں ستائیس سعودی خواتین کا نام آنا تو دراصل ایک نمونہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ بہت سی اور بھی خواتین ہیں جو ان ایسی ہی قابلیت اور صلاحیت کی حامل ہیں، زندگی کے میدان میں کامیاب ہیں اور وہ ہماری قوم کی ترقی کے عمل میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ انھیں ہماری مدد کی ضرورت ہے اور ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.