.

نئی افغان حکومت کے لئے پاکستان کے مثبت اشارے

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کور کمانڈرز کانفرنس نے افغان امریکہ سیکورٹی معاہدے کو دیر پا امن کے لئے خوش آئند قرار دیا ہے۔ اس اعلان نے ان تمام شکو ک وشبھات کو باطل ثا بت کر دیا ہے جو پاک افغان تعلقات کے مستقبل کے بارے میں اٹھائے جا رہے تھے۔ افغان صدر کی تقریب حلف برداری میں صدر ممنون حسین نے شرکت کی۔ اس سے بھی دنیا کو یہ سگنل ملا کہ دونوں ہمسایہ ملکوں میں قربت کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔

نئی افغان حکومت نے امریکہ کے ساتھ جو سیکورٹی پیکٹ فائنل کیا ہے، اس کی رو سے بارہ ہزار کے قریب امریکی فوجی افغانستان میں قیام امن کے لئے ڈیوٹی انجام دیتے رہیں گے۔ اس معاہدے پر سابق افغان صدر حامد کرزئی آخر دن تک دستخط کرنے سے کتراتے رہے۔اگرچہ طالبان نے یہ کہا ہے کہ امریکہ ان کے ملک پر تسلط جمانا چا ہتا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ افغان حکومت ابھی اس قابل نہیں کہ وہ ملک کی سیکورٹی کو سنبھال سکے۔ عراق میںامریکی افواج کے انخلا کے بعد جو حا لات پیش آئے ہیں، خدا نہ کرے کہ یہی منظر افغانستان میں دہرایا جائے اور داعیش کی قسم کے گروہ اس ملک میں طوائف الملوکی کا بازار گرم کر دیں۔افغانستان میں سووئت روس کی شکست کے بعد کئی برس تک طوائف الملوکی کا عالم رہا، قیام امن کے لئے نواز شریف نے بھی اسلام ا ٓباد میں افغان گروپوں کو مدعو کر کے معاہدہ کرایا اور مکہ میں بھی بیٹھ کر امن معاہدے پر دستخط کئے گئے مگر باہمی خونریزی کا سلسلہ نہ رکنا تھا ، نہ رک سکا یہاںتک کہ طالبان اٹھے اور ملک پر چھا گئے، ان کے دور کو مکمل طورپر ، پر امن کہا جا سکتا ہے مگر نائن الیون نے دنیا کا نقشہ تبدیل کر دیا اور خاص طورپرافغانستان اور پاکستان کاا من درہم برہم ہو کر رہ گیا۔

پاکستان کے لئے افغانستان ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے، خاص طور پرجب بھی ہمیں بھارت کی جارحیت کاخطرہ درپیش ہوا تو ہمیں یہ اطمینان تھا کہ ہماری پشت بہر حال محفوظ ہے۔جنرل اسلم بیگ اور جنرل حمید گل نے افغانستان کو پاکستان کی اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا نام بھی دیا اور اس میں کسی کو کوئی شک بھی نہیں تھا۔پاکستان نے اپنے اس ہمسائے کی بقا اور سلامتی کی جنگ میں بے بہا قربانیاں پیش کیں، سووئت روس کے خلاف عملی طور پر جہاد میں حصہ لیا اور لاکھوں افغان مہاجرین کی آج تک میزبانی بھی کی جارہی ہے۔مگر وارا ٓن ٹیرر میں افغان حکومت نے امریکہ کے اثر و رسوخ میں پاکستان کو بد امنی کے لئے مطعون کرنا شروع کر دیا۔دوسری طرف بھارت نے بھی افغان امور میں اثرو رسوخ بڑھایا اور کابل اور اسلام آ ٓباد میں دوری پید اکرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیا، افغانستان میں کہیںبھی کوئی دھماکہ ہو جاتا تو اس کا الزام آئی ایس آئی پر لگا دیا جاتا۔ بھارت اس کھیل میں مہارت تامہ رکھتا ہے، اس نے یہی سبق افغانیوں کو بھی پڑھا دیا اور دو مسلمان ہمسایوں کو ایک دوسرے سے بدظن کر دیا۔ خاص طور پر افغان میڈیا تو پاکستان کے خون کا پیاسا دکھائی دیتا ہے۔اسے پاکستان کی برسوں کی قربانیوں کا کوئی احساس تک نہیں۔

نئے افغان امریکی معاہدے کے سلسلے میں حکومت پاکستان کو ہر سطح پر اعتماد میں لیا گیا ہے، باور کیا جا سکتا ہے کہ نیو ریارک میں وزیر اعظم نواز شریف ا ورامریکی نائب صدر جو بائیڈن کی جو ملاقات ہوئی ،ا س میں یہ مسئلہ سر فہرست تھا۔جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو پاکستان میںمتعین امریکی سفیر نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات میں پاکستان کے تمام تر تحفطات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ نواز شریف بطور وزیر اعظم اپنے اس ہمسائے کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کریں گے، اس لئے کوئی سنگین مسئلہ کھڑا نہیں ہو گا۔

امریکہ اور افغان حکومت کے ساتھ ہمار ایک مستقل جھگڑا حقانی گروپ کے سلسلے میں چلا آرہاہے۔پاکستان پر ان دونوں کا الزام یہ ہے کہ اس نے دہرا کردار اپنا رکھا ہے اور افغان جہاد کے لئے حقانی گروپ کی پشت پناہی کر رہا ہے جس نے شمالی وزیرستان میں مورچہ بندی کر رکھی ہے، اسی لئے امریکہ ایک عرصے سے شمالی وزیرستان میں فوجی ا ٓپریشن کے لئے دبائو ڈال رہا تھا مگر قرائن کہتے ہیں کہ سابق آرمی چیف جنرل کیانی نے امریکی دبائو میں آکر اس آپریشن سے گریز کیا۔اس رویئے کا یہ مطلب نہیں کہ پاک فوج کو شمالی وزیرستان میں موجود دہشت گردوں کاصفایا کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن پاک فوج یہ ا ٓپریشن اپنی مرضی اور اپنے وقت پر کرنا چاہتی تھی ، وہ امریکی ڈکٹیشن لینے کا تاثر نہیں دینا چا ہتی تھی۔نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے لئے اس وقت یہ آپریشن ناگزیر ہو گیا جب دہشت گردوںنے کراچی ایئر پور ٹ پر تباہی مچائی۔

آپریشن ضرب عضب شروع ہوا تو یہ سوال اٹھا کہ کیا پاک فوج حقانی گروپ کو بھی نشانہ بنائے گی یا گڈ اور بیڈ طالبان کا فرق ملحوظ رکھے گی۔آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے جچے تلے لہجے میں اس موقف کاا ظہار کیا کہ ہم ایک مخصوص وقت دیں گے تاکہ علاقے کی پر امن آبادی گھروں کو چھوڑ دے ، اس کے بعد ہمارے سامنے جو بھی آئے گا، اسے ہم اپنا دشمن تصور کریں گے۔اور حقیقت میں ہوا بھی یہی۔مگر جن لوگوںنے پاک فوج پر ہر صورت میں انگلیاں اٹھانی ہیں، وہ کبھی مطمئن نہیں ہوں گے، وہ اب بھی کہتے ہیں کہ حقانی گروپ کو فرار ہونے کا موقع فراہم کیا گیا حالانکہ جنرل باجوہ کا کہنا ہے کہ ہم نے آپریشن سے پہلے پورے علاقے کا اس طرح محاصرہ کر لیا تھا کہ کوئی شخص فوج کی اسکریننگ کے بغیر علاقے سے نکل نہیں سکتا تھا۔
جھگڑے کے لئے یہی ایک موضوع نہیں ، پاکستان کو تشویش ہے کہ افغانستان کے طو ل وعرض میں بھارت نے اپنے اڈے قائم کر کھے ہیں جہاں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے، یہ عناصر ایک طرف بلوچستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں ، دوسری طرف پاک فوج کو شمالی وزیرستان میںنشانہ بنا رہے ہیں۔

یہ مانناپڑے گا کہ افغانستان اب وہ ملک نہیں ہے جسے ہم اپنی دفاعی گہرائی خیال کرتے تھے، یہاں ایک تو بھارت کا اثرو رسوخ بڑھ چکا ہے، دوسرے یہاں امریکی خود بھی موجود ہیں۔ تاریخی طور پر پاکستان نے افغان سرحد پر کبھی فوج کا بڑا حصہ متعین نہیں کیا تھا مگر اب پاکستان اس سرحد سے غافل نہیں رہ سکتا،میری رائے میں ایک دن آئے گا کہ پاکستان کو ڈیورنڈ لائن پر کوئی آ ہنی باڑ نصب کرنا پڑے گی۔یہ کوئی انہونی بات نہیں، دنیا کے بیشتر ممالک نے سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے ایسی باڑ لگا رکھی ہے۔بھارت نے کشمیری خاندانوںکے درمیان یہ باڑ کھڑی کر دی ہے تو ہمیں افغانوںکے درمیان ایسی باڑ کھڑی کرنے سے کونسی اخلاقیات روکتی ہے۔

افغانستان میں جس طرح کی حکومت بنی ہے ، اس کی بنیاد ہی ٹیڑھی ہے، ایک صاحب صدر بن گئے ہیں ، دوسرے چیف ایگزیکٹو، اس انتظام کو چلانے کی ضمانت امریکی وزیر خارجہ جان کیری دیں گے اور وہی پاکستان کو بھی طفل تسلی دے رہے ہیں کہ کابل میں بھان متی کا کنبہ اس کے لئے کسی خطرے کا باعث نہیں ہو گا، یہ بات درست مانی جا سکتی ہے مگر خود امریکیوں کے ارادے کیا ہیں ، وہ ایک بے ا ٓب و گیا ہ ملک میں بارہ برس سے کیوں موجود ہیں، یہ اپنی جگہ پر ایک سوال ہے اور بڑے خطرے کی علامت بھی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.