.

دھرنوں کا فالو اپ ورک اور ہوم ورک کے چیلنج

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت سے زیادہ مرضی کی جمہوریت، ادھورے آئین، دہرے تہرے نفاذ قانون اور خاندانی راج کو چیلنج کرنے والے اسلام آبادی دھرنے ہماری قومی سیاسی زندگی کی ایسی سرگرمی بنے ہیں، جن کا فالو اپ اختتام سے پہلے آ رہا ہے۔ الیکشن کے صرف 14 ماہ بعد ہی انتخابات کی متنازعہ حیثیت کو بنیاد بنا کر عمران خاں وزیراعظم کے استعفے پر اڑ گئے ہیں۔ انہوں نے دھرنوں کے فالو اپ کے طور پر انتخابی مہم جیسے جلسوں کا آغاز کر دیا ہے۔ کراچی اور لاہور میں اپنی عوامی طاقت کے مظاہروں کے بعد، میانوالی اور ملتان میں بھی جلسوں کا اعلان کر دیا۔ ناچیز یقین رکھتا ہے کہ عمران خان اور ڈاکٹر قادری کو وزیراعظم کے استعفے کی بجائے سردست وزیراعظم اور ان کی پشت پناہ پارلیمانی طاقتوں سے وہ کچھ منوانا چاہئے جس سے چٹختا اسٹیٹس کو کمزور پڑے مطلوب تبدیلی کا عمل تیز لیکن خاں صاحب کی اڑی بہت بڑی۔ رائے سازوں کے دلائل سے تو عمران کو سمجھ نہیں آیا، البتہ صورتحال نے ان میں یہ ابتدائی فہم پیدا کی تو ہے کہ ’’گو نواز گو‘‘ سے زیادہ اہم ’’گو نظام گو‘‘ ہے۔ وہ نظام جو مانا جانا نظام بد ہے، جس نے عوام کو غلام اور حاکموں کو بادشاہ شہزادے بنا دیا۔

نواز شریف تو اسٹیٹس کو کا ایک ستون ہیں، جبکہ مطلوب پورے نظام کو چیلنج ہے۔ جس طرح استعفے کے مطالبے مقابل، وزیراعظم کو پارلیمنٹ کی پشت پناہی سے تقویت ملی ہے، اسی طرح دھرنوں کے فالو اپ میں کراچی اور لاہور کے کامیاب جلسوں نے اس امر کی واضح تصدیق کی ہے کہ مڈل ہی نہیں لوئر مڈل کلاس عوام دشمن ادھوری جمہوریت پر مبنی نظام سے سخت بیزار ہے۔ یاد رکھا جائے کہ سیاسی ابلاغ کے علم کی رو سے جب کسی پیغام (ابلاغ) کا اثر نچلے متوسط طبقے میں سرایت کر جاتا ہے تو غرباء میں یہ تیزی سے پہنچنے لگتا ہے۔ بلاشبہ رائے سازوں اور تجزیہ نگاروں کی آراء اور دلائل کی روشنی میں وزیراعظم کا استعفیٰ متنازعہ ہے۔ بلکہ واضح جھکائو اس کی مخالفت میں ہے لیکن یہ بھی بالکل واضح ہے کہ ’’جاری نظام بد کی تبدیلی‘‘ اب فقط عوام کے دل میں مچلتی آرزو ہی نہیں، قرائن بتا رہے ہیں کہ یہ شوالا بن جائے گی۔ تبھی تو انتخابی مہم اور اس سے پہلے مکمل انقلابی انداز اختیار کرنے والے اسٹیٹس کو کے سب سے متحرک سیاست دان شہباز شریف یہ کہہ گئے کہ ’’انقلاب کیا امیر کیا غریب سب کو بہا کر لے جائے گا‘‘ نوشتۂ دیوار کی دوسری سطر وہ نہیں پڑھ سکے کہ طرح طرح کے عذاب مسلسل میں گھرے اور شدید ناانصافیوں کے شکار عوام صحیح یا غلط پُر عزم ہیں کہ ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔‘‘ انہیں اب کامل یقین ہے کہ ان کے صنم پتھروں کے ہیں جو ان کو کچھ نہیں دے سکتے اور عوام نے اپنا سب کچھ ان کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اس پر بھی ’’راج دیوتائوں‘‘ نے عوام کو محرومیوں کا پتلا بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اسی پر تو منیر نیازی نے کہا تھا

کج شہر دے لوگ وی ظالم سن ، کج سانوں مرن دا شوق وی سی

کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم تھے، کچھ ہمیں بھی مرنے کا شوق تھا

وگرنہ آئین کی موجودگی میں، ڈیموکریسی کی بجائے ’’فیملو کریسی‘‘ (فیملی رول) کیسے جگہ بنا سکتا تھا؟ کسی شک و شبہ سے بالاتر اب یہ ایک ثابت شدہ کیس ہے کہ سپریم کورٹ سے منسوخ ہونے والے نام نہاد این آر او کے ذریعے نظام بد میں ہاتھ رنگنے والے 840 وائٹ کالر کریمنلز نے ’’قومی مفاہمت‘‘ کے نام پر ملنے والی معافی سے فائدہ اٹھا کر اصلاح تو کیا کرنی تھی انہوں نے نہ صرف سپریم کورٹ سے این آر کی تنسیخ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہونے دیا بلکہ ان کے وائٹ کالر کرائم، بیڈ گورننس، کنبہ پروری، آئین و قانون سے روگردانی بحالی جمہوریت کے بعد الٹی کہیں زیادہ شدت سے ہونے لگی۔ 18 ویں ترمیم بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ بلدیاتی انتخابات کا نام سن کر ہی ان کی جان نکلتی ہے۔ ٹیکس اصلاحات ان کی سوچ سے باہر ہیں۔ میگا پروجیکٹس کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے اور ان کے Torsسے عوام کو آگاہ کرنا یہ ضروری نہیں سمجھتے۔ کتنے ہی اربوں کے کتنے ہی اسکینڈل منظر عام پر آئے، حج جیسے مقدس فریضے کی سرکاری ڈیلنگ کو بھی کالی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ سرکاری وسائل پر سیاسی شہزادے تیار ہو رہے ہیں۔

تعلیم پر کوئی توجہ نہ صحت پر قانون شکنی انتہا پر قانون سازی ناپید۔ تمام اہتمام اور حالات موجود لیکن رشوت کا بازار جاری رکھنے اور سفارش کلچر کو برقرار رکھ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے ای۔ گورننس سے مجرمانہ اجتناب۔ رائٹ ٹو نؤ (جاننے کے حق) کو آئینی تحفظ اور قانون سازی کے باوجود عوامی مفادات کی بنیادی اطلاعات تک آسان رسائی کے برعکس چھپ چھپائی کلچر جاری۔ 18 کروڑ کے ملک میں کوئی وزارت خارجہ سنبھالنے کے لئے وزیر خارجہ نہیں مل رہا۔ نئے نئے سفارتی چیلنج، پرانے اہداف کو ایڈریس کرنے کے مواقع خاموشی سے گزر گئے اور گزر رہے ہیں۔ جوڈیشل ایکٹوزم ختم، سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملداری کی رفتار اور عملدرآمد کرنے والوں کی سکت دونوں کم تر ہو رہی ہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے کہ تبدیلی کا عمل، اب فقط دھرنوں اور جلسوں کا محتاج نہیں۔ بلاشبہ انتہائی متنازعہ دھرنوں نے اس عمل کو تیز کیا ہے اور عمران خاں کا یہ نعرہ کوئی اتنا بھی غلط نہیں کہ ’’تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے۔‘‘ بہت واضح اشارے مل رہے ہیں کہ تبدیلی کا آغاز ہے۔ وی آئی پی کلچر چیلنج ہو گیا۔

لوئر مڈل کلاس جاگ گئی ہے۔ مڈل اور اپر مڈل کلاس متحرک۔ ’’راج دیوتا‘‘ اور ان کے حواری ایک انجانے خوف سے دوچار لیکن مجبوراً خود کو تبدیل کر ہی نہیں سکتے۔ سوال یہ ہے اور عام نہیں، ملین ڈالر کا سوال کہ جب اسٹیٹس کو مطلوب رفتار سے ٹوٹنا شروع ہوجائے گا تو مطلوب تبدیلی برپا کرنے کے لئے عمران خاں، علامہ قادری اور مختلف شعبوں میں تبدیلی کے علمبرداروں نے اسے سنبھالنے کے لئے کوئی ہوم ورک کیا ہے؟ یا تقریروں کے بلٹ پوائنٹس سے ہی کام چل جائے گا؟ وزیراعظم نواز شریف پر شدت سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اگر اسٹیٹس کو کی قوتوں کو مکمل شکست و ریخت سے بچا کر تبدیلی کے عمل میں پروفائل میں شامل رکھنا چاہتے ہیں تو وہ عمران خاں اور علامہ قادری کے مزید ’’منفی دبائو‘‘ کا انتظار نہ کریں بلکہ اسٹیٹس کو کی جن قباحتوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اور عمران اور قادری کے جن مطالبوں کو عوامی حمایت حاصل ہے، اس کے لئے جلد اور نتیجہ خیز کرنا شروع کر دیں۔ عمران خاں اب اصل اپوزیشن ہیں۔ ان پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اسٹیٹس کو کے متبادل، قابل عمل اور قابل قبول پروگرام سے قوم کو نا صرف آگاہ کریں بلکہ، اس کو عملی شکل دینے کے لئے پوری ذمہ داری سے ہوم ورک۔ ہر دو وزیراعظم اور عمران و قادری ورک اور ہوم ورک کے چیلنج سے دوچار ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.