.

نفرت کے ان مبلغین کو روک دو

خالد المعینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج کے ایک اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک سعودی مبلغ کا ٹوئٹر اکاونٹ معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ مبلغ اپنے پیروکاروں کو سوشل میڈیا کے ذریعے یمن میں ایک خود کش دھماکے میں ہلاک ہونے والی ہلاکتوں پر خوشی منانے کی ترغیب دے رہا تھا۔ یہ ہلاک شدگان غالبا حوثی تھے جنہیں القاعدہ کے خود کش بمباروں نے 9 اکتوبر کو صنعا میں ہلاک کر دیا تھا۔

ٹوئٹر پر نفرت پھیلانے والا یہ مبلغ خالد الغامدی ہے۔ جو انسانی لاشوں کے پرخچے اڑنے پر خوش ہے۔ اس نے القاعدہ کی تعریف کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو سوختہ انسانی لاشوں کو دیکھ کر اپنی خوشی میں شریک کرنے اور خونی منظر کو پر شوق نگاہوں س دیکھنے کی دعوت دینے کی کوشش کی ہے۔ الوصل ٹی وی کی طرف سے یہ دکھائے جانے پر سعودی عرب کے محب وطن شہریوں نے خطے میں فرقہ واریت پھیلانے کی ان کوششوں کو روکنے کے لیے کہا ہے۔ سعودی شہریوں کا مطالبہ ہے کہ نفرت آمیز تبصرہ کرنے والے اس مبلغ کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

الغامدی کا یہ رویہ کلی طور پر غیر مہذب، وحشت انگیز اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت کے خیالات سے متصادم ہے۔ مسلمان نہیں چاہتے کہ بے گناہ عورتوں اور بچوں کی جانیں لینے کے مکروہ مناظر کو مزے لے لے کر دیکھنے کے لیے کہا جائے۔ یہ شیطانی ذہنیت کا اظہار ہے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ اس شیطانی اور نفرت پر مبنی نظریے کے خلاف لڑے اور اسے اکھاڑ پھینکے۔ یہ عدم برداشت اور اشتعال انگیزی ہے کہ قتل و غارت گری کو اس طرح شادمانی کا ذریعہ بنایا جائے۔ یہ ایک سنگین جرم ہے۔ لیکن اس کا مقابلہ صرف مسجدوں میں داعش کے خلاف دعائیں کرنے سے نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی ان محرفین سے نمٹنے کے لیے سرکاری دفاتر سے جاری ہونے والے سرکلر کافی ہو سکتے ہیں۔ برائی کے اس خطرناک نظریے سے سنجیدگی ، پورے عزم اور سیاسی قوت ارادی کے ساتھ لڑنا ہو گا۔

افسوس سے کہوں گا کہ پچھلے 25 سال کے دوران ہم نے انتہا پسندی کو اس کی تمام تر مکروہ شکلوں کے ساتھ معاشرے کے ہر طبقے میں میں پھیلنے دیا گیا۔ مذہب کے ان خود ساختہ سر پرستوں نے ریاست کے اندر ایک ریاست بنا لی ہے۔ یہ انتہا پسند تقریبا ہر پیشے کے لوگوں میں گھس چکے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ یہ ایک وقتی لہر ہے جو خود ہی دب جائے گی اور اس سے کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

آج ہم تباہی کی اس ترکیب سے غفلت برتنے کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ ہم نے ان رجعت پسندی کے ایجنٹوں کو اجازت دیے رکھی کہ یہ اپنے نظریات کو سرطان کی طرح معاشرے میں پھیلا دیں۔ لیکن اب ہمارے پاس مزید ناکارے پن کا موقع نہیں رہا ہے کہ ہم خاموش تماشائی بن کر کھڑے رہیں۔ ہمیں با آواز بلند اپنی بات کرنا ہو گی۔ انتہا پسندوں نے ہمارے مذہب اور مذہبی نوجوانوں کے ذہنوں کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔

ہمیں ان کی دین کی تباہ کن تشریح کے خلاف متحد ہو کر آواز اتھانا ہو گی اور مسلمانوں کے سچے عقیدے کو فروغ دینا ہو گا۔ اس عقیدے کو جو کائناتی تصور بردباری اور تحمل پر مبنی ہے جو شائستگی اور حق پرستی کا درس دیتا ہے۔ ہمیں اس حقیقی تصورجہاد کو بھی فروغ دینا یوگا جو اچھائی کے بڑھاوے، نرمی و مہربانی اور بنی نوع انسان کے لیے محبت کے پیغام پر مبنی ہے۔

لوگوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ یہ ان کی مذہبی ذمہ داری ہے کہ وہ حکام تک ہر اس اطلاع کو پہنچائیں جو انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے اور دہشت گردی کے حوالے سے ہو جبکہ حکام کو سرکاری دفاتر سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے پر کاٹنا ہوں گے۔ کاروباری لوگوں کو چاہیے کہ وہ انتہا پسند عناصر سے نجات کے لیے میدان کی ہمواری کے لیے حصہ ڈالیں۔ لائبریریوں اور تھیٹروں کو نوجوانوں کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

نوجوانوں کو محبت بھری زندگی اور محنت کا عادی بنانا ہو گا تاکہ وہ موت کی پرورش کرنے والوں کا مقابلہ کر سکیں۔ جیسا الغامدی نفرت بھرا معاشرہ بنانا چاہتا ہے۔ وہ تخریب اور تباہی چاہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن میں موجود اللہ کے اس پیغام کو عام کریں کہ جس میں زندگی کو دنیا و آخرت کی حسنات کے ساتھ گذارنے کی آرزو ہے۔ ایک ایسی زندگی جو محبت اور ہم آہنگی سے مزین ہو۔

ملک میں اس تناظر میں کافی کام کیا جا چکا ہے، لیکن ضروری ہے کہ ہم محنت اور کام کی لگن کے ساتھ اپنے تحفظ اور استحکام کی کوششیں جاری رکھتے ہوئے خوشحالی پانے میں لگے رہیں۔ اس مقصد کے لیے منظم انداز میں سمجھدار اور ترقی پسند ذہنوں کی ضرورت ہو گی۔ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کافی تعداد ہے جنہیں اس معاملے میں حوصلہ افزائی اور مدد چاہیے۔ تاکہ ان نفرت پھیلانے والے مبلغوں کے خلاف ہماری یہ آواز بلندتر ہو سکے کہ ''ہم انہیں ملک کو ہائی جیک کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔''

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.