.

عورت کی سنگساری ۔۔ داعش کا نیا ٹریلر

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش اپنی اس ویڈیو کی تشہیر میں کیوں گہری دل چسپی لے رہی تھی جس میں اس کے جنگجو ایک لڑکی کو سنگسار کرکے موت سے ہم کنار کررہے ہیں اور سنگسار کرنے والوں میں اس کا باپ بھی شامل ہے۔

یہ ویڈیو مسلمانوں کے تشخص کو داغدار کرنے والی سب سے زیادہ خوف ناک ویڈیوز میں سے ایک ہے۔اس ویڈیو سے اس تنظیم کی سفاکیت ہی کا اظہار نہیں ہوتا ہے کیونکہ اس کی سفاکیت تو پہلے ہی اظہر من الشمس ہے بلکہ یہ اس کی میڈیا کوریج میں نمایاں خبر کے طور پر موجود رہنے کی صلاحیت کی بھی مظہر ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے کمال ہوشیاری سے سوشل میڈیا کو استعمال کیا ہے۔وہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب رہی ہے۔ بالخصوص اس لیے بھی کہ یہ اس وقت میڈیا میں بحث و مباحثے کا ایک مقبول موضوع بن چکی ہے۔میڈیا کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اس کی سفاکیت جو مقاصد حاصل کرنا چاہتی تھی،وہ اس نے حاصل کر لیے ہیں۔

اس کا مقصد سخت سزاؤں کے ذریعے لوگوں کو خوف وہراس میں مبتلا کرنا تھا۔اس نے لوگوں کے سرقلم کیے ہیں،غیر مسلح شہریوں کا اجتماعی قتل عام کیا ہے، عورتوں کو سنگسار کیا ہے اور اس طرح اس نے اپنی سفاکیت کی دھاک بٹھا دی ہے حتیٰ کہ القاعدہ نے، جو اس طرح کی ویڈیوز استعمال کرنے میں مشہور رہی ہے،اس طرح کی سفاکیت نہیں دکھائی تھی جس کا مظاہرہ داعش نے کیا ہے۔

اس طرح کے تشدد اور سفاکیت کے ذریعے داعش نے عام لوگوں کو اپنے مظالم کی شدت ہی دکھانے کی کوشش نہیں کی ہے بلکہ وہ لوگوں کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ یہ حقیقی اسلام ہے اور یہ کہ داعش کے جنگجو ایک متبادل رجیم ہیں، وہ تبدیلی اور چیلنج کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ارکان کو بھرتی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ اسلام کی اپنی تعبیروتشریح کی تشہیر کی بھرپور صلاحیت کے بھی حامل ہیں۔

اس خوف ناک ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش والے انتہا پسند گنوار باپ کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ سنگساری کے بعد اس کی بیٹی جنت میں جائے گی۔داعش کے جنگجو یہ بھی دکھانا چاہتے تھے کہ وہ لڑکی کو اس بات پر آمادہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں کہ پتھر کھانے کے بعد اس کے گناہ دھل جائیں گے۔

الرقہ میں کیا ہوا؟

داعش کے پیروکار اس ویڈیو کی تشہیر میں تو کامیاب رہے ہیں لیکن شام کے شہر الرقہ میں جو کچھ رونما ہوا، وہ اس کا جواب دینے سے قاصر رہے ہیں۔ انھوں نے شہر کے میونسپل اسٹیڈیم کے نزدیک شہریوں کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ وہ ایک لڑکی کو پتھر مارنے کے عمل میں شریک ہوں مگر انھوں نے اس جرم میں شریک ہونے سے انکار کر دیا۔ داعش کے جنگجوؤں نے پھر اس لڑکی کو سنگسار کر دیا لیکن اس کی ویڈیو جاری نہیں کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ شہریوں کی جانب سے عدم تعاون اور مذمت کا رویہ ان کے لیے بہتر پروپیگنڈا مواد نہیں بن سکے گا۔

مگر اس کے باوجود ہمیں داعش کے پروپیگنڈا کی کامیابی کا غلط اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔ اگر داعش کے جنگجو باپ اور اس کی بیٹی کو اس جرم کے ارتکاب کے لیے آمادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر اس کے لیے ہزاروں گنوار لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔

اگرچہ سیاست دان سخت گیر مبلغوں اور پاک بازوں کے سماج دشمن نظریے سے متعلق گفتگو کرتے رہتے ہیں لیکن سماجی روابط کی ویب سائٹس اور یو ٹیوب پر موجود ویڈیوز کے جائزے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ داعش اب تک یہ جنگ بڑی کامیابی کے ساتھ جیت رہی ہے۔

شام اور عراق جنگ لڑنے کے خواہاں لوگوں کے لیے اب کوئی موعودہ سرزمین نہیں رہے ہیں بلکہ یمن جنگجوؤں کے لیے موعودہ سرزمین بن چکا ہے۔ حوثیوں کے خلاف لڑائی اب ایک نیا نعرہ بن چکی ہے۔نوجوان مرد یمن میں جنگ میں شریک ہونے کے لیے جارہے ہیں اور مقصد یقیناً یہ ہے کہ وہاں القاعدہ اور اس سے وابستہ جنگجو گروپوں کی ایک بڑی فوج تشکیل دی جائے۔ یمن کی غیر محفوظ سرحدوں کے ذریعے وہاں پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں ہو گا۔ خاص طور پر اس کام میں اس لیے بھی آسانی ہوگی کہ ریاست منہدم ہونے کو ہے کیونکہ یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نے حوثی ملیشیا کے ساتھ اتحاد قائم کر لیا ہے اور حوثی ایران کے وفادار ہیں۔

ہمیں داعش کو اپنے اخلاقی اور مذہبی معیارات کے مطابق ہی نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ یہ ایک ایسا گروپ ہے جو دنیا کو القاعدہ سے بھی زیادہ ہلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمیں آج جس صورت حال کا سامنا ہے،اگر اس کے حل میں تاخیر کردی جاتی ہے تو ہم اس کے مضمرات کو آنے والے برسوں میں ملاحظہ کرتے رہیں گے۔بہت سے اتحادی ممالک شام کے ایک چھوٹے سے شہر کوبانی میں داعش کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے آرہے ہیں لیکن شام ،عراق ،یمن اور لیبیا میں پھیلے ہوئے ان سیکڑوں قصبوں اور دیہات کے بارے میں ان کے کیا ارادے ہیں؟

درحقیقت اس وقت پورے خطے میں پھیلے ہوئے انتہا پسندوں سے لڑنے کے لیے کوئی مناسب فوج نہیں ہے۔ ان کے خلاف خواہ کتنی ہی اہدافی فضائی بمباری کرلی جائے ،ان کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی کیونکہ وہ اپنے پروپیگنڈا کو پھیلانے اور مزید ارکان کو بھرتی کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔ اگر تمام حکومتیں انتہا پسندوں کے پروپیگنڈے کو پھیلنے سے مؤثر انداز میں نہیں روکتی ہیں اور داعش ،القاعدہ اور اخوان المسلمون کے حامیوں کو احتساب کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا ہے تو وہ یہ جنگ ہار جائیں گی۔ ان کے پروپیگنڈے کا توڑ کرکے ہی ہم انتہاپسندوں کا قلمع قمع کر سکتے ہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.