.

میں داغی ہوں

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آزادی کی پہلی بڑی جنگ شروع ہوئی تو حکومت وقت نے آزادی پسندوں کو باغی قرار دیا۔ ان باغیوں کے خلاف علماء کرام سے فتوے حاصل کئے گئے۔ کچھ علماء و مشائخ حکومت کے ساتھ وفاداری میں اتنے آگے نکل گئے کہ انہوں نے اپنے مریدوں کے ہمراہ باغیوں کے خلاف ’’اعلان جہاد‘‘ کر دیا۔ ایسے ہی مشائخ میں سے ایک مخدوم شاہ محمود قریشی تھے جو شیخ بہائو الدینؒ ملتانی کی درگاہ کے گدی نشین تھے۔ 1857ء میں ہندوستان کے طول و عرض میں برطانوی سرکار کے خلاف بغاوت کے شعلے بھڑکے تو مخدوم شاہ محمود نے پہلے تو سرکار کو باغیوں کی سرگرمیوں کے متعلق خبریں فراہم کیں، پھر باغیوں کے خلاف جنگ کیلئے گھوڑے دیئے اور آخر میں کرنل ہملٹن کی قیادت میں باغیوں کی سرکوبی کیلئے خود ہی نکل کھڑے ہوئے۔ برطانوی سرکار نے اس وفاداری کے عوض مخدوم شاہ محمود قریشی کو تین ہزار روپے نقد اور بہت سی جاگیر بطور انعام عطا کی۔ شیخ بہائو الدین کا نام اور مقام اتنا بڑا تھا کہ ان کے مریدوں نے مخدوم شاہ محمود قریشی پر برطانوی سرکار کی نوازشات کو نظر انداز کر دیا لیکن یہ نوازشات تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ پھر اسی خاندان کے ایک چشم و چراغ مرید حسین کو برطانوی سرکار نے مجسٹریٹ درجہ اول اور بعد ازاں نواب کا خطاب عطا کیا۔ اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے مخدوم سجاد حسین قریشی جنرل ایوب خان کی بنیادی جمہوریتوں کے نظام کے تحت قومی اسمبلی میں آئے۔ انہوں نے اپنے بزرگوں کے نام پر ایک بیٹے کا نام شاہ محمود قریشی اور دوسرے کا نام مرید حسین قریشی رکھا۔ مخدوم سجاد حسین قریشی 1983ء میں شاہ محمود قریشی کو سیاست میں لے کر آئے۔

1985ء میں انہوں نے شاہ محمود کو پنجاب اسمبلی کا رکن بنوایا اور خود سنیٹر بن گئے ۔ بعدازاں وہ پنجاب کے گورنر بھی بنے۔ 1988ء میں شاہ محمود قریشی دوسری مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن بنے تو انکے والد گورنر پنجاب تھے ۔ شاہ محمود قریشی کا شمار وزیر اعلیٰ پنجاب کے بہت قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ 1990ء کے انتخابات کے بعد شاہ محمود صوبے کے وزیر اعلیٰ بننے کے متمنی تھے ۔ ان کی تمنا پوری نہ ہوئی۔ غلام حیدر وائیں وزیر اعلیٰ بن گئے۔1993ء میں فوجی جرنیلوں کے ساتھ محاذ آرائی کے باعث نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی شاہ محمود قریشی پیپلز پارٹی میں آ گئے اور ملتان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو کر وزیر بن گئے ۔ 2008ء کے انتخابات کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے لیکن آصف علی زرداری نے انہیں وزیر خارجہ بنا کر ’’انتظار فرمائیے‘‘ والوں کی قطار میں کھڑا کر دیا ۔ جب انہیں پیپلز پارٹی کی حکومت خطرے میں نظر آئی تو انہوں نے بلاتاخیر وزارت خارجہ چھوڑ دی ۔ 1985ء کے بعد انہوں نے کبھی نواز شریف اور کبھی محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹے۔ نواز شریف اور محترمہ بےنظیر بھٹو کو گرفتاریوں اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا لیکن حیران کن طور پر شاہ محمود قریشی ان مشکلات سے دور رہے ۔ انہی جیسے سیاست دان تھے جن کے خلاف عمران خان نے اعلان جنگ کر دیا ۔ عمران خان نے ایک طرف جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں پر تنقید کی تو دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں شامل موقع پرستوں کو للکارنا شروع کر دیا ۔ اکتوبر 2011ء میں عمران خان نے لاہور میں کامیاب جلسے کے بعد ان موقع پرستوں کی توجہ حاصل کرنی شروع کر دی ۔

کچھ ہی عرصے میں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ باریاں لینے والے شاہ محمود قریشی نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ۔شاہ محمود قریشی کی یہ چھلانگ ان کے ایک پرانے سیاسی حریف جاوید ہاشمی کیلئے بہت بڑا چیلنج تھی۔ کچھ عرصے میں جاوید ہاشمی بھی نواز شریف کو چھوڑ کر عمران خان سے آ ملے۔ وہ عمران خان کی پارٹی میں صدر بن کر شاہ محمود قریشی سے کچھ اونچے ہو گئے لیکن شاہ محمود تو سب سے زیادہ اونچا ہونے کی تمنا رکھتے تھے ۔ کچھ ہی عرصے میں انہوں نے جاوید ہاشمی کو نیچا دکھانا شروع کر دیا۔

2013ء کے انتخابات کے کچھ دنوں بعد ہی جاوید ہاشمی کو پتہ چل چکا تھا کہ انکی پارٹی کے اندر نواز شریف حکومت کو کسی نہ کسی طریقے سے گرا دینے کی خواہش زور پکڑ رہی ہے ۔جاوید ہاشمی کا خیال تھا کہ جلدی نہ کی جائے، نواز شریف کو غلطیاں کرنے کا موقع دیا جائے اور کم از کم دو ڈھائی سال کے بعد نواز شریف کو آئینی طریقے سے نکالنا آسان ہو جائے گا ۔ اس دوران لانگ مارچ کے منصوبے بننے لگے ۔ پاکستان کے اندر اور باہر کچھ خفیہ ملاقاتیں شروع ہو ئیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد عمران خان کی سیاسی طاقت اور ڈاکٹر طاہر القادری کے پروانہ صفت جانثاروں کی مدد سے نواز شریف کو اقتدار کے ایوانوں سے بھگانا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ عمران خان اور طاہر القادری کے کندھوں پر چڑھ کر نواز شریف حکومت کو للکارنے کا منصوبہ بنانے والے اکثر کھلاڑی پرویز مشرف کی باقیات میں شامل تھے ۔ ان باقیات میں ایک ایسے صاحب بھی شامل تھے جن کی عملی زندگی کا سفر بنک آف امریکہ سے شروع ہوا اور پھر انہیں مشرف نے گورنر سندھ بنا دیا۔ گورنر سندھ کے عہدے سے وہ چیئرمین سینٹ کے عہدے پر پہنچے۔ پھر مشرف نے انہیں نگران وزیر اعظم بھی بنا دیا۔ مشرف کا اقتدار ختم ہونے کے بعد یہ صاحب بھی نظروں سے اوجھل ہو گئے لیکن ایک دن انہیں طاہر القادری کے ساتھ دیکھ کر عمران خان نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا ’’کہیں ہمارے ساتھ دھوکہ تو نہیں ہو گا؟‘‘

عمران خان کو طاہر القادری پر اعتماد نہ تھا اور طاہر القادری کے خیال میں عمران خان قابل اعتبار نہ تھے لیکن چودھری شجاعت حسین اور شیخ رشید احمد جیسی صادق و امین شخصیات کی ضمانتوں پر عمران خان اور طاہر القادری کا لانگ مارچ شروع ہوا۔ پھر یہ لانگ مارچ دھرنے میں بدلا اور جب جاوید ہاشمی کو اس دھرنے میں سے سازشوں کی بو آنے لگی تو وہ عمران خان کے کنٹینر سے باہر نکل آئے۔ نجانے ہاشمی صاحب سے سازشوں کی بو برداشت نہ ہوئی یا انہوں نے اپنی پچاس سالہ سیاست کو بچانے کی آخری کوشش کی لیکن انہیں یہ ماننا ہو گا کہ عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے کی ناکامیوں میں بہت سی کامیابیاں پنہاں ہیں۔ اس دھرنے کا مقبول ترین نعرہ ’’گو نواز گو‘‘ تھا۔ یہ نعرہ ایک فرد کے خلاف تھا۔ لیکن اس سے بھی اہم نعرہ شاہ محمود قریشی نے متعارف کروایا اور وہ تھا ’’میں داغی ہوں‘‘ یہ نعرہ ایک فرد نہیں پورے طبقے کے کردار کا نمونہ ہے۔ یہ مفاد پرستوں کا طبقہ سیاست اور صحافت میں چھایا ہوا ہے۔ اس طبقے کی وفاداری صرف اور صرف اپنے ذاتی مفاد کے ساتھ ہے۔ یہ طبقہ 1857ء سے لے کر آج تک اپنوں کے خلاف غیروں کا ساتھ دیتا آیا ہے۔ کبھی مسلم لیگ (ن) میں جلوے دکھاتا ہے، کبھی پیپلز پارٹی کے جیالوں کے کندھوں پر چڑھ جاتا ہے اور کبھی تحریک انصاف کے متوالوں کو بےوقوف بناتا ہے۔ عمران خان اور طاہر القادری کا دھرنا نواز شریف حکومت تو ختم نہ کر سکا لیکن مفاد پرستوں اور ابن الوقتوں کے چہروں پر لگے داغ ضرور سامنے لے آیا۔

یہ داغ صرف اہل نظر پہچان سکتے ہیں کیونکہ جب عمران خان کنٹینر پر چڑھ کر محترمہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور مشرف کے سابقہ ساتھیوں کے جھرمٹ میں ’’اسٹیٹس کو‘‘ توڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو مجھے شاہ محمود قریشی پر پیا ر آنے لگتا ہے جس نے اپنے ہی طبقے کے خلاف نعرہ لگادیا ’’میں داغی ہوں‘‘ مجھے امید ہے کہ لاہور کے جلسے میں شاہ محمود قریشی ایک دفعہ پھر زور زور سے ’’میں داغی ہوں‘‘ کا نعرہ لگائیں گے اور یہ نعرہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں شامل بہت سے داغ زدہ چہروں کو توجہ کا مرکز بنائے گا۔ شاباش شاہ محمود قریشی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.