.

کشمیر کا ذکر عالمی فورم پر

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مجھے یقین ہو گیا ہے کہ مجید نظامی زندہ ہیں اور ان کا نظریہ بھی زندہ ہے۔ جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم نواز شریف نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کیا اور پاکستان کے موقف کو سربلند کیا۔ انہوں نے انتہائی تاسف کا اظہار کیا کہ وہ اپنے ہمسائے سے بہتر تعلقات کی آرزو رکھتے تھے ا ور اس کے لئے انہوں نے پوری سنجیدگی سے کوشش بھی کی لیکن بھارت نے وزرائے خارجہ کی ملاقات کو منسوخ کر کے ان کی آرزئوں پر پانی پھیر دیا۔

مجھے رہ رہ کر یاد آتا ہے کہ مجید نظامی نے اپنی چھیاسویں سالگرہ کی تقریب میں دعا کی تھی کہ خدا کرے، کشمیر ان کی زندگی میں آزاد ہو جائے۔ مجید نظامی زندہ ہیں کہ ان کا نظریہ زندہ ہے، یہ نظریہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گونج رہا ہے۔

چھ سال کے وقفے سے کسی پاکستانی مندوب کی زبان سے کشمیر کا ذکر چھڑا ہے۔ جنرل ضیا الحق کے پورے دور میں مسئلہ کشمیر کو پس پشت دھکیل دیا گیا اور محمد خان جونیجو نے اس سکوت کو توڑا اور جنرل اسمبلی میں پہلی بار تقریر کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کا ذکر کیا۔ اب میاں محمد نواز شریف نے نہ صرف کشمیری نژاد کے طور پر بلکہ پاکستانی عوام کی امنگوں کے ترجمان کے طور پر کشمیر کے حل پر اصرار کیا ہے۔

یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ ادھر پاکستان نے کشمیر کا نام لیا، ادھر بھارت کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ بھارت سمجھتا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے، نریندر مودی کا تو انتخابی نعرہ تھا کہ وہ اقتدار میں آ کر بھارتی آئین میں ترمیم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیں گے اور اسے مکمل طور پر ہڑپ کر لیں گے۔ بھارت نے شروع ہی میں منادر، جوناگڑھ اور حیدر آباد کی ریاستوں کو ہڑپ کر لیا تھا۔

نریندر مودی کی تقریر کی باری ایک روز بعد آئی، انہوں نے پہلے سے لکھی ہوئی تقریر میں ترمیم کی اور وزیر اعظم نواز شریف کا جواب دینا ضروری سمجھا، انہوں نے بھارت کے روائتی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر کوئی تنازعہ ہے تو وہ دو طرفہ مسئلہ ہے، اسے اقوام متحدہ میں اٹھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا، مودی نے تلخ اور زہریلے لب ولہجے میں کہا کہ پاکستان کو اس مسئلے پر دو طرفہ بات چیت کے لئے فضا ساز گار بنانی چاہئے۔کوئی مودی صاحب سے پوچھے کہ جب یہ طے ہو چکا تھا کہ دونوں ملک وزرائے خارجہ کی سطح پر ٹوٹے ہوئے مذاکرات کا رشتہ پھر سے بحال کریں گے تو اس نے ان مذکرات کو منسوخ کیوں کیا۔

بھارت کی عادت ہے کہ وہ ایک طرف کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر حل کرنے سے گریز کرتا ہے ا ور دو طرفہ مذاکرات کا موقف اپناتا ہے لیکن جب دونوں ملک باہم مل بیٹھنے کا تہیہ کرتے ہیں تو بھارت کسی نہ کسی بہانے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے انکار کر دیتا ہے۔ 1948ء سے لے کر آج تک کی تاریخ کا خلاصہ یہی ہے کہ بھارت سے براہ راست بات چیت شروع ہونے لگتی ہے تو وہ اڑی کرنے لگتا ہے کہ کشمیر پر بات نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ ا سکا اٹوٹ انگ ہے۔ اب تو بھارت نے کھربوں روپے خرچ کر کے ایک لابی کھڑی کر لی ہے جو پاکستان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ کشمیر تو کیا، واہگہ کی لکیر کو بھی بھول کر بھارت سے تعلقا ت استوار کرے۔ اور اس کی ایک ذیلی ریاست کا درجہ قبول کر لے۔

کشمیر عالمی تنازعے سے دو طرفہ مسئلہ کیسے بنا، یہ ایک دلچسپ گورکھ دھندا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیر پر پہلی جنگ چھڑی تو یہ بھارت تھا اور اس کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو تھے جنہوں نے اس مسئلے کے حل کے لئے اقوام متحدہ سے رجوع کیا، وہاں سلامتی کونسل نے سیز فائر کی قرارداد اس شرط کے ساتھ منظور کی کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک استصواب ہو گا تاکہ کشمیری اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں اور پاکستان یا بھارت کسی ایک کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کر لیں۔ کشمیر پر ہی دوسری جنگ چھڑی تو پھر بھارت ہی تھا جس نے سلامتی کونسل سے سیز فائر کی بھیک مانگی، یہ ستمبر 1965ء کا قصہ ہے۔ اسی مسئلے پر بھارت نے سووئت روس کی ثالثی کو قبول کیا اور معاہدہ تاشقند پر دستخط کئے۔

معاہدہ تاشقند کی غلط تشریح بھی بھارت نے ہی کی کہ اس میں تمام تنازعات کو طے کرنے کے لئے باہمی بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کا اصول طے پایا تھا۔ جبکہ اس معاہدے میں بھی یہ صراحت کی گئی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر دونوں ملک اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ جب یہ بنیاد اس معاہدے میں بھی موجود ہے تو پھر صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رو سے طے ہونا چاہئے ا ور اس کے لئے آزادانہ ، منصفانہ، غیر جانبدارانہ استصواب کا انعقاد ہونا چاہئے۔ بھارت نے یہاں بھی ایک پخ لگائی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کئی انتخابات ہوئے اور ان میں کشمیریوں نے حصہ لے کر یہ ثابت کیا کہ انہیں بھارت کے اندر رہنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بر صغیر میں برطانوی استعمار میں ہونے والے انتخابات کا مطلب یہ تھا کہ متحدہ ہندوستان کے لوگ ملکہ معظمہ کی غلامی میں رہنا چاہتے ہیں تو پھر انگریز استعمار یہاں سے رخصت کیوں ہوا۔
کسی استعمار کی غلامی کے اندر ہونیو الے انتخابات کواستصواب کا بدل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بھارتی وزیر اعظم نے عالمی فورم پر کتنا بڑا جھوٹ بولا کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے سیلاب زدگان کی مدد کی پیش کش بھی کی تھی، جس وزیر اعظم نے تین دن تک کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کو ڈوبنے کے لے بپھرے ہوئے دریائے جہلم کے سیلاب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور جس نے ریسکیو شروع بھی کیا تو اپنی فوجی چھائونیوں میں ڈوبی ہوئی فوج کا۔۔ تو اس نے آزاد کشمیر کی کیا خاک مدد کرنا تھی۔

وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے، اب مودی صاحب اس پر تڑپتے رہیں گے، بھارتی سیاستدان اور میڈیا گرجتا برستا رہے گا مگر یہ تو طے ہو گیا کہ کشمیر ایک عالمی تنازعہ ہے اورا سکا حل بھی سلامتی کونسل کے فیصلے مطابق ایک آزادانہ استصواب کے ذریعے ہی ممکن ہے، امن کی آشا کے نشے سے چور، دونوں طرف کے دانشوروں، شردھالووں اور بھونپووں کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہئیں۔

مجھے خوشی ہے کہ مجید نظامی کا نظریہ کشمیر زندہ ہے۔ مجید نظامی کی فاتحانہ مسکراہٹ نے میرے رگ وپے میں بجلیاں دوڑا دی ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.