عید سے پہلے عید

ڈاکٹر فرقان حمید
ڈاکٹر فرقان حمید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان میں شیخ رشید نے گزشتہ کچھ عرصے سے عیدِ قربان سے قبل قربانی کی رٹ لگا رکھی ہے اور جیسے جیسے حقیقت آشکار ہوتی جا رہی ہے لگتا یہی ہے کہ اب ان کی ہی پاکستان کی سیاست میں قربانی ہونے والی ہے۔ دھرنوں کے تانے بانے کہاں کہاں ملتے ہیں اس کے بارے میں اب سب کچھ واضح ہونا شروع ہو گیا ہے اور چند ایک دنوں میں مزید صورتِ حال واضح ہو جائے گی اور سانحہ ماڈل ٹاون پر شک و شبہات کے جو بادل منڈلا رہے ہیں وہ بھی اب چھٹنے والے ہیں بس حکومت کو تھوڑی سی محنت کرتے ہوئے اس سازش کی تہہ تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو یہ بھی پتہ چلانے کی ضرورت ہے کہ سازشیوں نے کس طرح کرائے کے پولیس اہلکاروں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور پھر سانحہ ماڈل ٹاون وقوع پذیر ہوا۔ اس قسم کا ڈرامہ ایک سال قبل ایردوان حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے بھی رچایا گیا تھا لیکن ایردوان حکومت نے بڑی کامیابی سے ان سازشوں پر قابو پاتے ہوئے اپنی حکومت کو مزید مضبوط بنالیا تھا۔ نواز حکومت کو بھی ترکی ہی کی طرح کی پالیسی اپناتے ہوئے ان سازشیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

عیدِ قربان سے پہلے قربانی کا تو تذکرہ میں نے کر دیا ہے لیکن اب ترکی سے ملنے والی ایک اچھی خبر جو عید سے پہلے ہی سب کے لئے عید کا باعث بنی ہے اس پر ایک نگاہ ڈال لی جائے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ترکی میں ایردوان کے صدر منتخب ہونے کے بعد احمد داؤد اولو نے ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے فرائض سنبھال لئے ہیں۔ احمد داؤد اولو جو ایردوان کے دستِ راست ہیں، اس سے پہلے ایردوان کابینہ میں وزیر خارجہ کے طور پر طویل عرصے تک فرائض سرانجام دے چکے ہیں نے عید سے قبل عید کا تحفہ دے کر لوگوں کے دل جیت لئے ہیں۔ یہ عید در اصل 49 ترک باشندوں کی داعش دہشت گرد تنظیم جسے اب دولتِ اسلامیہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے کی قید سے رہائی کا دوسرا نام ہے۔ یرغمالیوں کی داعش کی قید سے آزادی کی یہ کارروائی کسی بھی ایکشن فلم سے کم نہیں ہے۔ ترک خفیہ سروس نے ان یرغمالیوں کو کس طرح داعش کی قید سے آزاد کروایا؟ آئیے اس کارروائی پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔ یہ 11 جون 2014ء کی بات ہے جب عراق میں داعش دہشت گرد تنظیم نے شام کے بعد پورے علاقے میں اپنی موجودگی کا احساس دلوانا شروع کر دیا تھا اور اپنی پیش قدمی کو جاری رکھا ہوا تھا تو اس دوران چند ایک ممالک کے ساتھ ساتھ ترکی کے اندر سے بھی ترکی پر داعش دہشت گر دتنظیم کی پشت پناہی کرنے کے الزامات لگائے جا رہے تھے۔

ان الزامات کو لگانے میں شام کے صدر بشارالاسد پیش پیش تھے کیونکہ ترکی نے بشار الاسد کو ملک میں جمہوری اصلاحات کو متعارف کروانے اور اپنے اقتدار کو بچانے کی بروقت تجویز پیش کی تھی لیکن بشارر الاسد ناک نے ترکی کی ان تمام تجاویز کو مسترد کر دیا تھا اور عوام پر ظلم و ستم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیا تھا جس پر ترکی نے اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا تھا اور شام سے اپنے سفارتی تعلقات ہی منقطع کر لئے تھے۔ ترکی کی وجہ سے بشار الاسد کی ہونے والی سبکی بشار الاسد ہضم نہ کر پائے اور انہوں نے ایردوان پر داعش تنظیم کی حمایت کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے ایردوان سے اپنا بدلہ لینے کی کوشش کی لیکن عراق کے شہر موصل میں ترکی کے قونصل خانے پر داعش کے 900 عسکریت پسندوں نے دھاوا بولتے ہوئے قونصل خانے میں فرائض ادا کرنے والے 49 ملازمین کو یرغمال بنا لیا ۔ داعش کی جانب سے49 ترکوں کو یرغمال بنانے کے اس واقعے کے بعد ایردوان پر لگائے گئے تمام الزامات سے ہوا خود بخود نکل گئی اور الزامات میں ملوث چند ایک مغربی ممالک بھی اس صورتِ حال پر خاموش رہنے پر مجبور ہو گئے۔ اس واردات کے بعد یرغمال بنائے گئے 49 افراد کو قونصل خانے سے نکال کر کسی دیگر علاقے منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران ترکی کی خفیہ سروس MITنے اپنے ذرائع سے ان یرغمالیوں کا تعاقب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔

داعش نے ان یرغمالیوں کو MIT کی پہنچ سے دور رکھنے کے لئے ان یرغمالیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اور تیسری جگہ منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران وزیراعظم ایردوان نے ان یرغمالیوں کی رہائی کے لئے کئی بار اپیل بھی کی لیکن ان کی اپیل پر کسی نے بھی کوئی کان نہ دھرا۔ اس دوران ترکی کے وزیر دفاع عصمت یلماز نے تین اگست کو علاقے میں فوجی کارروائی کرنے کی دھمکی بھی دی تھی لیکن یرغمالیوں کی جانوں کے تحفظ کے باعث ترکی کو خاموشی ہی اختیار کرنا پڑی تاہم ترکی نے علاقے میں اپنے جاسوسوں، ڈرون طیاروں اور دیگر ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ یرغمالیوں میں دوشیر خواربچوں کی موجودگی کے باعث فوجی کارروائی سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومتِ ترکی نے ان یرغمالیوں کی بازیابی کے لئے علاقے کے قبائلی سرداروں کی بھی خدمات حاصل کیں لیکن یہ خدمات کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں۔

ترکی کی خفیہ سروس MIT نے اپنے تئیں ان یرغمالیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور کسی بھی غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے دور رہنے ہی میں اپنی عافیت سمجھی کیونکہ علاقے میں موجود کئی ایک غیر ملکی خفیہ سروسز صحیح معلومات فراہم کرنے کی بجائے ترکی کو اس معاملے میں مزید پھنسانے کی خواہاں تھیں تاکہ ترکی کو داعش دہشت گرد تنظیم کے خلاف بننے والے اتحاد میں فعال کردار ادا کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ترکی نے اس دوران پھونک پھونک کر آگے بڑھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران کئی ایک فوجی دستے سرحد پار کارروائی کے لئے بھی تیار رکھے گئے لیکن فوجی کارروائی کے بغیر ہی مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ترکی کی خفیہ سروس MIT نے ڈرون طیاروں اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں یرغمالیوں کے موصل میں ایک تین منزلہ عمارت میں موجود ہونے کا پتہ چلا لیا تھا اور پھر بڑے خفیہ طریقے سے ان تمام یرغمالیوں کو پہلے شام اور وہاں سے ترکی کے شہر شانلی عرفہ پہنچایا گیا۔ اس دوران ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوٖغلو جو آذربائیجان کے سرکاری دورے پر تھے خفیہ سروس کے سربراہ حقان فدان کی جانب سے اطلاع دئیے جانے کے بعد اپنا سرکاری دورہ ادھورا چھوڑتے ہوئے واپس ترکی تشریف لے آئے لیکن ان کا جہاز انقرہ لینڈ کرنے کی بجائے شانلی عرفہ لینڈ ہوا جہاں انہوں نے صبح کی کرنوں کے ساتھ ہی تمام یرغمالیوں کا استقبال کیا اور سب سے باری باری بغل گیر ہوئے اور پھر ان سب کو اپنے خصوصی طیارے کے ذریعے انقرہ لے آئے۔ وزیراعظم احمد داؤد اولو نے ان یرغمالیوں کی رہائی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے ترکی پرداعش کی حمایت کرنے کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخابات سے قبل بھی ان یرغمالیوں کو صدارتی مہم کے دوران استعمال کرنے کے جو الزامات لگائے گئے تھے وہ سب بھی غلط ثابت ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ترحالات کے باوجود ہم نے ترکی کے وقار پر کوئی حرف نہ آنے دیا اور قونصلر جنرل کی کنپٹی پر کئی بار پستول رکھنے کے باوجود قونصلر جنرل نے ہمت نہ ہاری اور ملک کی خاطر اپنی جان تک کی پروا نہ کی۔

بعد میں صدر ایردوان نے یرغمالیوں کو صدارتی محل میں شرف ملاقات بخشتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر داعش کے خلاف قائم ہونے والے اتحاد میں فعال کردار ادا کرنے کے لئے دباو ڈالا گیا تھا لیکن ہم نے جدہ کانفرنس میں اپنے ان یرغمالیوں کی وجہ سے اپنے اتحادیوں سے چند قدم پیچھے رہنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ یرغمالیوں کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچے لیکن ان کی رہائی کے بعد ترکی کی پوزیشن اب تبدیل ہو چکی ہےاور اب وہ علاقے میں اپنے استحکام کی خاطر تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے رہائی پانے والے یرغمالیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ترک قوم کو عید سے پہلے عید کا تحفہ پیش کر دیا ہے جس پر وہ خاص طور پر ترکی کی خفیہ سروس کے سربراہ اور کام کرنے والے تمام ملازمین کے مشکور ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں