.

ایران پاکستان میں سرحدی جھڑپیں

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اکتوبر سے 18 اکتوبر تک ایران اور پاکستان کے سرحدی محافظوں کے مابین گولیوں اور لاشوں کا تبادلہ ہوتا رہا جس میں پاکستان فرنٹیر کور کا صوبیدار ہلاک اور تین سپاہی شدید زخمی ہو گئے جبکہ ایرانی محافظ پاکستانی بلوچستان کنڈی میں ایک مکان میں گھس گئے۔ مکینوں کو زدو کوب کیا اور ان کی گاڑی اٹھا لے گئے۔ علاوہ ازیں بلوچستان لیوی نے اطلاعی دی کہ ایرانی محافظ کل لشکر میں ایک مکان پر قابض ہو گئے۔ چنانچہ چاغی کے ضلعی حکام نے اپنے ایرانی ہم منصب افسران سے رابطہ کر کے انہیں ان واردات پر دونوں حکومتوں کی سرحدی کمیٹی میں غور و خوض کرنے کی تجویز پیش کی ساتھ ہی ان جھڑپوں کے بارے میں وفاقی حکومت کو مطلع کر دیا جس پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایرانی سفیر برائے پاکستان کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دے دیا اور ان واردات کی تفتیش کا مشورہ دیا اور انہیں تاکید کی کہ ایران اپنے داخلی مسائل کو بین الاقوامی تنازعات نہ بنائے۔ لیکن ایران مطمئن نہیں ہوا اور الزام عائد کیا کہ اس کے سرحدی علاقے میں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے دہشت گرد داخل ہوئے تھے جن کا ایران کے سرحدی محافظوں سے تصادم ہو ا جس میں دو ایرانی سپاہی اور کئی دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ چنانچہ حکومت ایران نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے ایران میں دراندازی کا سدباب کرے ورنہ ایران ان کا گرم تعاقب کا حق استعمال کرے گا۔

ایران نے پاکستان سے گلہ کیا کہ ماہ فروری میں بھی ایسی واردات ہوئی تھی جب پاکستان سے آنے والے دہشت گردوں نے ایران کے پانچ سرحدی محافظوں کو اغوا کر لیا تھا جن میں سے چار کو رہا کردیا گیا تھا لیکن ایک محافظ ہنوز لاپتہ ہے۔ اس وقت بھی ایرانی حکام نے اس واردات کا الزام حکومت پاکستان پر عائد کیا تھا اور ان کی بازیابی نہ ہونے پر پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر اپنے محافظوں کو بازیاب کرانے کی دھمکی دی تھی۔ چند سال قبل ایران کے صوبے سیستان بلوچستان کی باغی علیحدگی پسند تنظیم جند اللہ نے زاہدان میں ایک تقریب کے دوران چھ جنرلوں کو قتل کر کے اس کی ذمہ داری بھی قبول کر لی تھی۔ اس وقت بھی حکومت ایران نے براہ راست حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ یہ دراندازی اس کی سرزمین سے ہوئی تھی اور ویگی برادران کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان میں سے ایک کو حکومت پاکستان نے ایران کے حوالے کر دیا لیکن ایران برابر اصرار کرتا رہا کہ وہ دوسرے کو بھی اس کے حوالے کرے جو پاکستان میں روپوش ہے جبکہ وہ پاکستان میں موجود نہ تھا۔ ایران پاکستان پر برابر الزام لگاتا رہا کہ اسے پاکستان کی ایجنسیوں نے پناہ دی ہوئی ہے لیکن اس جھوٹ کی قلعی اس وقت کھل گئی جب ایران کی ایجنسیوں نے اسے اپنی فضائی حدود میں دیکھا اور وسط ایشیائی ریاست کے درمیان دوران سفر مسافر برادر طیارے کو زمین پر اتار کر اسے گرفتار کیا۔ اس وقت ایران کی حکومت کو حکومت پاکستان سے جھوٹے الزام پر معذرت کرنی چاہیے تھی لیکن ایرانی حکام کا دفاع تو عرش معلی پر ہوتا ہے کیونکہ وہ خود کو کسریٰ کے جانشین سمجھتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر گرم تعاقب کی دھمکی دے دیتے ہیں جبکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے تعاقب کا اطلاق صرف سمندری جنگ میں ہوتا ہے زمینی اور فضائی پر نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان پر امریکہ اور بھارت کی جارحیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی حکام پاکستان پر دباؤ بڑھا رہے ہیں جبکہ پاکستان ایران کی اشتعال انگیز حرکات کو بڑے صبرو تحمل سے برداشت کرتا رہا ہے۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی جنگ شروع ہو گئی ہے کیونکہ ایران نے بھی پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے اس سے ایران میں در اندازی روکنے کا پر زور مطالبہ کیا ہے۔

اس سے دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر ہوں گے جس کا فائدہ بھارت، امریکہ اور اسرائیل اٹھائیں گے ۔ اگر ایران یہ سمجھتا ہے کہ وہ امریکہ اور بھارت کی جارحیت کے باعث ایران کے دباؤ میں آ سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے کیونکہ ایران پر تو ہر وقت امریکہ اور اسرائیل کی شمشیر لٹکتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ خلیج میں تنہا ہے اسے عراق کی موجودہ حکومت پر زعم نہیں ہونا چاہیے جو امریکہ اور اس کے استعماری ٹولے کی عسکری حمایت کے بغیر اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔

بات دراصل یہ ہے کہ حکومت ایران اور پاکستان دونوں کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہو گا کہ ان دونوں کی بلوچ آبادی وفاق کے امتیازی سلوک اور استحصالی رویوں کی وجہ سے احساس محرومی کی شکار ہے۔ دونوں ممالک کے بلوچ خود کو ان کا مفتوحہ اور مقبوضہ علاقہ تصور کرتے ہیں۔ پاکستان میں تو پھر بھی بلوچوں کو ان کے صوبے میں علاقائی خود مختاری اور سیاسی آزادی حاصل ہے لیکن ایران میں بلوچوں کو تو کجا خود ایرانیوں کو سیاسی آزادی حاصل نہیں ہے لہٰذا ان دونوں ریاستوں کے بلوچ قوم پرست ان سے نجات حاصل کر کے ایک عظیم تر بلوچستان کا خواب دیکھ رہے ہیں اور ان دونوں کے خلاف چھاپہ مار جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اگر ایران میں جند اللہ اور جیش العدل ہے تو پاکستان کے بلوچستان میں بلوچ آزاد فوج، بلوچ ری پبلیکن آرمی، بلوچ یونائیٹڈ فرنٹ اور نجانے کتنے مسلح دھڑے ہیں جو صوبے میں آباد پنجابیوں، سرائیکیوں اور پٹھانوں تک کو نہیں بخشتے۔ نہ ہی ان چینی انجینئروں کو جو ان کے علاقے میں ترقیاتی منصوبے، کان کنی اور بندر گاہ کی تعمیر کر رہے ہیں۔ پاکستان پر اس سے بڑا حادثہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ زیارت میں بابائے قوم کی آرام گاہ زیارت ریزیڈنسی کو نذر آتش کر دیا گیا؟ اس کا الزام پاکستان کس پر عائد کرے؟ ہندوستان، افغانستان، امریکہ یا اسرائیل پر اور ان میں سے ہر ایک پر فوج کشی کرے؟ گرم تعاقب کے نام پر؟

کوئی ریاست بیرونی دشمن سے تو جی جان سے لڑ سکتی ہے لیکن اندر کے دشمن کے آگے بے بس ہو جاتی ہے کیونکہ اس میں خانہ جنگی کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاکستان کے لیے مشرقی بنگال کی مثال بڑی عبرتناک ہے۔ ان دونوں برادر ہمسایوں کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ بلوچ مسئلہ داخلی ہے نہ کہ خارجی اور اس کا حل سیاسی، اقتصادی اور فلاحی اقدام میں مضمر ہے۔ پہلے تو دونوں ریاستیں بالخصوصی ایران بلوچستان بسمتان کو بھرپور علاقائی خود مختاری دے جو سیاسی آزادی کے بغیر ناممکن ہے۔ ایران کو ریاست میں بالعموم اور بلوچستان ، سیستان میں بالخصوص کثیر الجماعتی جمہوریت کو بحال کرنا ہو گا اور جنگی بنیادوں پر کان کنی، زرعی، صنعتی اور فنی منصوبوں پر فوری عمل درآمد کرنا ہو گا تا کہ مقامی آبادی کو باعزت روزگار میسر ہو سکے۔ یہ اقدام پاکستان کے لیے بھی لازمی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں جمہوری عمل جاری ہے، میڈیا آزاد ہے، انتخابات تو ہوتے ہیں لیکن شفاف نہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقوم میں خورد برد اور غبن عام ہے اس لیے ان کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر ایران اور پاکستان سفارتی جنگ ترک کر کے شبستان/ بلوچستان اور پاکستان بلوچستان کے لیے مشترکہ ترقیاتی منصوبے وضع کر کے ان پر دیانتداری سے عمل درآمد کرے۔

بشکریہ روزنامہ"نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.