.

ملالہ کو نوبیل انعام، انتہا پسندوں کے لیے دھچکا

خالد المعینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ کے روز سامنے آنے والے اعلان کے مطابق امسال امن کا نوبیل انعام پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی اور بھارتی کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر پیش کیا جائے گا۔ یہ اعلان بہت ساروں کو حیران کرنے والا نہیں ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والی سترہ سالہ ملالہ یوسفزئی نوبیل انعام حاصل کرنے والی دنیا سب سے کم عمر شخصیت ہے۔

ملالہ یوسفزئی کو 14 سالل کی عمر میں اس وقت طالبان نے سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا جب وہ اپنے سکول کے راستے میں تھی۔ ملالہ نے طالبان کے بچیوں کی تعلیم کے خلاف سخت گیر موقف کی مزاحمت کی تھی۔ اس لیے ایک روز اسے گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا۔

پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے ملالہ کو نوبل انعام کی مسحق قرار دیے جانے پر مبارکباد دی گئی ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ملالہ کو پاکستان کے لیے قابل فخر قرار دیا ہے۔ ملالہ پر حملے کے موقع پر پاکستان کے نوجوانوں نے بالعموم اور بچیوں نے بالخصوص ملالہ کے ساتھ موثر حمایت کا اظہار یکجہتی کیا تھا اور دہشت گردی کی مذمت کی تھی۔ سبھی نے بچیوں کی تعلیم کے حق میں آواز اٹھائی تھی۔ ایک پاکستانی نے اس موقع پر کہا تھا'' دہشت گردوں کے سوا سب لوگ اپنے بچوں کو سکول بھیجنا چاہتے ہیں۔''

اب ملالہ کو نوبیل انعام کا ملنا صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں انتہا پسندوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔ کہ ایک لڑکی نے جہالت کے پشتی بانوں کا راستہ روکا ہے، ہٹ دھرمی اور نفرت کا راستہ روکا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اصل جہاد روشنی اور ترقی کے لیے اسی ملالہ نے کیا ہے۔ ملالہ انتہا پسندوں کی غضب ناکی کے سامنے کھڑی ہو گئی ہے۔ ان انتہا پسندوں کے سامنے جنہوں نے جہاد کے معنی مسخ کر دیے ہیں اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔

ملالہ اور اس کے خاندان کو اس وجہ سے سی آئی اے کا ایجنٹ کہا گیا ۔ لیکن ملالہ اور اس کے خاندان نے غیر معمولی حوصلے اور ہمت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ان بدنام کرنے اور دھمکانے والوں کی بے شمار دھمکیوں نے ان کے حوصلے کو کمزور نہیں کیا۔ ملالہ کے لیے نوبیل انعام اگرچہ اہم بات ہے لیکن ابھی اسے بہت سفر طے کرنا ہے۔ اس نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کی منزل دور افتادہ علاقوں کی بچیوں سمیت سبھی کو بغیر کسی خوف کے سکول جانا ہے۔

گولی لگنے سے زخمی ہونے کے بعد جب ملالہ صحت یاب ہوئی تو مختلف ممالک میں دعوت دی گئی کہ وہ ان بچوں کی مظلومیت پر روشنی ڈالے جن کی تعلیم تک رسائی نہیں ہے، جن کے پاس تعلیم کے لیے وسائل نہیں ہیں اور ان کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ اس نے ایک مضبوط مثال قائم کی ہے اور لاکھوں کو تعلیم جاری رکھنے کے لیے متاثر کیا ہے۔ تاکہ وہ خود کو ترقی دیں اور اپنا معیار زندگی بہتر بنائیں۔

ملالہ یوسفزئی امن کی وکیل ہے جس نے تمام عقائد کے لوگوں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد کیا ہے۔ تاکہ لوگ اپنی زندگیوں میں عظمت پا سکیں۔ اس نوجوان کی مسلسل جدوجہد کا مقصد تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہے۔ لاکھوں لوگوں کے خوابوں کی تعبیر صرف علم سے ہی ممکن ہو سکتی ہے اور یہی ایک بہتر زندگی کا راستہ ہو سکتا ہے۔ ملالہ نے عزت پائی ہے اور دنیا کے کروڑوں افراد کی حمایت حاصل کی ہے۔ تمام امن پسندوں اور تعلیم دوستوں کی طرف سے ہم اس کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں کہ بچوں کی تعلیم کے لیے اس کی دوڑ دھوپ آگے بڑھے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.