.

صدر پاکستان اور کابل کے درمیان اعتماد سازی کی فضا

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

29 ستمبر 2014ء کو افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی رسم حلف برداری ہوئی جس میں پاکستان کے صدر ممنون حسین بھی شریک ہوئے۔ تقریب کے بعد صدر ممنون حسین نے افغان صدر سے ملاقات میں کئی تجاویز پیش کیں اور یہ یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان سے ہر شعبہ میں تعاون کے لئے تیار ہے۔ پاکستان وفود کی سطح پر مذاکرات، سرمایہ کاری اور ان کے ہیکل اساسی میں تعمیر کے لئے دستیاب ہو گا۔ انرجی کے منصوبہ جات پر بھی بات ہوئی اور راہداری کے معاملے میں افغانستان نے پاکستان کو بہت رعایت دیدی 2.5 سینٹ فی KW کی بجائے 1.25 فی کلو واٹ بجلی پر راہ داری ادا کی جائے گی۔ ریلوے کے منصوبوں پر بھی بات ہوگی۔ پاکستانی صدر ایک روایتی صدر کی بجائے کئی اہم معاملات میں پاکستان کے وزیراعظم کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کیا، اس کے بعد پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلق داری قائم کرنے میں اُن کی کاوشیں بہت شاندار ہیں۔ اس پر بھارت کے کئی لکھاری اس بات پر شاکی ہیں کہ پاکستان صورتِ حال کا اچھا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے 20 اکتوبر کو کابل کا دورہ کر کے اور چینیوں کو بھی اس گفتگو میں شامل کرکے پاکستان کیلئے بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔

ان نئی کاوشوں کا سلسلہ صدر ممنون حسین سے افغان صدر اشرف غنی نے صدارتی محل کابل میں ملاقات کے بعد شروع کیا۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جن میں دونوں رہنمائوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہئے اور تعلقات کو تجارتمیں اضافے اور اقتصادی ترقی کے فروغ کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے ہر شعبے میں تعاون کرنے کو تیار ہے۔ پاکستان، افغانستان میں درمیانے اور چھوٹے درجے کی سرمایہ کاری سمیت اداروں کی تنظیم نو اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کو تعاون کو وسعت دینے کے لئے مختلف شعبوں کے ورکنگ گروپ بنانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان بینکنگ، سرمایہ کاری، تعلیم، توانائی، سیکورٹی اور انٹیلی جنس شیئرنگ سمیت تجارت کے شعبوں میں پاکستان سے تعاون کا خواہشمند ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ افغان صدر نے کاسا اور تاپی منصوبے جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس پر صدر ممنون حسین نے کہا کہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبے ترجیحات میں شامل ہیں۔ دونوں منصوبے خطے کی اقتصادی اور معاشی ترقی کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کابل موٹروے، پشاور جلال آباد اور چمن قندھار ریلوے لنک منصوبے شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ قندھار اورگوادر کو آپس میں لنک کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔ افغان صدر اشرف غنی نے تجویز دی کہ دونوں ممالک پن بجلی کے مشترکہ منصوبے شروع کریں۔ دریائے کابل، چترال اور دریائے کنٹر پر بھی بات کی گئی۔ ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے افغانستان کے کاسا منصوبے میں گہری دلچسپی اور اسے فوری طور پر مکمل کرنے کی افغان صدر کی خواہش کا اظہار وزیراعظم پاکستان تک پہنچایا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے ذمے اس کام کو سونپا۔ جس کے بعد واشنگٹن میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان انتہائی کم ٹرانزٹ ٹیرف پر بجلی کی درآمد کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں جس پر چند روز پہلے وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور افغانستان کے وزیر خزانہ عمرزاخلوال نے دستخط کئے۔

ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ پانی کا تنازع حل ہو گیا۔ ماضی میں دریائے کابل کے پانی کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ رہا۔ کرزئی دورِحکومت میں اس مسئلے پر ایک دو مرتبہ تلخی بھی ہوئی۔ پاکستان کے سفارتی عملے اور بیوروکریسی نے اس معاملے پر کام کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب کابل کے حکمراں تسلیم کرتے ہیں کہ دریائے کابل پر 50 فیصد پاکستان اور 50 فیصد افغانستان کا حق ہے۔ دریائے چترال کے پانی پر 60 فیصد پاکستان اور 40 فیصد افغانستان کا حق ہے۔ دریائے کنٹر پر 3 ڈیم بننے کی گنجائش ہے جس سے سارے فاٹا میں آبپاشی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے جبکہ فاٹا کے برابر کے رقبے پر افغانستان میں آبپاشی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ تینوں ڈیموں سے 1100 میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس سے ان علاقوں میں بجلی کے بحران سے نمٹا جا سکے گا۔
صدر ممنون حسین نے افغان صدر سے کہا کہ عسکریت پسندی کی لعنت کا خاتمہ باہمی اعتماد سے ہی ممکن ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں تعاون کرنا چاہئے اور الزام تراشی سے گریز کرنا چاہئے جس پر افغان صدر نے پاکستان، افغانستان اور چین سہ فریقی مذاکرات کی تجویز پیش کی۔

جس کا صدر ممنون حسین نے خیرمقدم کیا۔ واضح رہے کہ اس تجویز پرعملدرآمد سے افغانستان میں بھارتی غلبے کی پاکستانی شکایت کا ازالہ ہوسکے گا۔ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بھی صدرممنون حسین سے ملاقات کی۔ عبداللہ عبداللہ خود چل کر صدر ممنون حسین سے ملاقات کیلئے پہنچے۔ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ماضی بھول جائیں، آئیں ایک نئے دور کا آغاز کریں، نئے سرے سے باہمی دوستی اور احترام کے جذبے کے ساتھ تعلقات شروع کریں گے۔ صدر مملکت نے باہمی تعاون کے ذریعے عسکریت پسندی سے نمٹنے کی تجویز پیش کی جس کا مثبت جواب دیا گیا۔ افغانستان اگر پاکستان پر اعتماد کرے تو پاکستان افغانستان کے لئے بہت کچھ کرسکتا ہے مگر وہ بھارت اور امریکہ کے راستے پر چلا تو افغانستان میں امن بحال ہونا مشکل ہے۔ وہاں کافی مزاحمت اور عدم استحکام کے خطرات موجود ہیں تاہم جلال الدین حقانی کے چھوٹے صاحبزادے انس حقانی اور ایک اور کمانڈر حافظ رشید کی گرفتاری اِس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ افغانیوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا ہے اس لئے وہ طالبان کو اب خطرہ نہیں سمجھتا اور اس کا خیال ہے کہ وہ افغانستان میں پاکستان ایسی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگیا ہے جو اسکے مقاصد پورا کر سکے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.