.

دشمنوں کے درمیان دوستوں کی ایک شام!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سقوط ِ مشرقی پاکستان کے بعد جب ’’نیا پاکستان‘‘ وجود میں آیا تو انڈیا اور پاکستان کے مابین شملہ معاہدہ طے پایا جس پر پاکستان میں بہت ہنگامہ ہوا۔ میرا درج ذیل کالم انہی دنوں اسی حوالے سے منعقدہ ایک تقریب کے حوالے سے 42سال قبل (11مارچ 1972) شائع ہوا۔ اس میں آپ اس دور کے نوجوانوں چوہدری ظہور الٰہی، مولانا کوثر نیازی، جسٹس (ر) خلیل الرحمٰن رمدے، سنیٹر ایس ایم ظفر اور رانا پھول محمد کے علاوہ بشریٰ رحمٰن کے شوہر عبدالرحمٰن میاں کے خدوخال ملاحظہ فرمائیں اور یہ بھی نوٹ کریں کہ اس دور کے سامعین، مقررین کے ساتھ کیا ’’سلوک‘‘ کیا کرتے تھے؟ ان میں سے چوہدری ظہور الٰہی، مولانا کوثر نیازی اور رانا پھول محمد اللہ کو پیار ے ہو چکے ہیں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین

یوتھ کلچرل آرگنائزیشن کی طرف سے شملہ کانفرنس کے بارے میں جس مذاکرہ (اور بعد ازاں تاریخ انعقاد میں تبدیلی) کی پورے زور و شور سے پبلسٹی کی گئی تھی۔ اس میں شرکت کا ہمیں بھی موقع ملا۔ مہمان خصوصی مولاناکوثر نیازی تھے جو نہ آسکے اور اداکار محمدعلی سمیت دیگرمقررین موقع پر پہنچ گئے۔ ٹائون ہال کا ایئرکنڈیشنڈ ہال حاضرین (جو بعد میں مظاہرین نکلے) کے لئے ناکافی ثابت ہوا اور انہوں نے کھڑے ہو کرتقریریں سنیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ تقریریں کیں۔ دراصل ہوا یوں کہ جو مقرر بھی شملہ میں ہونے والے معاہدہ کے حق میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوتا اس سے پہلے حاضرین اٹھ کھڑے ہوتے اور دھواں دھارتقریر کر ڈالتے۔ اسے ’’حس اتفاق‘‘ ہی سمجھئے کہ حکومت کی سرپرستی میں قائم ’’یوتھ کلچرل آرگنائزیشن‘‘ نے مدعو کیا ہی ایسے مقررین کو تھا جو معاہدہ کی حمایت میں تھے اور یوں پہلے مقرر سے لے کر آخری مقرر تک جلسہ میں سامعین ا ور مقررین کی آوازیں آپس میں گڈمڈ رہیں۔ سوائے جناب ایس ایم ظفر کی تقریر کے جنہوں نے معاہدہ کی ایک بالکل اچھوتے رنگ میں تعبیر کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایوان میں ملک کے ایک بہت بڑے فلمی ہیرو کی موجودگی کے باوجود حاضرین نے جناب ظفر کو اپنا ہیرو ٹھہرایا اور ان کی تقریر کے دوران پورے جوش و خروش سے نعرے لگائے اور تالیاں پیٹیں۔

جلسہ کا آغاز تقریباً سات بجے شام ہوا اور تمام تر ’’نعرہ ہائے مستانہ‘‘ کے باوجود نو بجے تک جاری رہا۔ اس تقریب کے سامعین خاصے ستم ظریف واقع ہوئے تھے چنانچہ ان کی طرف سے بار بار نکتہ ریزی کے باعث بیچارا مقررگھبراجاتا تھااور تیارکردہ تقریر بھول کر اس قسم کی تقریر شروع کردیتا جس کی جھلک پطرس بخاری کے ایک مضمون ’’مرید پورے کے پیر‘‘ میں ملتی ہے۔ جلسہ میں چوہدری ظہور الٰہی، ایم این اے جناب ایس ایم ظفر،رانا پھول ایم پی اے، خلیل الرحمٰن رمدے اور اداکار محمد علی نے تقاریر کیں۔ صدارت کے فرائض عبدالرحمٰن میاںانجام دے رہے تھے اور فقرے بازی میں سامعین کےمدمقابل اگر کوئی تھا تو وہ صاحب ِ صدر ہی تھے۔ بے وزن شعر پڑھنے سے قطع نظر وہ درمیان میں کبھی سامعین اورکبھی مقررین پر جملے چست کرتے رہے اورغالباً ان کے اسی رویئے کے باعث تمام تر بدنظمی کے باوجود کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ تقریب کی کارروائی اخباروں میں شائع ہوچکی ہے۔ یہاں آپ صرف سامعین کی غیرمطبوعہ ستم ظریفیاں ملاحظہ فرمائیں۔
’’مذاکرہ‘‘ کے پہلے مقرر ہمارے دوست خلیل الرحمٰن رمدے تھے۔ سامعین کی طرف سے پہلا اعتراض ان کے نام کے دوسرے حصے پر ہوا۔ اس مرحلے سے بخیر و عافیت گزرنے کے بعد انہوں نےشملہ میں ہونے والے معاہدے کے حق میں تقریر شروع کی تو مختلف کونوں سے مختلف اعتراضات شروع ہوگئے۔

آواز: آپ کس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں؟
صدر: سامعین کرام! آپ کو آم کھانےسے غرض ہے یا پیڑ گننے سے؟
مقرر:میں کسی پارٹی سے تعلق نہیںرکھتا، میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں۔
آواز: پھر آپ ایک سیاسی موضوع پر بولنے کی زحمت کیوں کر ادا کر رہے ہیں؟
مقرر: میں ایک شہری کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں۔
آواز: یہ شہری دفاع کا جلسہ نہیں۔
اس جرح کے بعد خلیل الرحمٰن رمدے دوبارہ معاہدہ شملہ کی طرف لوٹے تو حاضرین نے نعرے لگانا شروع کردیئے۔
صدر: معزز سامعین! آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے معاہدہ شملہ پر دستخط صدر بھٹو نے کئے، خلیل الرحمٰن رمدے نے نہیں۔
آواز: لگتا یوں ہے کہ انہوں نے بھی کئے ہیں ۔
ایک اور آواز: جنابِ صدر! آپ کا ارسال کردہ دعوت نامہ اس وقت میرے ہاتھوں میں ہے۔ اس میں فاضل مقررین کے نام درج ہیں لیکن اس میں خلیل الرحمٰن صاحب کا نام کہیں نظر نہیں آتا، کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ وہ ہمارا وقت کیوں ضائع کررہے ہیں؟
صدر:
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
مقرر:حضرات! آپ اس وقت معاہدہ شملہ کے بارے میں کچھ سننا نہیں چاہتے لیکن آپ نے صدر بھٹو کو پورے اختیارات دے کر خود بھارت بھیجا تھا۔ کیا اس وقت کسی نے کہا تھا کہ وہ بھارت نہ جائیں؟
اس پر ایک منحنی سے صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اورسینے پر ہاتھ مار کر بولے ’’میں نے کہا تھا‘‘
آواز: جناب صدر! مقرر کتنے دنوں تک بولنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
صدر: اگر وصل کے سمجھیں تو چند لمحے اور ہجر کی صورت میں ..... بس کچھ نہ پوچھئے۔
خلیل الرحمٰن رمدے حاضرین کے نعروںاور تالیوں کا جواب ہاتھ کے اشارے سےوصول کرتے ہوئے رخصت ہوئے تو چوہدری ظہور الٰہی پسینہ پونچھتے ہوئے سٹیج پر آئے اور رنگ محفل دیکھ کر آتے ہی یہ مصرعہ پڑھا؎
اے ہم نشیں عزت و ذلت خدا کے ہاتھ

اوراس کے بعد بھی وہ موقع محل کے مطابق درمیان درمیان میں شعر پڑھتے رہے۔ ہمیں اس امر کے اظہار میں کوئی باک نہیں کہ ہم چوہدری صاحب کو اس سے قبل محض ایک سرمایہ دار ہی سمجھتے تھے جو اپنے سرمائے کے بل بوتے پر سیاست میں داخل ہوا ہو لیکن ٹکڑوں ٹکڑوں میں ان کی تقریر سننے اور جس پامردی سے انہوں نے ستم ظریف سامعین کے جملوںکا مقابلہ کیا۔

وہ دیکھنے کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ چوہدری صاحب نہ صرف یہ کہ سیاست کے امور سے آگاہ ہیں۔ بلکہ شعر و ادب کا بھی عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔ تاہم سامعین کے ہاتھوںان پر جو بیتی اور ان کے ہاتھوں سامعین پر جو گزری اس کی چندجھلکیاں ملاحظہ ہوں…چوہدری صاحب نے معاہدہ شملہ پر اظہارخیال سے قبل اچھی خاصی تمہید باندھی۔ 1947میں جو مغویہ خواتین بھارت رہ گئی تھیں ان کی بازیابی کے سلسلے میں اپنی کوششوں کا ذکر کیا۔ سامعین کے موڈ کو جان کر یہ بھی کہا کہ مجھے علم ہے آپ کے جذبات کیا ہیں۔ آپ نہیں چاہتے کہ ظالم ہندو کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا جائے لیکن عزیزانِ من....آواز: اور آج بائیس بت ہیں…چوہدری صاحب: نہیں حضرات ایسا نہیں، آپ مسلمان ہیں اور حساب نہیں جانتے۔ یہاں بائیس بت نہیں بلکہ ہر صاحب ِ اختیار اپنی جگہ ایک بت ہے…’’چوہدری صاحب نے ایک موقع پر سیاسی صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے یہ مصرعہ پڑھا

؎
میرے ماضی میں اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں
اس پر ایک آواز آئی:وہدری آپ نے آج سچ بولا ہے۔

دریں اثنا چوہدری ظہور الٰہی کافی حد تک اکھڑ چکے تھے لیکن انہوں نے ایک بار پھر اپنے حواس مجتمع کئے۔ ترنم ریز انداز میں کھنکارا اور کہنے لگے:…’’حضرات! آپ اگرشملہ معاہدہ کے اتنے ہی خلاف ہیں تو آپ نے صدر بھٹو کو اندرا گاندھی سے بات چیت کیلئے جانے ہی کیوں دیا ہے؟‘‘اس پر ملیشیے کی شلوار اور قمیص میں ملبوس ایک صاحب جو شکل و صورت سے طالب علم لگتے تھے، اٹھ کھڑے ہوئے اور گرجدار آواز میں کہنے لگے…’’جناب عالی! پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم کے دوران جناب بھٹو نے کہا تھا کہ اگر پارٹی برسراقتدار آگئی تو وہ بیت المقدس آزادکرائے گی۔ ہم نے جناب بھٹو کو اس موقع پر بھارت بھیجا تھا کہ وہ بیت المقدس نہیں تو بیت المکرم ضرور آزاد کرائیں گے لیکن افسوس کہ اس گفتگو کے نتیجے میں ہمارے ہاتھ سے کشمیر بھی جاتا رہا ہے…اس پر چوہدری صاحب کا پارہ تقریر کے دوران پہلی بار چڑھ گیا اور انہوں نے فرمایا:حضرات! چاہے آپ اسے پسند کریں یا نہ کریں لیکن میں یہ کہے بغیر نہ رہوں گا کہ بھارت میں اس معاہدے کی مخالفت جن سنگھی کر رہے ہیں اور پاکستان میں بھی اس کی مخالفت کرنے والے جن سنگھی ہیں…یہ فقرہ چوہدری صاحب کو خاصا مہنگا پڑا۔ پہلے زبردست مخالفانہ نعرے لگے اور پھر ’’جن سنگھیوں‘‘ نے اسٹیج پر ان کا گھیرائو کرلیا۔ نتیجتاً انہیں اپنے الفاظ واپس لینا پڑے…چوہدری صاحب کے بعد ایس ایم ظفر آئے اورپورے سکون بلکہ تحسین و مرحبا کے نعروں میں تقریر کرکے چلے گئے۔

ان کے بعد معروف اداکار محمدعلی کی باری تھی۔ وہ ہمارے پاس ہی بیٹھے تھے۔ ان کے چہرے کے تاثرات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ اگرچہ انہوں نے زندگی میں بہت ڈرامے دیکھے اور کئے ہیں لیکن یوتھ کلچرل آرگنائزیشن کے زیراہتمام ہونے والا یہ ڈرامہ ان کے لئے بالکل منفرد نوعیت کا حامل ہے۔ بہرحال محمدعلی تالیوں کی گونج میں اسٹیج پر آئے لیکن پانچ منٹ بولنے کے بعد ہی انہیں علم ہو گیا کہ فلم میں تقریر کرلینا اور بات ہے اورسیاسی اسٹیج پربولنااوربات! انہوں نے اپنی گمبھیر آواز میں تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا ’’معزز سامعین! میرا تعلق فلم انڈسٹری سے ہے اور کام اداکاری، لیکن اداکاری میں صرف اسٹوڈیو کی چاردیواری میں کرتا ہوں…اس پر آواز بلند ہوئی : آج آئوٹ ڈور شوٹنگ سمجھئے…اس پر محمد علی اپنی لکھی ہوئی تقریر کے تین چار صفحے یک دم پلٹ گئے اور درمیان سے پڑھنا شروع کردیا۔ دریں اثنا پھر آواز آئی کہ‘‘ تمہید چھوڑیئے یہ بتایئے آپ شملہ معاہدہ کے حق میں ہیں یا خلاف؟‘‘ اس پر محمد علی نے کاغذوں کا پلندہ بغل میں دابا اور کچھ اس قسم کی بات کہتے ہوئے اسٹیج سے اتر گئے کہ ’’میں اس معاہدہ کے حق میں ہوں آپ نے جو کرنا ہے کر لیں۔‘‘

جلسے کے آخری مقرر رانا پھول ایم پی اے تھے۔ رانا صاحب کی شگفتہ بیانیاں مشہور ہیں لیکن ایک سے ایک شگفتہ بیان پہلے سے موجود تھا۔ ہم تک ان کی صرف یہی بات پہنچ سکی کہ حضرات! میں ان پڑھ پینڈو ہوں۔ا سکول میں تیسری کے بعد چوتھی جماعت سے بھاگ گیا تھا۔ اس کے بعد بھی وہ بہت کچھ کہتے رہے لیکن یہ نقارخانہ تھا ا ور یہاں ان کی آواز طوطی کی آواز تھی…اجلاس کے اختتام پر ہمیں رہ رہ کر صاحب ِ صدر کی وہ تمہیدی تقریر یاد آتی رہی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’معزز سامعین! جب یوتھ کلچرل آرگنائزیشن کے اسٹیج سے آپ کو ’’معزز سامعین‘‘ کہا جاتا ہے تو یقین کریں ہم آپ کو واقعی معزز سمجھتے ہیں کیونکہ آپ آج تک اس کا ثبوت دیتے آئے ہیں۔‘‘جلسے کے بعد ان سے ملاقات نہ ہوسکی ورنہ ضرور پوچھتے کہ حضرات آپ اپنی رائے پر ابھی تک قائم ہیں یا اس پر نظرثانی کر لی ہے؟

بشکریہ روزنامہ"جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.