.

گورنر پنجاب بھی شوکت عزیز ہیں۔۔۔۔!

طیبہ ضیاء چیمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نواز حکومت نے جس روز گورنر پنجاب کا عہدہ ایک غیر ملکی پاکستانی کے حوالے کیا تھا، اسی روز ہم نے ’’سوٹ کیس کی سیاست‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا۔ آج اس کے نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ گورنر چودھری سرور کا حوالہ دیتے ہوئے پرویز رشید نے کہا تھا کہ ’’ہم نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا گورنر ایک اوورسیز پاکستانی کو بنا کر اوورسیز پاکستانیوں سے محبت کا ثبوت دیا ہے۔‘‘ اور ہم نے لکھا تھا کہ ’’محبت کا یہ ثبوت پرویز مشرف نے بھی شوکت عزیز کی صورت میں ملک کو دیا اور اس کے نتائج بھی پاکستان نے بُھگت لئے۔ سوٹ کیس کی سیاست کا کلچر ختم ہونا چاہئے۔
Country does not need half-Pakistanis as representative.

ملک و قوم کی خدمات کا جذبہ لے کر وطن لوٹنے والے سیاسی باوے عمر بھر کی کمائی سے انتخابی ٹکٹ خریدتے ہیں، الیکشن لڑتے ہیں اور بعض کو بغیر الیکشن لڑے عہدے جھولی میں ڈال دئیے جاتے ہیں کہ سیاسی قائدین کے ساتھ ان کی مالی وفاداریوں کا ثمر دیا جاتا ہے مگر پارٹی یا عہدہ ختم ہوتے ہی انگریزی ملکوں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔ گورنر پنجاب چودھری سرور بھی آخر کار ’’چودھری‘‘ نکلے، چودھری برادران کی سیاست کا طریقہ اپنانے جا رہے ہیں۔ اندر باہر قادری اور خان سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ حکومت اور قادری کے بیچ ثالثی کا کردار ادا کرنے کے بہانے اپنی سیاست کے بھی مشورے کرتے رہے۔ ہَوا کا رُخ دیکھا اور بالآخر گورنر ہائوس سے لاہور میں ایک کوٹھی میں شفٹ ہو گئے۔

’’سوٹ کیس سیاست‘‘ میں وہ وقت بھی دور نہیں ہوتا جب غیر ملکی پاکستانی سیاسی نشہ پورا ہونے کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔ بریف کیس کی سیاست کا معیار اور میعاد سمندر کی لہروں اور ہَوائوں کے رُخ پر منحصر ہوتا ہے۔ غیر ملکی شہریت سرنڈر کرنے کا مطلب یہ مت لیا جائے کہ ایسا شخص دوبارہ غیر ملکی شہریت کا اہل نہیں ہوتا۔ اس بات کی نہ کوئی گارنٹی ہے اور نہ کبھی ایسا ہوتا دیکھا ہے کہ غیر ملکی شہریت کے حامل پاکستانی ہمیشہ کے لئے پاکستان ’’ٹِک‘‘ جائیں۔ غیر ملکی شہریت کو طلاق دے دیں تب بھی حلالہ کا راستہ کھلا رہتا ہے۔ ان کی غیر ملکی شہریت یا تو ہولڈ پراسس میں ہوتی ہے یا پھر ان لوگوں کی غیر ملکی سٹیزن اولادیں اپنے ماں باپ کے لئے کسی بھی وقت ویزہ اپلائی کر سکتی ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کی کشتیاں جلانے کا صرف تاثر دیا جاتا ہے، حقیقت میں قانونی و سیاسی معاملات مخفی رکھے جاتے ہیں۔

بلاشبہ تارکین وطن پاکستانیوں کے لئے دُہری شہریت نعمت سے کم نہیں مگر ایک مفاد پرست طبقہ اس نعمت کو کیش کرانے میں مہارت رکھتا ہے، غیر ملکی مراعات سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور پاکستانی پروٹوکول اور عیش و عشرت سے بھی مستفید ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کی شہریت حاصل کرنے کے لئے اس ملک میں چند سال کا قیام لازمی ہے جبکہ پاکستان کے آئین میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں۔ سوٹ کیس اٹھایا اور پائونڈز اور ڈالروں کی طاقت کا نشہ کمایا۔ پاکستان میں سیاست کے خواہشمند مرد و خواتین برسوں پاکستان سے باہر گزار دیتے ہیں اور جب پیسہ اکٹھا کر لیتے ہیں تو ایک سوٹ کیس اٹھاتے ہیں اور اچانک اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں۔ عوام کے ساتھ نہ کوئی رابطہ نہ ملکی مسائل کا تجربہ، ان کی اہلیت کا معیار فقط بیرون ملک سیاستدانوں اور صحافیوں کی ’’آئو بھگت اور خدمات‘‘ ہوتی ہیں۔

گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا کہ گورنر بننے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ گورنر کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا۔‘‘ موصوف کی سیاسی بصیرت کا یہ عالم کہ انہیں عہدہ لینے سے پہلے تک گورنری کے اختیارات کا علم ہی نہ تھا؟ اختیارات والا عہدہ حاصل کرنے کے لئے تحریک انصاف جائن کرنے کا ارادہ کر لیا اور طاہر القادری کو ماڈل ٹائون واقعہ کا ’’معاوضہ‘‘ دلوا کر انقلاب سے انتخاب کی جانب بھیج دیا۔ ابھی موصوف گورنر ہائوس سے کوٹھی میں شفٹ ہوئے ہیں، اس کے بعد پارٹی تبدیل ہو گی اور پھر بااختیار عہدہ کی امید پر پارٹی تبدیل کی جائے گی۔ اگر امیدیں پوری نہ ہوئیں تو ہاف پاکستانیوں کا بریف کیس ہر وقت تیار رہتا ہے۔

شوکت عزیز اور ایسے بہت سے سابق سیاستدانوں کے ساتھ کسی شام لندن کے کسی کافی ہائوس میں بیٹھے نظر آئیں گے۔ ملک و قوم کی خدمت کرتے تو کم ہی دیکھے ہیں اکثرسیاست کا اور اقتدار کا نشہ پورا کرنے وطن لوٹتے ہیں۔ دُہری شہریت والے اکثر دُہرے معیار کے ساتھ سیاست کرتے ہیں۔ گورنر چودھری سرور شاید بھلے انسان ہوں وگرنہ اندر باہر سے سے مفادات اٹھائے جاتے ہیں۔ مغربی ممالک کو پاکستان کی دُہری شہریت کی سہولت کا فائدہ ہے۔ نظریہ ضرورت کے تحت کسی بھی رنگ کا پاسپورٹ استعمال کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ پاکستانی سیاستدان غیر ملکی شہریت ترک کر دیں تب بھی باہر والوں کی نظر میں ان کے ہی شہری ہوتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.