.

وہ مجھ سے ہوئے ہمکلام اللہ اللہ!

ڈاکٹر عارفہ صبح خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

توبہ ہے یہ سیاستدان بھی کتنا جھوٹ بولتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست سے جھوٹ نکال دی جائے تو سارے سیاستدان ہی آئوٹ ہو جائینگے۔ جھوٹ کے بغیر نہ انکی دال گلتی اور نہ انکی کھچڑی دم پر آتی۔ ایک نوبل پرائز جھوٹ بولنے پر بھی ملنا چاہئے۔ اگرچہ نوبل پرائز کے ضمن میں جھوٹ، منافقت اور ریاکاری کی بنیاد پر بھی انعامات ملتے دیکھ لئے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو پاکستان کو عبدالستار ایدھی کی ملک گیر خدمات پر یہ انعام مل جانا چاہئے تھا مگر ہیومن رائٹس کے چیمپئن اور انکے حواریوں نے انسانی خدمت کی عالمگیر مثالیں قائم کرنیوالی سادہ لوح اور بے لوث شخصیت کو نوبل پرائز کے قابل نہ جانا۔

ہم تو پاکستان میں حکومتی ایوارڈز کو سازشی، سفارشی اور اقربا پروری کا ثمر سمجھتے تھے لیکن اب پتہ چلا کہ پوری دنیا میں ’’کرپشن‘‘ کا ناسور پھیل چکا ہے۔ کوئی بھی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں وہ جھوٹ کا پلندہ ہو گی۔ تاریخ اگر جھوٹ کا پلندہ ہے تو فی زمانہ ’’مستقبل‘‘ سہانے خوابوں اور وعدوں کا حسین تاج محل ہے جس کیلئے ہر ممتاز محل کو مرنا ہوتا ہے۔ ہماری بے حسی کی داد سانحات کا روپ دھار کر ملتی ہے۔ ہمیں تو خدا بھی مطلب پڑنے پر یاد آتا ہے۔ ’’عبادت بھی ہماری تشہیر طلب ہے اور نیکی بھی داد طلب… ہمارے وجود میں حرص، ہوس اور حسرتوں کا غدر مچا ہوا ہے جسے جھوٹ اور ریاکاری کے کوڑھ نے کھوکھلا کر دیا ہے۔ اسی لئے ہم پر ایسے حکمران مسلط ہیں پھر سیاستدانوں کا ایک ایسا غول ہے جو صرف غل غپاڑے پر ایمان رکھتا ہے۔

دو درجن سیاستدان روزانہ وزیراعظم بننے کے خواب دیکھتے ہیں حد تو یہ ہے کہ انکے تین درجن بچے بھی امید سے ہیں کہ وہ جلد یا بدیر وزیراعظم بنیں گے۔ ان میں سرفہرست بلاول بھٹو، حمزہ شہباز شریف، مونس الٰہی، مریم نواز، وغیرہ شامل ہیں جبکہ انکے ’’ابا جی‘‘ ابھی خود دو دو باریاں لینے پر کمربستہ ہیں۔ جس عوام کو الو بنا کر یہ لوگ جھوٹ بول بول کر اپنے منہ لش لش کر لیتے ہیں اس عوام کیلئے آج تک انہوں نے کچھ نہیں کیا ہے۔

عوام کے ٹیکسوں، آئی ایم ایف کے قرضوں، امریکہ، برطانیہ، فرانس، سعودیہ اور یورپی یونین کی امدادوں پر چلنے والی حکومت کی عیاشیوں، غیر ملکی سیر سپاٹوں، سیلاب زدگان کے نام نہاد چیکوں، اپنی تشہیر کیلئے کروڑوں کے اشتہاروں اور سینکڑوں جعلی منصوبوں کے افتتاحی فیتوں کی کٹائی اور رٹی رٹائی تقریروں پر کیا کہا جا سکتا ہے۔ عمران خان کو آپ لاکھ کچھ بھی کہیں مگر یہ ایک بہت بڑا اور ناقابل ہضم سچ ہے کہ عمران خان نے پاکستان میں تبدیلی کی لہر پیدا کی ہے۔ مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ الطاف حسین، آصف زرداری، میاں برادران نے جو ’’جلیسیوں‘‘ کا کروڑوں روپے کی مدد سے اہتمام کیا وہ کیوں کیا اور کس کیخلاف کیا؟ الطاف بھائی بھی حکومت کا بہت بڑا حصہ ہیں۔ انکے فل فلیج گورنر ہیں اور گورنر عشرت العباد کو پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین گورنر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اسکے ساتھ یہ توقع بھی ہے کہ جب تک عشرت العباد زندہ ہیں وہی سندھ کے تاحیات گورنر رہیں گے۔

الطاف بھائی حکومت کا اہم جزو ہیں۔ انکے ایم پی ایز، ایم این ایز میں سے کئی وزیر ہیں اور کئی وزیر رہے ہیں اس لئے سمجھ نہیں آتا کہ الطاف بھائی کے جلسوں اور دھرنوں کی پس پردہ وجہ کیا ہے؟ آصف زرداری نے بھی مزار قائد پر تزک و احتشام سے جلسہ منعقد کیا جس کیلئے انہوں نے ایک ارب کے قریب پیسہ پانی کی طرح بہا ڈالا۔ یہ جلسہ دراصل بلاول بھٹو کی سیاسی رونمائی تھی۔ بلاول بھٹو ابھی ایک لاابالی نوجوان ہیں جس میں سیاسی شعور، سنجیدہ روئیے اور ادراک و فہم کی شدید قلت ہے۔ ایسے میں آصف زرداری اپنے بیٹے کو آئندہ الیکشن میں ’’بطور وزیراعظم‘‘ سامنے لانا چاہتے ہیں حالانکہ اس وقت بلاول کی عمر محض 27 سال ہو گی جبکہ وزیراعظم بننے کیلئے 35 سال کا ہونا شرط ہے مگر خیر ہے۔ آصف زرداری آئین میں ترمیم کرا لیں گے۔ بلاول بھٹو نے ایک بونگی تقریر کرکے ناحق اپنی عظیم ماں اور بہادر نانا کی روحوں کو تڑپایا۔

ظاہر ہے کہ بلاول کے سیاسی گرو ان کے ’’ابا سائیں‘‘ ہیں۔ اس پر ایک نہایت مضحکہ خیز بیان بلاول ہائوس سے جاری کیا گیا کہ ’’بوڑھا کھلاڑی بلاول کے پہلے چھکے پر ذہنی توازن کھو بیٹھا‘‘ آصف زرداری کو بھی میاں برادران کی طرح شدید قسم کا امیج کمپلیکس ہے حالانکہ اپنا ’’کمپلیکس‘‘ ختم کرنے کی خاطر ان سب نے پاکستان، سعودیہ، دوبئی اور برطانیہ میں کئی کمپلیکس اور پلائے بنائے لیکن نہ تو ان لوگوں کے اندر کا کمپلیکس ختم ہوا اور نہ ہی ان کے اندر کے خواہشوں، نوٹوں اور ڈالروں کے پلازوں کی طلب ختم ہوئی۔ ایج کمپلیکس نے ابھی تو فوبیا کی شکل اختیار کر رکھی ہے لیکن آئندہ دنوں میں ایج کمپلیکس شیزوفرینیا کی حدود میں داخل ہو جائیگا۔ آصف زرداری بھی کوئی ’’کاکے‘‘ نہیں ہیں۔ بینظیر بھٹو سے ڈیڑھ سال چھوٹے ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ سب سے چھوٹے اور ابھی ننھے منے کاکے ہیں۔

اب تو انکا اپنا ’’کاکا‘‘ بھی کاکا نہیں رہا۔ عمران خان کے حوالے سے ایج کمپلیکس کا شکار میاں برادران بھی ہیں۔ عمران خان 1952ء میں پیدا ہوئے جبکہ میاں برادران اپنی جو عمریں بتاتے ہیں اس حساب سے وہ عمران خان، آصف زرداری، الطاف حسین، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی کے بڑے بھائی جان ہیں پھر عمران خان کو بار بار ’’بوڑھا‘‘ کہہ کر اپنے کمپلیکس کی تسکین چاہتے ہیں۔ بہرحال عمران خان نے تو دن رات جلسے اور دھرنے کرکے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ابھی جوان بھی ہیں، طاقتور بھی اور مقبول بھی! لاکھوں کا مجمع یونہی اکٹھا نہیں ہو جاتا۔ کبھی لاہور، ملتان، فیصل آباد، میانوالی، سرگودھا اور پھر مسلسل اسلام آباد میں جلسے کرنا، انتظامات اور تقاریر کرنا، میڈیا کو الگ الگ بیانات اور انٹرویوز دینا، پارٹی میٹنگز کرنا اور عوامی سطح پر لوگوں سے ملنا یہ سب کچھ ایک بوڑھا آدمی نہیں کر سکتا۔ آپ سب تو حکومت، دولت اور تمام تر سیاسی قوت کے بعد ایک جلسہ کے بعد ہی ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ سوچنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، اے این پی، ن لیگ وغیرہ نے حکومت اور اقتدار میں کئی بار آ کر بھی عوام کو کیا ڈلیور کیا ہے۔ صرف وعدے، دعوے، نعرے … کون سی ترقی۔ وہ ترقی جو کسی نے آج تک نہیں دیکھی۔ حکومت اور اختیارات کے باوجود عوام کیلئے آپ نے کیا کرکے دکھایا ہے۔ عمران خان کی ایک آواز پر پوری قوم کھڑی ہو جاتی ہے جس سے بات کر لیں، وہ جھوم اٹھتا ہے کہ وہ مجھ سے ہوئے ہمکلام …

بشکریہ روزنامہ"نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.