.

علی عبداللہ صالح، حوثی اور صنعا پر قبضہ

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں باہر سے حملہ کیا گیا اور اندر والوں نے پیٹھ میں چُھرا گھونپا۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے حملہ آوروں کے حق میں ریاست کے خلاف بغاوت کی جبکہ حوثیوں نے ہر طرف سے گولہ باری کی۔ صنعا پر ایک مغموم اور مشکل رات گزری۔ یہ ایک خطرناک آغاز ہے اور یہ پورے ملک کو خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔ یہ صورت حال کیوں اور کیسے پیدا ہوئی؟ اس کی بہت سی تفصیل ہے جس کے نتیجے میں حوثیوں نے محاصرہ کیا اور حکومت کا دھڑن تختہ ہو گیا۔

پہلے نمبر پر تو ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یمن میں طویل عرصے تک برسر اقتدار رہنے والے علی عبداللہ صالح کو بآسانی اقتدار سے نکال باہر نہیں کیا گیا تھا۔ دو سال ہونے کو آئے ہیں۔ وہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے ملک کی داخلی صورت حال کو تہس نہس کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کے اتحادیوں میں حوثی اور انصار اللہ تنظیم ہے جس کی بعض خصوصیات لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور دولت اسلامی عراق وشام سے ملتی ہیں۔ موخر الذکر تنظیم مصالحت کو مسترد کر کے اپنے لیڈر کو خلیفہ بنانے پر اصرار کرتی رہی ہے۔

برطرف صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کا مقصد ان کی حکمرانی کے کسی بھی متبادل نظم حکمرانی کو سبوتاژ کرنا ہے اور وہ یہ سب کچھ اس امید کے ساتھ کر رہے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر واپس آئیں گے۔ حوثیوں کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ ایران کی مدد سے یمن کے شمالی علاقے میں اپنا کنٹرول چاہتے ہیں۔انھوں نے اس مقصد کے لیے بحران پیدا کیا، شہروں پر حملے کیے،احتجاجی مظاہرے کیے اور دارالحکومت میں سرکاری خدمات میں رکاوٹیں ڈالیں اور محاذ آرائی کی ہے۔

اگرچہ برائی کی طاقتوں کے ہر کہیں نشانات ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یمن میں متحارب فریق ہیں۔ شمالی، جنوبی، قبائلی اور سول جماعتیں ہیں جو بآسانی کسی ایک حکومت کے جھنڈے تلے جمع نہیں ہو سکتے ہیں۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ نئی حکومت کے سب سے بڑے دشمن علی صالح اور حوثی اتوار کے روز دارالحکومت کے بہت سے علاقوں میں اپنا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

وہ پورے یمن پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کی کامیابی عارضی ہو گی کیونکہ جن جماعتوں نے مصالحت کو قبول کیا ہے، وہ صالح، حوثی اور داعش کی بالادستی کو مسترد کر دیں گے۔

تبدیلی کو سبوتاژ

سابق صدر علی عبداللہ صالح کو عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد اقتدار سے نکال باہر کیا گیا تھا۔ ان کی رخصتی پر بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائل میں بھی اتفاق رائے پایا جاتا تھا مگر انھوں نے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سے یمن میں مختلف جماعتوں کے درمیان مصالحت اور اتحاد کے لیے خلیجی اقدام کو سبوتاژ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے۔ عبوری دور کے لیے یہ مصالحتی منصوبہ اگرچہ مکمل نہیں ہے بلکہ عارضی ہے اور یہ انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہونے اور بحران کے خاتمے تک کے لیے ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر نے موجودہ بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ حوثیوں اور ان کے پشتی بانوں کے اطمینان کے مطابق بہت سی رعایتیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن اب وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کا مقصد بحران کے کسی حل تک پہنچنا نہیں تھا بلکہ حکومت پر زبردستی قبضہ کرنا تھا۔

یہاں اقوام متحدہ سے متعلق ہی سوال پیدا ہوتا ہے جس نے یمن میں انتقال اقتدار اور مصالحت کو اسپانسر کیا تھا۔اس نے جنوبی یمن والوں کو یقین دہانیاں کرائی تھیں، ملک کو تقسیم ہونے سے بچایا تھا اور علاقائی ممالک اور سپر طاقتوں پر زور دیا تھا کہ وہ اس ملک کو سیاسی اور انسانی بحران کا شکار ہونے سے بچائیں۔

سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر کو حوثیوں اور ان کے حامیوں کی جانب سے اپنے ساتھ ہاتھ ہونے کے بعد کیا کرنا چاہیے۔ حوثیوں کے صنعا پر قبضے پر خاموشی بالکل ایسے ہی ہو گی جیسے عراق کے شمالی شہر موصل پر داعش کے قبضے کو قبول کر لیا گیا تھا۔

حوثیوں کی انصاراللہ ایک مذہبی انتہا پسند گروہ ہے۔ وہ اپنا کنٹرول چاہتی ہے اور اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتی ہے اور بہت سے یمنیوں کو تہ تیغ کرنا چاہتی ہے۔اس کی یمن میں موجودگی کا یہ مطلب ہو گا کہ آیندہ برسوں کے دوران بھی اس ملک میں گڑ بڑ جاری رہے گی۔ حوثیوں کو امداد مہیا کرنے والے ایران کا بھی یہی مقصد ہے۔ علی عبداللہ صالح کے حامیوں کا بھی یہی مقصد ہے۔

سابق صدر کے حامیوں کے بارے میں بھی یہی بات کی جا سکتی ہے جو افراتفری کو پھیلا رہے ہیں اور وہ خلیجی اقدام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اس میں علی صالح کو اپنی تمام دولت سمیت بھاگ جانے کا موقع فراہم کر دیا گیا تھا۔ وہ تین عشرے تک ملک کو چلاتے رہے تھے اور وہ ملک سے باہر سرکاری رقوم کو رکھا کرتے تھے۔ خلیجی اقدام کی ایک بڑی غلطی یہ تھی کہ اس میں صالح کے آدمیوں میں سے ایک عبد ربہ منصور ہادی کو ان کی جانشینی کے لیے قبول کر لیا گیا تھا حالانکہ ان کا نہ تو کردار تھا، نہ صلاحیت اور نہ سیاسی علم کہ جس سے وہ پیچیدہ تنازعات کے حامل اس ملک کو چلاسکتے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.