.

سیاسی گِدھ

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قائد انقلاب نے شہر اقتدار سے واپسی کا بگل بجایا تو مجھے لاہور کے لارنس روڈ پر لگا ایک بینر یاد آیا جس میں گِدھوں کے معدوم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ آپ سوچتے ہونگے کہ دھرنے کے خاتمے کا اس بات سے کیا تعلق ؟ہر چند کہ کوئی تعلق نہیں مگر تخیل کی پرواز کو اس سے کیا غرض۔چند سال پہلے تک شہروں یا دیہات میں کوئی جانور ہلاک ہو جاتا تھا تو چاروں طرف گِدھ منڈلانے لگتے تھے لیکن جب سے میںنے بانو قدسیہ کا ناول راجہ گِدھ پڑھاہے اس کے بعد گِدھ ایسے غائب ہوئے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

ہمارے ہاں جس طرح اُلو کو نحوست کی علامت بنا دیا گیا ہے اس طرح گِدھ کو مردار خوری کے استعارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم اس کریہہ صورت پرندے کا نام آتے ہی ناپسندیدگی کا اظہار کرنے لگتے ہیں حالانکہ یہ وہ ماحول دوست پرندہ ہے جو موت سے زندگی کشید کرتا ہے اس وقت وائلڈ لائف کے ماہرین کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ گِدھ کا وجود خطرے میں ہے دنیا بھر میں گِدھ کی 23مختلف اقسام ہیں اور ان میں سے 10مکمل طور پر معدوم ہونے کے قریب ہیں۔بالخصوص جنوبی ایشیائی خطہ جس میں بھارت‘ پاکستان‘ نیپال اور بنگلہ دیش سر فہرست ہیں یہاں ایک عشرہ قبل4کروڑ کے لگ بھگ گدھ موجود تھے لیکن اب ان کی تعداد میں99 فیصد کمی آ چکی ہے یعنی صرف 4لاکھ گِدھ باقی بچے ہیں۔

گِدھوں کے تحفظ اور بقاء کی جنگ لڑنے والے بھی دراصل انسانوں کی سلامتی کیلئے اس کائنات کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر گِدھ صفحہ ہستی سے مٹ گئے‘روزانہ لاکھوں کی تعداد میں ہلاک ہونے والے جانور کھلے آسمان تلے پڑے گلتے اور سڑتے رہے‘ تعفن کا باعث بنتے رہے تو انسانوں کا اپنا وجود خطرے میں پڑ جائیگا۔خالق کائنات نے کمال ضاعی اور کاریگری سے گِدھوں کی مختلف نسلیں بنائی ہیں۔ایک قسم کے گِدھ اپنی پسند سے جسم کے مختلف اعضاء نوچتے ہیں‘دوسری قسم کے گِدھ گوشت کے چھوٹے پارچے کھاتے ہیں اور گِدھوں کی ایک مخصوص نسل صرف ہڈیاں ہی چباتی ہے تاریخی کتب میں بھی ان گِدھوں کا ذکر ملتا ہے جب کوئی فوج کسی ملک پر حملہ آور ہونے کیلئے کوچ کرتی تھی تو فضائوں میں لاکھوں گِدھ بھی منڈلاتے رہتے تھے کہ شکست خوردہ فوج اپنے سپاہیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ جائے گی تو ان کیلئے جشن کا سماں ہو گا۔سوال یہ ہے کہ آخر گِدھ کیوں کم ہوتے جا رہے ہیں؟

جب بھی اس کائنات کا فطری توازن خراب ہوا ہے تو اس کے پیچھے انسانی ہاتھ کا عمل دخل ہی سامنے آیا ہے۔Diclofenic جو مویشیوں میں جوڑوں کا درد ختم کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہے،یہ دوائی گِدھوں کے لئے زہر قاتل بن چکی ہے۔جو لوگ بار برداری کیلئے جانوروں کو استعمال کرتے ہیں وہ اس دوائی کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں اسکے علاوہ وہ گھوڑے جو ریس میں استعمال ہوتے ہیں انہیں بھی ڈیکلو فنیک کھلائی جاتی ہے تا کہ وہ تھکاوٹ محسوس نہ کریں۔ایسے جانور جب ہلاک ہو جاتے ہیں تو ڈیکلو فنیک کے اثرات ختم نہیں ہوتے۔گدھ جب ایسے جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں تو چند ہی دنوں میں ان کے گردے ناکارہ ہو جاتے ہیں اور وہ مر جاتے ہیں۔چند سال پہلے ہونے والی ایک عالمی کانفرنس کی سفارش کے بعد اس دوائی کی پیداوار اور فروخت پر پابندی لگا دی گئی ہے لیکن اب لوگوں نے جانوروں کو وہ ڈیکلو فنیک استعمال کرانا شروع کر دی ہے جو انسانوں کیلئے بنائی جاتی ہے اسی طرح ہندوستان میں گدھوں کی نسل کشی کا ایک سبب شمسی توانائی کے پینل ہیں چونکہ گدھوں کا بسیرا زیادہ تر ویرانوں اور صحرائوں میں ہوتا ہے جب وہاں شمسی توانائی کے پینل لگ گئے تو ان کے پاس کوئی جائے پناہ نہ رہی۔

گِدھ کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ صرف مردار کھاتا ہے۔گدھ اس معاملے میں بہت اصول پرست ہے اور اس کے صبر کی بھی پوری دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔جب کبھی صحرا میں کوئی انسان یا مویشی راستہ بھول کر بھٹک جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب نقاہت سے نڈھال ہو کر گرپڑتے ہیں ۔ یہ وہ عالم ہوتا ہے جب مکھی اڑانے کی سکت بھی نہیں ہوتی اگر گِدھ چاہیں تو اس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن وہ پرے بیٹھ کر اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ کب اس شخص کی روح پرواز کرے اور یہ اسے اپنی خوراک بنائیں۔گِدھ کبھی زندہ انسان یا جانور پر حملہ نہیں کرتا چاہے وہ کتنا ہی بے بس کیوں نہ ہو۔

پاکستان میں گِدھوں کی 4نسلیں عدم تحفظ کا شکار ہیں جن میں سے ایک سفید پشت والے گِدھ تو تقریباً ختم ہی ہو گئے ہیں۔محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے تعاون سے چھانگا مانگا میں ان گدھوں کو ایک مصنوعی مسکن فراہم کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ’’دو گدھ ریسٹورنٹ‘‘بھی قائم کئے گئے ہیں۔آپ سوچ رہے ہونگے کہ گدھ ریسٹورنٹ کا کیا مطلب؟کیاوہاں پر مردار گوشت پکایا جاتا ہے؟

اگراس تعریف کی رو سے دیکھا جائے تو ہمارے ہاں موجود ہوٹلوں میں سے بیشتر گِدھ ریسٹورنٹ کہلانے کے لائق ہیں مگر میں جن گِدھ ریسٹورنٹس کی بات کر رہا ہوں ان میں سے ایک سندھ کے صحرائی علاقے’’ننگرپار‘‘ اور دوسرا پنجاب کی تحصیل کبیروالا میں قائم کیا گیا ہے یہاں گِدھوں کی میزبانی کی جاتی ہے اور انہیں آلودگی سے پاک گوشت فراہم کیا جاتا ہے۔گِدھوں کے کم یاب ہونے سے ماحولیاتی مسائل کیساتھ ساتھ زرتشت اور پارسی کمیونٹی بھی ایک انوکھے مسئلے کا شکار ہے۔دنیا بھر کے پارسی اور چین کے علاقے تبت کے مکین اپنے مردوں کو نہ تو دفن کرتے ہیں اور نہ جلاتے ہیں وہ ان مردوں کو خیرات کرتے ہیں یعنی متعین کردہ کسی کھلے مقام پر جا کر رکھ دیتے ہیں تا کہ وہ گِدھوں کی خوراک بن جائیں لیکن ان کے عقیدے کی رو سے لاش چار دن میں ختم ہو جانا چاہئے چونکہ اب گِدھ ہی نہیں رہے لہٰذا زرتشت کمیونٹی شدید پریشانی کا شکار ہے۔ہمارے ہاں تو پارسی کمیونٹی بذات خود معدوم ہوتی جا رہی ہے لیکن بھارتی شہر ممبئی میں اب بھی پارسی بڑی تعداد میں اقامت پذیر ہیں اور روزانہ اوسطاً 4اموات ہوتی ہیں مگر گدھوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے اس لئے یہ لوگ سب سے زیادہ پریشان ہیں۔

تکلف برطرف‘اصل گِدھ اور خوفناک آدم خور تو خود انسان ہے جو انسانوں کو بھی کھا رہا ہے اور گدھوں کو بھی نگل گیا۔میرا خیال ہے گِدھ نہایت تیزی سے ختم نہیں ہو رہے بلکہ روپ بدل کر انسانوں کی شکل میں سامنے آ رہے ہیں اور یہ سیاسی گِدھ اس قدر سفاک ہیں کہ جیتے جاگتے انسانوں کو ہڑپ کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ان سیاسی گدھوں کی ایک قسم سالہا سال سے لوگوں کی بوٹیاں نوچنے اور ہڈیاں چبانے کا مکروہ کام تو کر ہی رہی تھی مگر اب ایسے سفاک گِدھ بھی آن پہنچے ہیں جو تن ہی نہیں من کو بھی گھائل کرتے ہیں ۔یہ بے رحم گدھ معصوم لوگوں کی جیتی جاگتی آنکھوں سے تبدیلی اور انقلاب کے خواب نوچتے ہیں اور ان سے زندگی کی آخری رمق بھی چھین لیتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.