.

مشرق وسطیٰ پھرآگ و خون کی لپیٹ میں

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں پالیسی اسرائیل اور تیل کے گرد گھومتی ہے اور مشرق وسطیٰ سے تیل کے حصول کے لئے اس نے اسرائیل کو پولیس مین کا کردار سونپ رکھا ہے اور امریکہ کو مسلمان دشمن یا دُنیا پر بالادستی قائم کرنے کے لئے دو لابیاں امریکہ میں سرگرم عمل رہتی ہیں، ایک صیہونی لابی تو دوسری ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس۔ اور یہ دُنیا بھر میں فساد کراتی رہتی ہے، تضادات کو ابھارتی ہیں چاہے لسانی ہو یا مسلکی یا حکمرانوں کا الٹ پھیر ہو یا ملکوں میں بدامنی اور خون خرابہ۔ یہ لابیاں اپنی کارروائیوں کو جاری رکھتی ہیں کیونکہ اس سے انسانوں کا خون بہتا ہے تو صیہونی خوش ہوتے ہیں اور جہاں تنازعات جنم لیتے ہیں وہاں امریکی ملٹری صنعت کو مالی فائدہ پہنچتا ہے۔ پاکستان کی مثال لے لیجئے طالبان کے گروپ پاکستان کی بقاء کو چیلنج کئے ہوئے ہیں اور کئی لسانی اور مسلکی گروپ اپنے آپ کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ کئی علیحدگی پسند تنظیمیں کھلے عام غیرملکی فنڈ وصول کر رہی ہیں۔ اسی طرح سے اسلامی دُنیا میں ایسے مسلمانوں کا خون بہانے اور اُن بڑے ملکوں کے حصے بخیے کرنے کیلئے امریکہ منصوبہ بندی کرتا ہے یا حملہ کرتا ہے یا قبضہ کر لیتا ہے اور پھر اس کے ردعمل کو بھی مسلمانوں کو مزید نقصان کیلئے استعمال کرتا ہے۔ القاعدہ اُس کی مدد کیلئے موجود رہتی ہے۔

القاعدہ کئی وجوہات کی بناء امریکہ کو وہ نتائج حاصل کرکے نہیں دے پا رہی ہے جس کی وہ توقع رکھتا ہے تو انہوں نے داعش نامی تنظیم جس کے معنی دولت اسلامیہ فی العراق و شام کے نام سے عراق میں کھڑی کردی، جس میں صرف برطانیہ سے دو ہزار جدید تربیت یافتہ افراد اور دو ہزار باقی یورپ سے اور سو کے قریب امریکہ سے آئے پھر جو صدام حسین کی آرمی کے لوگ تھے اُن کو اِن کے ساتھ ملا دیا گیا جس سے اب اُن کی تعداد 32 ہزار سے اوپر ہو گئی ہے۔ داعش نے اپنے آپ کو اب اسلامی ریاست کا نام دےدیا ہے۔ اِس کو موصل کے قلعے سے 2.5 بلین ڈالر کا اسلحہ بھی تحفہ میں دیدیا گیا۔ جس میں اپاچی ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔ اس طرح وہ ایک آرمی بن چکی ہے۔ اُس کی پیش قدمی جاری ہے جس میں اس نے عراق کے تقریباً تمام سُنّی علاقے پر قبضہ کرلیا ہے اور شام میں بھی وہ پیش قدمی کر رہے ہیں اور کرد علاقے میں بھی گھس گئے ہیں اور کوبانی نامی اسٹرٹیجک کرد شہر جو عین العرب کہلاتا ہے۔ داعش کو بنانے میں امریکہ نے جہاں صدام حسین کی آرمی کو سائڈ لائن میں رکھا اور نورالمالکی سے ایک علاقے میں ظلم کرایا تاکہ اِس علاقے کےلوگوںمیں غم و غصہ بڑھے۔ وہ ایسی ترکیب کرتے ہیں کہ دو افراد کے درمیان یا دو گروپوں کے درمیان تصادم یا دو ملکوں کے درمیان جنگ فطری لگے۔ اسی طرح سے امریکی سندھ میں اُردو اور سندھی بولنے والوں کے درمیان تضادات کو ہوا دے رہے ہیں جو کسی وقت بدنما شکل اختیار کرسکتے ہیں یا جیسے آصف علی زرداری کو حکومت کرنے دی اور نواز شریف کو اپنی باری کے انتظار پر راضی کرلیا۔ اس عمل سے ملک کھوکھلا ہوا اور میاں نواز شریف کو اس وقت اُس کے اثرات اور مخالفت کا سامنا ہے۔

زرداری صاحب نواز شریف کی طرح خاموش تماشائی نہیں رہے یا جنرل پرویز مشرف اور نواز شریف کے درمیان تعلقات خراب کراتے گئے اور میاں نواز شریف کو ایٹمی دھماکے کرنے کی سزا دی گئی۔ داعش یا اسلامی ریاست کے بارے میں زمبابوے کے ایک کالم نگار اور وہاں کے سونے کی کانوں کے صدر گرائیکی چینگو نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ القاعدہ اور داعش امریکہ کی پیدا کردہ ہیں تاکہ مسلمانوں کو تقسیم اور تیل سے مالا مال ممالک پر قبضہ کیا جاسکے اور ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثرات کو روکا جاسکے۔ مسلمانوں کی تقسیم سے مراد یینون منصوبہ جس کے تحت عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرنا ہے اور شام کو چار حصوں میں۔ مزید لکھا ہے کہ امریکہ کی دہشت گردی کرانے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس نے سرد جنگ میں مسلمانوں کو اسامہ بن لادن کی سربراہی میں افغانستان میں استعمال کیا جب روس ٹوٹ گیا تو اپنے بنائے ہوئے گروپ کو خود مارا۔ پھر سابق صدر رونالڈ ریگن کے دور کے نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل روڈم نے کہا کہ امریکہ نے دہشت گردی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ 1970ء میں اخوان المسلمین کو سی آئی اے نے روس کے خلاف استعمال کیا۔

داعش اب مشرق وسطیٰ کی سرحدوں کو تبدیل کرنے کا ایک آلہ ہے، شام کو اس سے پہلے تین جنگوں کے ذریعہ کمزور کیا جاچکا ہے۔ شام کی حکومت ظالم ہے مگر شام کی حکومت کو امریکہ اس لئے ختم نہیں کرنا چاہتا ہے کہ وہ ظالم ہے بلکہ اس لئے کہ وہ ایران اور حزب اللہ کے درمیان شام کے ذریعہ رابطہ کو ختم کرنے کا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جنگ ایک اہم عرب ملک اور ایران کے درمیان شام کی سرزمین پر لڑی گئی اِس میں بھی بشارالاسد کامیاب ہوئے اور تیسری جنگ امریکہ اور روس کے درمیان لڑی گئی یعنی روس اور ایران کی حمایت کی وجہ سے بشارالاسد اپنی حکومت بچانے میں کامیاب رہے مگر اب داعش سے وہ کیسے نمٹے۔ جو امریکہ M16 رائفل استعمال کررہی ہے اور ساتھ ساتھ امریکی صحافیوں کو مار رہی ہے جس نے امریکہ میں ہیجان پیدا کردیا ہے۔ چنانچہ اِس جنگ سے امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کو یہ فائدہ ہوا کہ وہ امریکی عوام جو امریکی افواج کو کم کرنا چاہتے تھے اور کانگریس اُن کیلئے مزید فنڈز دینے کو تیار نہیں تھی اس کے ہائوس آف فارن آفیسرز کے سربراہ ایڈورڈ رائس نے برملا کہا کہ ایک دہشت گرد آرمی نیٹو کے دروازے پر دستک دے رہی ہے اور وہ خاموش بیٹھی ہے۔

جس کے یہ معنی ہوئے کہ امریکہ کو اب فنڈ کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ اس طرح امریکہ کو ایک دفعہ پھر مشرق وسطیٰ کی جنگ میں کودنے کا ایک اور موقع مل گیا ہے۔ ترکی کو نیٹو کے نئے سربراہ اسٹول ٹین برگ جو ناروے کے سابق وزیراعظم ہیںنے راضی کرلیا ہے کہ وہ اپنی مسلح افواج کے ساتھ مداخلت کریں۔ ترکی اِس معاملے میں خاموش تھا اور چاہتا تھا کہ اِس صورت میں اپنی افواج کوبانی کو بچانے کے لئے بھیج سکتا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت تبدیل کردی جائے یا بفرزون بنا دیا جائے۔ امریکہ نے ترک حکومت کی دونوں بات نہیں مانی۔ ترکی اپنے اور شام کے درمیان اُن 15 سے 16 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو شام کے علاقے میں بسا کر اُن کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے فوج بھیجنے کو تیار تھا مگر اس پر ایران نے سخت دھمکی دی کہ ترکی اس طرف بڑھا تو ترکی کو وہ سزا دے گا جس سے ترکی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ ترکی کوبانی کو بچانے کو اس لئے بھی آگے نہیں بڑھنا چاہتا تھا کہ وہ کرد علیحدگی پسند تنظیم PKK کو کمزور کرنا چاہتا تھا اور امریکہ کایہ خیال ہے کہ اگر ترکی اور نیٹو شام میں داخل ہوجائیں تو پھر روس شام کی حمایت سے باز آجائے گا مگر ایران کے سخت موقف اختیار کرنے سے صورت خراب ہوگئی ہے امریکہ اِس جنگ میں ایران کو پھنسانا چاہتا ہے تاکہ کردستان کی ریاست بنائی جاسکے جو پانچ ملکوں کے کرد علاقے لے کر بنائی جائے گی۔ ترکی، شام، عراق، ایران اور آذربائیجان۔ اس کا فیصلہ امریکہ اور دیگر ممالک کرچکے ہیں۔ اس وقت مشرق وسطیٰ کا خطہ آگ کے شعلوں میں لپٹا ہوا ہے۔ بڑی جنگ سر پر کھڑی ہے۔ انسانی المیہ جنم لے کر بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت جو سیاسی دنگل لگا ہوا ہے وہ اس لئے کہ پاکستانی مشرق وسطیٰ کے کھیل میں داخل ہو کر کھیل کے میدان اور نتائج کو تبدیل نہ کردے مگر یہاں بھی سیاسی جنگ اصولوں کی ہے کیسے رک سکتی ہے۔ یہ اس وقت تک چلے گی جب تک مشرق وسطیٰ کے معاملات طے نہیں ہو جاتے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.