.

معصوم بکرے اور ’’کھوچل‘‘ بکرے!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب سے عید الضحیٰ کا چاند نظر آیا ہے بکروں کی مائیں اپنے بکروں کی خیر منا رہی ہیں، مگر یہ بے وقوف بکرے ہیں کہ انہیں کچھ خبر نہیں کہ چند دنوں بعد ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے وہ کھانے پینے اور موج میلے میں لگے ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ تو سرعام مستیاں کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں انہیں تو خطرے کا اندازہ اس وقت بھی نہیں ہوگا جب ان کے خریدار ان کے دلالوں کے پاس پہنچیں گے اور ان میں سے اپنی پسند کا ’’بھارُو‘‘ پسند کر کے اسے گاڑی میں ڈال کر اپنے گھر لے جائیں گے یہ سمجھیں گےکہ شاید کوئی مہربان انہیں آئوٹنگ پر لے جارہا ہے، بہت سے خواتین و حضرات ایسے ہیں جن کے پاس دوسروں کو بے وقوف بنانے کا ایک کوٹہ ہوتا ہے وہ اس سے زیادہ استعمال کریں تو پکڑے جانے کا خطرہ ہوتا ہے، کیونکہ جو بے وقوف بن رہا ہوتا ہے اس کی بھی بے وقوف بننے کی ایک حد ہوتی ہے جب وہ حد کراس کی جائے تو بے وقوف بنانے والا پوری طرح ایکسپوز ہو جاتا ہے خواہ کتنے ہی خفیہ طریقے اور چالاکی سے دوسرے کو بے وقوف کیوں نہ بنا رہا ہو،، لیکن یہ بیچارے بکرے، گدھوں میں ان سے زیادہ عقل موجود ہے، یہ آخر دم تک بے وقوف بنتے چلے جاتے ہیں، چنانچہ جب ان کے خریدار انہیں ذبح کرنے کی نیت سے گھر لے کر جاتے ہیں تو باہر گاڑیاں کھڑی دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور وہ الٹا خریدار کو اپنا بھارو سمجھنے لگتے ہیں خواہ وہ ان سے پہلے ان جیسے بیسیوں بکرے ذبح ہی کیوں نہ کرچکا ہو۔

اس کے بعد جب وہ گھر میں بچوں کو دیکھتا ہے اور بچے اپنے جیسے اک معصوم سے بچے کے ساتھ کھیل کود میں مصروف ہو جاتے ہیں تو اس معصوم کی خوشی دیدنی ہوتی ہے اس وقت تو وہ خود کوفرش کی بجائے عرش پر محسوس کرنے لگتا ہے جب اس کے گلے میں رنگین ’’گانہ‘‘ باندھا جاتا ہے، پائوں میں جھانجریں پہنائی جاتی ہیں اسے مہندی لگائی جاتی ہے گوٹے کناری کی چادراسے اوڑھائی جاتی ہے اور پھر بچے اسے گھمانے پھرانے کے لئے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ معصوم بکرے آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہتے ہیں، مولا تم نے ہمیں اس دنیا میں ہی جنت میں بھیج دیا، ’’حالانکہ ان کےقصائیوں نے انہیں جنت میں بھجوانے کے لئے ایک عرصے سے اپنی چاقو چھریاں تیز کر کے رکھی ہوتی ہیں۔

تاہم یہ احوال بکروں اور خریداروں کے ایک طبقے کا ہے۔ دوسرے طبقے میں سفید پوش خریدار اور ’’کھوچل‘‘ قسم کے بکرے آتے ہیں چنانچہ عید سر پر آجانے کی وجہ سے یہ دو نوں پریشان ہیں، بکروں کی پریشانی کی وجہ تو یہ ہے کہ انہیں چھری تلے آنا ہے اور سفید پوش شرفا اس لئے پریشان ہیں کہ انہیں بھی چھری تلے آنا ہے۔ عید کے دن ایک لمبی قطار ان سے بھی زیادہ ان سفید پوشوں کے دروزے پر کھڑی ہوگی جن کی ہتھیلی پر وہ گوشت کی ایک ایک بوٹی رکھتے جائیں گے اور پھر ان کا جی چاہے گا کہ وہ کسی چوک میں خود ہتھیلی پھیلا کر کھڑے ہو جائیں تاکہ مہینے کے باقی ایام کے لئے گوشت خریدسکیں ان سفید پوش شرفا کو اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے ہر سال قربانی تو بہرحال کرنا ہوتی ہے۔ سو یہ سفید پوش بھی بقول ہمارے ایک دوست کے دراصل بکرے ہی ہیں اور یہ وہ سفید پوش بکرے ہیں جو ہر سال خود قربانی کا بکرا بنتے ہیں۔

ان دو ٹانگوں والے سفید پوش بکروں کی حالت زار دیکھ کر ہمارے متذکرہ دوست تو اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اصل بکرے بلکہ بکری تو یہی ہیں ان کے مقابلے میں چار ٹانگوں والے بکرے تو سراسر مزے میں ہیں کیونکہ انہیں نہ تو قربانی دینا پڑتی ہے اور نہ عید کے روز مہمان بھگتانا پڑتے ہیں۔ یہ بکرے اپنی بکریوں اور ’’لیلوں‘‘ کو تو عید کی شاپنگ بھی نہیں کراتے، بلکہ الٹا سفید پوشوں کے خرچ پر عید سے کئی روز پہلے مہندی لگا کر اورگوٹے کے کپڑے پہن کر گھر سے نکلتے ہیں اور انارکلی کی سیر کرتے ہیں انہیں زیادہ سے زیادہ بس ایک عید کے روزقصائی کے سامنے ذراسر جھکانا پڑتاہے جبکہ سفید پوش بکروں کی ساری عمر قصائیوں کے سامنے سرجھکائے گزر جاتی ہے۔

دو ٹانگوں والے سفید پوش بکروں اور چار ٹانگوں والے مراعات یافتہ بکروں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ موخر الذکر تمام عمر خوش و خرم بسر کرنے کے بعد ایک روز شہادت کی موت مرتے ہیں جبکہ اول الذکر روزانہ حرام موت مرتے ہیں مراعات یافتہ بکروں کو ایک سہولت یہ بھی حاصل ہے کہ بعض صورتوں میں ان کی قربانی جائز نہیں ہوتی اور یوں ان کی جان بچ جاتی ہے جبکہ ٹانگوں والے سفید پوش بکروں کی قربانی بہرصورت جائز ٹھہرتی ہے اور اس سلسلے میں کوئی شرعی عذر بھی ان کے کام نہیں آتا۔ دراصل معاملہ کچھ یوں ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور اپنا یہ ٹائٹل برقرار رکھنے کے لئے اسے بہرحال قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔

لیکن یارو! اللہ کو جان دینی ہے۔ یہ سطور لکھتے وقت مجھے اچانک احساس ہوا ہے کہ اشرف المخلوقات کی برادری سے تعلق رکھنے کے باعث ہم کچھ ڈنڈی مار گئے ہیں اور یہ بھول گئے ہیں کہ چار ٹانگوں والے یعنی اصلی بکرے سارے کے سارے سکھی نہیں ہوتے ان میں سے بعض تو آلام زمانہ سہتے سہتے سوکھ کر کانٹا ہو جاتے ہیں۔ یہ لاغر بکرے اگر شیروانی پہن کر اور پان کی گلوری منہ میں دبا کر کسی مشاعرے میں ’’آداب عرض، آداب عرض‘‘ کرتے ہوئے اپنا کلام سنائیں تو مشاعرہ لوٹ لیں کیونکہ اگر غور سے انہیںمنمناتے سنا جائے تو ان کی آواز میں سوزوگداز بھی بہت ہوتا ہے گزشتہ روز ہم نے ایک دنبہ دیکھا جس کی ہڈیاں نکلی تھیں ہم نے اس کے جسم میں گوشت کا سراغ لگانے کے لئے انگلیوں سے اسے ٹٹولا اور پھر برابر میں کھڑے ریوڑ کے مالک سے پوچھا ’’کیوں بھئی! یہ سچ مچ کا دنبہ ہے یا اسے مار مار کر دنبہ بنایا ہے؟‘‘ یہ سن کر دنبے نے گلے سے ایک آواز نکالی اور یہ آواز ایسی تھی جس میں کسی بھی ناکام عاشق کی غزل سے زیادہ سوزوگداز پایا جاتا تھا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.