’’نئے افغان حکمران امریکہ پر اعتماد نہ کریں‘‘ حامد کرزئی

منو بھائی
منو بھائی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بطور صدر افغانستان اپنے الوداعی خطاب میں حامد کرزئی نے امریکہ کو دھوکے باز اور مطلبی ملک قرار دیا اور اپنے ملک کے نئے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ وہ امریکہ پر ہرگز اعتماد اور اعتبار نہ کریں۔ اپنی تیرہ سالہ حکومت کے تجربات بیان کرتے ہوئے حامد کرزئی نے بتایا کہ امریکہ افغانستان میں امن نہیں چاہتا۔ وہ یہاں اپنے سامراجی مقاصد حاصل کرنے کے در پے ہیں اور خود اپنے امریکی مفادات کے حصول میں امریکہ نے یہاں دو ہزار امریکی زندگیاں ضائع کیں اور اربوں ڈالروں کا نقصان برداشت کیا۔ حامد کرزئی نے یورپی ملکوں کی افغانستان میں قربانیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا اور خود اپنے افغان نگران عملے کا بھی ذکر نہیں کیا جس کے تیرہ سالوں کے دوران پندرہ ہزار لوگ مارے گئے۔ حامد کرزئی نے امریکہ کے علاوہ اپنے پڑوسی ملکوں خاص طور پر پاکستان کے خلاف برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر امریکہ اور پاکستان امن لانے کی کوشش کرتے تو افغانستان میں امن آ چکا ہوتا۔ انہوں نے ہندوستان کی امداد کا شکریہ ادا کیا۔

حامد کرزئی حسب معمول اس الوداعی خطاب میں بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ افغانستان کی مدد کے نام پر امریکہ نے خود اپنے مفادات اورمقاصد کی حفاظت کی کوشش کی ہے۔ سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر جیمز کنگھم نے صدر کرزئی کے خطاب کو افسوس ناک اور اداس کر دینے والا قرار دیا جو بہت حد تک احسان فراموشی کا مرتکب بھی ہوتا ہے۔ امریکہ کے خلاف ان کے بہتان بے بنیاد اور غیر ضروری تھے۔ اس کے باوجود امریکی سفیر نے حامد کرزئی کی حکمرانی کی تعریف کی۔ ’’بلاشبہ حامد کرزئی کے فرائض مختلف اور مشکل نوعیت کے تھے جو انہوں نے ذمہ داری کے ساتھ نبھائے۔ یقینی طور پر وہ اپنے ملک کی بہتری چاہتے ہیں اور یہ ان کا حق بھی ہے۔

اگرچہ سابق صدر افغانستان حامد کرزئی نئے صدر اشرف غنی کو صدارت کا چارج دیں گے مگر 56 سالہ حامد کرزئی ریٹائرڈ نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان کی نئی حکومت میں اپنا کوئی کردار رکھنا چاہتے ہیں اورکسی بھی عہدے پر اپنے فرائض سرانجام دے سکتے ہیں۔ عام خیال یہ بھی ہے کہ سابق صدر اپنی تیرہ سالہ حکومت کے دوران اپنے کچھ ذاتی مفادات کی حفاظت اور نگرانی کے لئے بھی نئی حکومت میں اپنا کوئی کردار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے بھائی پہلے ہی نئے صدر اشرف غنی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ سابق صدر حامد کرزئی کو افغانستان کی نئی حکومت کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کی جانب سے کچھ اندیشے لاحق ہوسکتے ہیں مگر یقینی طور پر وہ کچھ باہمی ’’مک مکا‘‘ کر لیں گے۔ سابق صدر حامد کرزئی نے کہا کہ ان کے ساتھیوں نے امریکہ کےساتھ باہمی سلامتی کا معاہدہ کرنے سے انکار کیا تھا اور اشرف غنی کا کہنا ہے کہ وہ عہدے کا چارج لینے کے بعد اس معاملے میں امریکہ سے بات کریں گے۔ حامد کرزئی نے اپنے آخری خطاب میں یہ بھی کہا کہ افغانستان کی سلامتی براہ راست امریکہ اور پاکستان کی سلامتی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ افغانستان جو جنگ لڑ رہا ہے وہ دنیائے تمام ملکوں کے عوام کے مفاد میں ہے اور عالمی طاقتوں کی خارجہ پالیسیوں میں اس کا مناسب اور موزوں لفظوں میں اظہار ہونا چاہئے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں