.

بلاول کے بقول بھارت کو اسرائیلی ماڈل پسند ہے

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بلاول بھٹو زرداری نے پھر ایک زبردست بیان دیا ہے بھارت کو اس طرح کسی سیاستدان نے نہیں للکارا۔ بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ ہم بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک لڑیں گے۔ پاکستان میں بھارت کو دشمن سمجھنے والے سارے عوام بھٹو صاحب کا یہ جملہ نہیں بھولیں گے۔ یہ جملہ بھی یاد رہے گا جو بلاول بھٹو زرداری نے کہا۔ بھارت کو اسرائیلی ماڈل پسند ہے۔ وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ پاکستان بھارتی گجرات کی تحصیل نہیں ہے۔ یہ ایک واضح پیغام نریندر مودی کے لئے ہے جو اسے گجرات کے بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کی یاد بھی دلائے گا۔ امریکہ میں مودی پر مقدمے سے بڑی ایف آئی آر یہ بیان ہے جو اسے کیفر کردار تک پہنچائے گا۔
پاکستان کی سرحدی خلاف وزیوں میں عام شہری شہید ہوئے ہیں جن میں عورتیں بچے اور بوڑھے بھی ہیں۔ حیرت ہے کہ میں نے بہت دن پہلے لکھا تھا کہ بیرونی قوتیں اور امریکہ بھارت کو اسرائیل جیسا کردار دے چکا ہے۔ بھارت کشمیر کو فلسطین پہلے ہی بنا چکا ہے۔ اب اس نے پاکستان کو بھی فلسطین بنانے کی آرزو پال لی ہے۔ پاکستان کے لوگ اور پاک فوج کے جوان اور افسران قربانی دینا جانتے ہیں۔ قربان ہونے کی سرمستی آدمی کو بہادر بناتی ہے۔ پہلے زمانے کے مسلمان جب کسی دشمن کے ساتھ جنگ میں اترتے تھے تو کہتے تھے ’’یاد رکھو جتنا تم زندگی سے پیار کرتے ہو اس سے کہیں زیادہ ہم موت سے پیار رکھتے ہیں۔‘‘

عمران نے اس حوالے سے بھی بات کو سیاسی بنا دیا ہے۔ اس نے بھارت کو للکارنے کی بجائے نواز شریف کو دھمکی دے ڈالی ہے کہ تم بھارت کی اس ظالمانہ جارحیت پر خاموش کیوں ہو۔ نواز شریف کو خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ان کے کاروبار کو انگلستان، سعودی عرب، چین اور ترکی میں بھی فروغ ملے گا۔ کاروبار حکومت کو کاروبار عشق بنانا بھی سیاست ہے۔ واضح طور پر بھارت کو دھمکی دینا چاہئے کہ وہ سرحدی خلاف ورزیوں اور بے گناہ پاکستانی شہریوں کو شہید کرنے سے باز آ جائے ورنہ اس کا حشر اچھا نہیں ہو گا۔ پاک فوج الرٹ ہے صرف حکومت کی طرف سے اشارے کی منتظر ہے۔

نواز شریف نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران کشمیر کا ذکر کیا جس پر انڈین میڈیا نے کہا کہ نواز شریف کو تقریر آئی ایس آئی نے لکھ کر دی تھی۔ ظاہر ہے نواز شریف بھارتی ’’را‘‘ کی لکھی ہوئی تقریر تو نہیں پڑھ سکتے تھے۔ پاکستان میں بھارتی لابی کی تو یہی خواہش ہو گی۔ یہ بھی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ ہمیں اس کے لئے بھارتی ناراضگی کی پرواہ نہیں ہے۔

بلاول کی بات عمران خان سے بہت آگے کی ہے۔ ’’صدر‘‘ زرداری نے ٹھیک کہا ہے کہ ہسپتال بنانے کے بعد آدمی سیاستدان نہیں بن جاتا مگر اب ایسی ہی سیاست کا سامنا نواز شریف اور زرداری صاحب کو ہے۔ میرے خیال میں یہ مقابلہ بلاول بھٹو زرداری کرے گا مگر ایک کامیاب انتخاب لڑنے سے پہلے کئی انقلابی اقدامات بلاول کو کرنا ہوں گے۔ پنجاب کی طرف پوری توجہ دینا ہو گی۔ ناراض ساتھیوں کو منانے کی کوشش بہت ضروری ہے۔ ایک شرط یہ بھی ہے کہ خورشید شاہ کو الٹے سیدھے اور متضاد بیانات دینے سے روکنا ہو گا۔

تقریر کے لئے بھٹو سٹائل مقبول ہوا تھا۔ بے نظیر بھٹو کے انداز خطابت کو بھی پسند کیا گیا۔ ابھی بلاول کو پختگی اور شائستگی کی ضرورت ہے۔ اپنی یہ تربیت بھی خود اسے کرنا ہو گی۔ فطری اسلوب دوسروں کی مداخلت سے مصنوعی ہو جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے اندر کسی کو تقریر کرنا نہیں آتا۔ قمرالزمان کائرہ اور ڈاکٹر بابر اعوان اچھا بول لیتے ہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ کالم نگاری میں اپنا مقام بنا لیا ہے مگر بلاول خود اپنی رہنمائی کرے۔ اپنے والد سے کچھ سیکھنے سے گریز کرے۔ خود بخود کسی کی کوئی بات پسند آ جائے تو اسے اپنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

وہ بار بار بھٹو صاحب اور بے نظیر بھٹو کی قربانی کا ذکر کرتے ہیں تو کیا قربانی دینا صرف بھٹو خاندان کے لئے وقف ہو گیا ہے۔ اس کا نام بھی بلاول بھٹو زرداری رکھا گیا ہے جو بڑی آسانی سے عام ہو گیا ہے۔ خاص بھی ہو گیا ہے۔ کہتے ہیں بھٹوز کی عمریں کم ہوتی ہیں اور ان کی موت بالعموم غیرطبعی ہوتی ہے۔ بھٹو صاحب، بے نظیر بھٹو مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو۔ ایک صنم بھٹو رہ گئی ہیں۔

یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی وزیراعظم تھے مگر قربانی ان کے نصیب میں کہاں؟ کسی جیالے وزیر شذیر اور ممبر اسمبلی اور اہم آدمی نے قربانی کی کوشش نہ سہی خواہش بھی نہیں کی۔ یہ سارے دودھ پینے والے مجنوں ہیں۔ صرف ’’صدر‘‘ نے کہا تھا کہ میری قبر شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہو گی۔ اس جملے میں کئی باتیں مضمر ہیں۔ اپنے سارے بچوں کی اپنے قبیلے کی نسبت سے پہلے بھٹو کی نسبت انہوں نے دی ہے۔

قربانی کسی نے دی تو غریبوں اور عام لوگوں نے دی۔ خود سوزیاں کیں، مظاہرے کئے، کوڑے کھائے، میرے دوست اور بہت گہرے اور نظریاتی آدمی خاور نعیم ہاشمی نے کوڑے کھائے اور کبھی خود اس واقعہ کا ذکر نہیں کیا۔ تب وہ غریب آدی تھا۔ غریب دوست بھی تھا۔ اب بھی کوئی امیر کبیر نہیں ہے۔ جہانگیر بدر نے بھی کوڑے کھائے۔ تب وہ بھی عام ایک جیالا تھا۔ کئی دوسروں نے بھی کوڑے کھائے۔ قیدیں کاٹیں۔

بلاول نے بھارت کو للکارا ہے تو بھٹو صاحب یاد آئے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ الطاف حسین نواز شریف اسفند یار ولی مولانا فضل الرحمن سراج الحق بھی کوئی بات کریں۔ عمران نے تو بات کی ہے۔ وہ بھارتی سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیں گے۔ بھارت کی طرف سے سرحدی خلاف ورزی کی مذمت بہت ضروری ہے۔ مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے گول مول بات کی ہے مگر وزیر دفاع خواجہ آصف کہاں ہیں۔

این جی اوز والیاں نہیں بولیں۔ انہوں نے مختاراں مائی کے مبہم معاملے کو اٹھایا۔ سوات میں ایک لڑکی کو کوڑے لگنے کی مصنوعی واردات کے لئے واویلا کیا کہ اس طرح فنڈ دینے والے پاکستان کی بدنامی سے خوش ہوتے ہیں۔ بھارتی توپوں سے مرنے والی عورت ان کے خیال میں بالکل مظلوم نہیں ہے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.