.

کیا ترکی کو پاکستان بنایا جا رہا ہے؟

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں نے اپنے زیادہ تر کالموں میں حکومت پاکستان کے لئے ترکی کو رول ماڈل بنانے ہی کی ہمیشہ وکالت کی ہے اور ترکی کی ترقی کو پاکستان کیلئے نمونہ قرار دیا اور موجودہ حکومتِ پاکستان نے بھی اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ہی ترکی کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید فروغ دیا اور ترقی کے اس سفر کو جاری رکھا لیکن پاکستان کے سیاسی حالات، مظاہروں، دھرنوں اور جلسے جلوسوں کی وجہ سے ترقی کا یہ پہیہ جام ہو چکا ہے اور حکومتِ وقت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ دھرنے اب اپنا زور توڑ چکے ہیں اور حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ اب حالات کو اپنے کنٹرول میں لاتے ہوئے ترقی کے سفر کو دوبارہ سے شروع کرے۔پاکستان کے حالات سیاستدانوں نے خود خراب کئے ہیں لیکن عالم اسلام میں سیاسی، اقتصادی اور جمہوری لحاظ سے مضبوط ترین ملک ترکی کے حالات اس کے ہمسایہ ممالک اور عالمی قوتیں خراب کرنے کے درپے ہیں۔ کیا یہ قوتیں ترکی میں سلطنتِ عثمانیہ کے احیاء کے خطرے سے دوچار ہیں اور اسے آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتیں اور اس کی ترقی کی راہ میں مختلف رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے اس کے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

ہمارے قارئین کو اچھی طرح یاد ہو گا کہ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں سے ایک تھا اور دنیا بھر کی نظریں پاکستان پر مرکوز تھیں اور پاکستان اقتصادی لحاظ سے اس قدرمضبوط ہو چکا تھا کہ اس نے جرمنی جیسے ملک کو قرضہ دینا شروع کر دیا تھا (یہ حقیقت ہے اور اس کا دستاویزی ثبوت بھی موجود ہے) اور اس نے کوریا جیسے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اسے پانچ سالہ منصوبہ بنا کر پیش کیا تھا۔ پاکستان کی اس دور میں تیز رفتار ترقی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا جس پر پاکستان دشمن قوتوں نے یکجا ہو کر پاکستان کی اس تیز رفتار ترقی کی راہ مسدود کرنے کے لئے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد شروع کر دیا اور آخرکار انہوں نے پاکستان کی ترقی کی گاڑی کو پٹری سے اتار کر ہی سکھ کا سانس لیا اور اس طرح پاکستان کو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا اوراس کے بعد سے پاکستان کبھی بھی ان اندھیروں سے باہر نہ نکل سکا۔ پاکستان کا مستقبل کیونکر ان اندھیروں کا شکار بنا؟

اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کا افغانستان کے دلدل میں قدم رکھنا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں سوویت یونین کے قبضے سے حالات کو بھانپ کر وہاں پر اپنی پسند کی حکومتیں قائم کرنا شروع کر دیں اور پھر سوویت یونین کے قبضے کے دوران عرب ممالک اور امریکہ کے تعاون سے مجاہدین کو فوجی ٹریننگ دیتے ہوئے ان مجاہدین کے تعاون سے سوویت یونین جیسی سپر قوت کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور یوں افغانستان میں اپنی پسند کی اسلامی حکومت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی اور پھر یہ کامیابی طالبان کی راہ ہموار کرنے کی وجہ ثابت ہوئی۔ طالبان کے افغانستان میں بر سر اقتدار آنے پر پاکستان نے جو امیدیں لگالی تھیں ان سب پراس وقت پانی پھر گیا جب امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ طالبان نے اس دوران پاکستان کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی تھیں اور پھر انہوں نے پاکستان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ ہم سب نے دیکھا اور آج بھی دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔

مغربی اور عرب ممالک نے جو حالات پاکستان کیلئے پیدا کئے وہی حالات اب وہ ترکی کے لئے پیدا کر رہے ہیں بلکہ پیدا کر چکے ہیں یعنی دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے پاکستان کے لئے جو فلم بنائی گئی تھی اب اس فلم کو دوبارہ سے فلمایا جا رہا ہے، البتہ اب اس فلم کا مین کریکٹر تبدیل ہو چکا ہے اور اب یہ کردار ترکی کے سپرد کیا جا چکا ہے بلکہ ترکی کو یہ کردار ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

ترکی نے بھی پاکستان کی طرح سب سے پہلے اپنے ہمسایہ ملک شام میں حکومت تبدیل کرنے کے لئے اپنی بھر پور کوششیں صرف کیں ۔اس نے پہلے حکومت شام کو ملک بھر میں جمہوری اصلاحات کو متعارف کروانے اور مشرق وسطیٰ میں بہارعرب کی فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو بھی اقتدار میں شامل کرنے سے متعلق اپنی تجاویز بھی پیش کیں لیکن صدر بشار الاسد اپنے اختیارات عوام کو دینے پر راضی نہ ہوئے اور یوں دونوں ممالک کے درمیان خلیج پیدا ہوتی چلی گئی۔ شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران ترکی نے کھل کر بشار الاسد انتظامیہ کے مخالفین کا ساتھ دیا۔ شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران عرب ممالک نے اپنی دولت کا بے دریغ استعمال کیا لیکن وہ بشار الاسدحکومت کا تختہ الٹنے میں ناکام رہے۔ اس دوران علاقے میں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے جہادیوں نے شامی انتظامیہ کے خلاف اپنی فورس قائم کر لی۔ یہ فورس ابتدا میں القائدہ ہی کے ایک ونگ کے طور پر سامنےآئی اور القائدہ ہی کی نگرانی میں کام کرتی رہی لیکن جیسے ہی یہ فورس مضبوط ہوتی چلی گئی اس نے علاقے میں اپنے مرکز قائم کرنا بھی شروع کر دئیے۔ اس فورس نے جسے ’’آئی ایس آئی ایس‘‘یعنی ’’دولت اسلامیہ عراق و شام ‘‘ یا مختصراً طور پر ’’داعش‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہےجس نے مغربی ممالک سے حاصل کردہ فوجی ٹریننگ کے بعد اسد انتظامیہ کے لئے تو مشکلات پیدا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے لیکن اب اس فورس یا تنظیم نے پشت پناہی کرنے والے ممالک کو بھی آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں۔ دولتِ اسلامیہ نام کی یہ تنظیم اگرچہ شام میں پروان چڑھی تھی لیکن اس نے عراق کے حالات سے فائدہ اٹھا کر عراق کے کئی ایک صوبوں پر قبضہ کر لیا۔

اس قبضے کے دوران ملک کے ان لوگوں نے داعش کی پشت پناہی کی جنھیں نوری المالکی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دیوار سے لگا دیا گیا تھا اور وہ علاقے میں مظلوم بن کررہ گئے تھے۔ عراق میں دولتِ اسلامیہ کو آج بھی ان لوگوں کی حمایت حاصل ہےجس کی وجہ سے اس نے عراق میں اپنے پاؤں جمانے کے بعد شام میں ایک بار پھر اپنی پوزیشن بہتر بنانا شروع کر دی ہے۔ ترکی اور مغربی ممالک جو اسد انتظامیہ کا تختہ الٹنے کے لئے اپنی بھر پور کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے مشرقِ وسطیٰ عرب بہار کی موومنٹ کے ناکام رہنے اور خاص طور پر مصر میں اخوان المسلمین کی ایک سالہ حکومت کے ناکام تجربے کی وجہ سے فکری لحاظ سے ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے۔ ترکی نے مصر میں اخوان المسلمین حکومت کا تختہ الٹنے کے باوجود اس کی حمایت کا سلسہ آج بھی جاری رکھا ہوا ہے جبکہ مغربی ممالک محمد مرسی کی انتہا پسندی اور ان کی پالیسیوں کی وجہ سے اب شام میں اخوان المسلمین کی طرح کے کسی بھی مذہبی گروپ کے برسر اقتدار آنے کے خوف میں مبتلا ہیں ۔ اسی لئے ان ممالک نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے بشار الاسد انتظامیہ کا تختہ الٹنے کی کسی بھی کوشش سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی لئے اب انہوں نے شام میں تخلیق کردہ دولتِ اسلامیہ یا پھر داعش کی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ مغربی ممالک کے دولت اسلامیہ سے ہاتھ کھینچنے کے بعد ہی اس تنظیم نے جو کہ اپنے عقائد کے لحاظ سے القائدہ سے بھی دو ہاتھ آگے ہے کھل کر اپنا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے۔

دولت اسلامیہ کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان ترکی ہی کو پہنچ رہا ہے کیونکہ ترکی کے شام کی سرحدوں سے ملحقہ علاقےکو (جسے عین العرب کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے) جہاں پر زیادہ تر کرد آباد ہیں (خیبر پختونخوا اور افغانستان میں پختون جس طرح ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں بالکل اسی طرح کرد بھی ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں) میں ہونے والی خون ریز جھڑپوں کی وجہ سے ڈیڑھ ملین کے لگ بھگ شامی مہاجرین ترکی کی سرحدوں کے قریب پناہ لئے ہوئے ہیں ( ترکی نے پاکستان سے سبق حاصل کرتے ہوئے مہاجرین کو سرحدی علاقوں تک ہی محدود رکھا ہے اور وہاں پر خیمہ بستیاں قائم کی ہیں)۔

مغربی ممالک جو ترکی کو نیٹو کا رکن ہونے کے ناتے اس جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں آخر کار اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ترکی نے انجیرلیک سمیت اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے کر خود ہی اس جنگ میں چھلانگ لگا دی ہے تاہم ترکی نے علاقے میں نو فلائی زون اور بفرزون قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اسد انتظامیہ کو اقتدار سے ہٹانے کی اپنی شرائط سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مغرب صدر ایردوان کی ان شرائط کا کیا جواب دیتا ہے اور کب ترکی کو پاکستان بنانے کا آغاز ہوتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.