.

تبدیل شدہ کینیڈا ۔ علامہ قادری کی واپسی

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جی ہاں! ایک جنونی، نفسیاتی مریض اور ماضی میں جرائم کا ریکارڈ رکھنے والے ایک پیدائشی کینیڈین 32 سالہ مائیکل ذی ہاف بیبو نامی نوجوان نے کینیڈا کی پارلیمنٹ میں گھس کر دہشت گردی کرنے سے قبل کینیڈا کے تاریخی میموریل پر متعین فوجی گارڈ کو گولی مارکر ہلاک کیا اور پھر کینیڈین پارلیمنٹ میں گھس کر دہشت پھیلائی ۔ دارلحکومت اوٹاوا کے اسکول ، دفاتر سبھی کچھ کئی گھنٹے کیلئے ’’ لاک ڈاون ‘‘ رہے ا س روز تو کینیڈا میں آباد ہر مسلمان انتہائی پریشان تھا اور یہ محسوس کررہا تھا کہ سانحہ ورلڈ ٹریڈ سنٹرجس نے امریکہ کو یکسر تبدیل کرکے رکھدیا اور امریکہ کے مسلمانوں کوبہت ساری مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اب یہ دہشت گردی کا واقعہ کینیڈا کو بھی تبدیل کر کے رکھ دیگا کیونکہ دہشت گردی کے قابل نفرت فعل کا ذمہ دار یہ پیدائشی کینیڈین شہری کچھ عرصہ قبل عیسائیت ترک کر کے مسلمان ہو اتھا۔ لہذا کینیڈا میں آباد کئی لاکھ مسلمان آناً فاناً پریشانی اور دبائو کا شکار ہو گئے کہ کیا اب امریکہ کی طرح کینیڈا بھی تبدیل ہو جائے گا ؟

جی ہاں وہی کینیڈا اور اس میں آباد لاکھوں مسلمان جن کو بڑی بڑی اور خوبصورت مساجد تعمیر کرنے کی اجازت ہے ۔ صرف ٹورنٹو سے لیکر مسی ساگا اور اس کے نواحی علاقوں میں کئی درجن مساجد موجود ہیں ۔ مسی ساگا شہر میں اردو زبان تیسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے ۔ جہاں انتخابات میں امیدوار انگریزی کے ساتھ ساتھ عربی اور اردو میں بھی اپنے اشتہارات تقسیم کرتے ہیں اور عید کی نماز پر اپنے حلقے کی مساجد کے باہر عید مبارک اور اسلام علیکم کہہ کر لوگوں سے ملتے ہوئے نظر آتے ہیں جی ہاں ! وہی کینیڈا جس کے بہت سے شہروں خصوصاً ٹورانٹو، مسی ساگا، ہملٹن، مانٹرپال، کالگری، ایڈمنٹن وغیرہ میں حلال کھانوں والے ریسٹورنٹس کی بھر مار ہے جہاں مسلمانوں کو معاشرے کا یکساں حقوق و احترام والا شہری تسلیم کر کے ان کو کینیڈین معاشرے اور ملک کا حصہ مان لیا گیا ہے۔

جہاں مسلمان ناموں کے ساتھ سینکڑوں امیدواروں کے پلے کارڈز جگہ جگہ لگے انتخابی موسم کا پتہ دیتے نظر آتے ہیں پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور سٹی کونسل کے انتخابی عہدوں کیلئے بڑی آزادی اور وضاحت کے ساتھ الیکشن لڑتے نظر آتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ خود مسلمان قائدین اتنے بکھرے ہوئے اور غیر منظم ہیں کہ ایک ایک حلقہ انتخاب میں کئی کئی مسلمان امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل نظر آتے ہیں ۔ ان میں بعض ایسے غیر سنجیدہ مسلمان امیدوار بھی ہیں کہ وہ صرف اپنے رئیل اسٹیٹ کے بزنس یادوسرے کاروبار میں شہرت اور تعارف حاصل کرنے کیلئے انتخابی امیدوار بن جاتے ہیں گویا وہ اپنے کاروباری فائدے کیلئے کینیڈا کے جمہوری سیاسی عمل کا فائدہ اور مسلم یا پاکستانی کمیونٹی کی شہرت، عزت، ساکھ اور بعض حلقوں میں ووٹوں کی اکثریت کوبھی دائو پر لگانے سے گریز نہیں کرتے ۔ یقین جانئے بعض انتخابی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم امیدوار بڑی اچھی اکثریت سے کامیاب ہوسکتے ہیں بشرطیکہ پاکستانی اور مجموعی طور پر مسلمان کمیونٹی سنجیدگی اور لگن کے ساتھ انتخابی عمل میں حصہ لے تو کینیڈا کی پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور سٹی کونسل کی نشستوں پر ان کے امیدوار جیت سکتے ہیں مگر مسلمان کمیونٹی اور ووٹرز اپنی سست روی الیکشن کے روز ووٹ نہ ڈالنے کی عادت اور سیاسی و انتخابی عمل سے لاتعلقی مسلم ووٹوں کی افادیت ضائع کرنے اور اتنی بڑی مسلم آبادی کی اہمیت کو ضائع کرکے بے وقعتی میں تبدیل کر دیتی ہے۔

میرے اندازے کے مطابق کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں مسلمانوں کی آبادی کم ازکم بھی ایک لاکھ سے زیادہ ہے ۔ مسلمان ووٹرز کی تعداد اور اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگالیں کہ یہاں کے ایک حلقے سے ایک عرب نژاد مسلمان کینیڈین پارلیمنٹ کارکن بھی ہے 27 اکتوبر کو مسی ساگا کے میئر اور سٹی کونسل کے انتخابات کے تازہ نتائج کے مطابق میئر کے عہدے پر منتخب ہونے والی خاتون بونی کراجی نے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق میئر کیلئے دوپاکستانی امیدوار دل محمد نے صرف 2400 اور چوہدری ریاض گوندل نے صرف 700 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ اسی طرح سٹی کونسل کے مختلف انتخابی حلقوں میں تقریباً 100 کے قریب مسلمان امیدواروں میں ابھی تک صرف میکس خان (مسعود) اور ذی شان (ملٹن) سے منتخب ہوئے ہیں۔ باقی تمام مسلمان امیدوار ہار گئے۔ حالانکہ میرا مشاہدہ اور ماضی کا تجربہ یہ کہتا ہے کہ مسلمان امیدوار پہلے بھی اپنے غیر منظم اور غیر متحد ہونے کے باعث سیاسی میدان اور الیکشن میں آگے نہیں بڑھ سکے مگر اس مرتبہ مقای سٹی کونسلوں کے انتخابات میں مسلمان امیدواروں کا مکمل صفایا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ 22 اکتوبر کو اوٹاوا میں کینیڈین پارلیمنٹ میں ایک گورے مسلمان کی دہشت گردی کے واقعہ نے بھی ان انتخابات پر سیاسی اثرات ڈالے اور کینیڈا کے رائے عامہ میں تبدیلی آئی ہے اور الیکشن کے نتائج اس کا ثبوت ہیں۔

اگر یہ رائے درست ہے تو پھر اس مشکل کا حل یہ ہے کہ کینیڈا کے مسلمان قائدین سنجیدگی سے کمیونٹی کو منظم اور متحرک کریں۔ قائدین آگے آ کر کمیونٹی کی رہنمائی سنبھالیں ۔ بہت سے نیک نام قائدین کینیڈا کی سیاسی پارٹیوں کے سرگرم رکن اور قائد بھی ہیں مفتی عبدالقیوم، عمران میاں ، ٹم اقبال، مسعود خان (میکس) اور ذی شان اپنی کارکردگی سے بہت کچھ واضح کرچکے ہیں اب تو ہمارے کینیڈین علامہ طاہر القادری بھی پاکستان میں اپنا دھرنا ختم کر چکے ہیں۔ دھرنا سیاست کی حشر سامانیاں اور انقلابی اثرات سب کے سامنے ہیں۔ صوبہ انٹاریو کی سیاست میں ایک پاکستانی ڈاکٹر شفیق قادری پہلے سے موجود ہیں۔ پاکستان میں دھرنا سیاست سے فارغ ہونے والے ہمارے کینیڈین علامہ طاہرالقادری اگر اب واپس کینیڈا آ کر یہاں کی مسلم کمیونٹی کی قیادت فرمائیں تواس سے بڑے دوررس نتائج مرتب ہوں گے وہ آبائی وطن پاکستان میں دھرنا کی سیاست کے ذریعے انقلاب کا مشن لیکر گئے تھے۔ اب ان کے نئے وطن کینیڈا میں تبدیل شدہ حالات میں یہاں کے مسلمانوں کو بھی رہنمائی، تنظیم ، قیادت کی ضرورت ہے یوں بھی کینیڈا کے پارلیمانی جمہوری نظام میں حال ہی میں کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کے چند بے اصول اور مفادات ذاتی کے واقعات ہوئے ہیں لہذا نئے وطن کینیڈا اور یہاں کے مسلمان بھائیوں سے محبت کے تقاضوں کے تحت علامہ طاہر القادری واپس کینیڈا آ کر قائدانہ رول ادا کریں ۔ ان کے ضخیم 413 صفحات کے انگریزی فتوے کی روشنی میںدہشت گردی کی مذمت، انقلاب اور بکھرے ہوئے کینیڈین مسلمانوں کو اکھٹا کرنے کے مشن میں انہیں کینیڈا میں بڑا تعاون بھی ملے گا اور دھرنا سیاست کی تھکاوٹ سے آرام بھی ملے گا ۔ مسلمانوں کے موقف کی کینیڈین مربوط نظام میں وکالت اورا سلام کا درست امیج پیش کرنے میں قائدانہ رول ادا کرکے کینیڈا کی قسمت جگائیں کینیڈا کو علامہ طاہرالقادری کی واپسی کا انتظار ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.