.

صرف شاہی امام ہی نہیں

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پڑوسی بھارت کے نئے ہندوؤں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انتقام کا ایک نیا جذبہ جاگا ہے۔ پہلے انھوں نے اپنی فوج اور ہمارے چند غداروں کی مدد سے سقوط ڈھاکا کا کارنامہ سر انجام دیا اور اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم نے خوشی کے ساتھ کانپتی ہوئی آواز میں اعلان کیا کہ ہم نے مسلمانوں سے ایک ہزار برس کی غلامی کا بدلہ لے لیا ہے۔ اس کی یہ بات درست تھی ان کے خیال میں پاکستان توڑنا کسی کی ہزار برس کی غلامی کا بدلہ لینے کے برابر تھا لیکن کیا مسلمانوں سے انتقام کا یہ سلسلہ جاری ہے کیونکہ اب انھوں نے اپنی کمال کی کم ظرفی سے کام لے کر جامع مسجد دلی کے امام کو اور ان کی نماز زندہ جلانے کی کوشش کی ہمارے دارالحکومت دلی کی یہ مسجد مسلمانوں کی سب سے بڑی دینی اور ثقافتی نشانی ہے اور اس کو آباد رکھنے کے ذمے دار خاندان کی توہین کسی سقوط کے برابر ہو سکتی ہے۔

ہمارے ہاں اخباروں نے اسے ایک سنگل کالم خبر بنایا ہے اور ان کے خیال میں یہ بس اتنی ہی اہم تھی جب کہ میرے آپ کے جیسے مسلمانوں کے لیے یہ خبر ایک شہہ سرخی نہیں تو صفحہ اول کی اہم ترین خبر تھی۔ یہ خبر بھارت کے نئے حکمران کی طرف سے ایک وارننگ ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے یہ جانی دشمن وزیر اعظم ہند اپنے گجرات کے تجربے کو دہرانا چاہتے ہیں جب وہ اس بھارتی صوبہ کے وزیر اعلیٰ تھے تو انھوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا اور اس میں بڑی شہرت پائی تھی۔ اپنے اسی کارنامے کی وجہ سے وہ الیکشن جیت کر اور بھارت کے وزیر اعظم بن کر وہ پورے بھارت کو گجرات بنانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے بھارت میں مسلمانوں کی سب سے بڑی بڑی علامت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

بھارتی خبروں کے مطابق نماز مغرب کے دوران ایک شخص نے شاہی امام سید احمد شاہ بخاری پر مٹی کا تیل پھینکا اور انھیں زندہ جلانے کی کوشش کی تا آنکہ شاہی امام کے محافظوں اور نمازیوں نے اسے قابو کر لیا اور بھارتی پولیس کے حوالے کر دیا۔ ہندوستان میں پہلی بار عام ہندوؤں کو یہ حوصلہ ہوا ہے کہ وہ حکومت کی سرپرستی سے شہ پا کر نہتے مسلمانوں پر حملہ آور ہوں مگر انھوں نے مسلمانوں کی شاہی مسجد اور اس کے شاہی امام کے خلاف کھل کر توہین کر کے اپنے لیے اچھا نہیں کیا۔ دشمنی کی یہ ایک گھٹیا درجہ کی حرکت تھی۔ مثلاً کوئی مسلمان یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ پراتھنا کے دوران کسی ہندو عبادت گزار پر ایسا حملہ کر سکے۔ ہزار برس تک ہندوؤں کو غلام رکھنے والے مسلمانوں نے کتنے ہندو اور کتنے پروہت جلائے اس کی کوئی مثال ضرور ہونی چاہیے لیکن ایسی کوئی مثال نہیں ملے گی۔

ہم مسلمان آج کے زوال سے پہلے چودہ سو برس تک نہ صرف بھارت بلکہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور رہے۔ انیسویں صدی کے نصف اول میں نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے ہماری یہ عالمی طاقت زوال پذیر تھی ورنہ ہمارے سلاطین کہا کرتے تھے کہ جس زمین پر ہمارے گھوڑوں کے قدم پڑتے ہیں وہ ہماری ہو جاتی ہے۔ ہم تو صدیوں تک دنیا کی سپر پاور رہے لیکن ہم نے دیکھا کہ سوویت یونین ہمارے سامنے دنیا کی سپر پاور بنی اور ہمارے سامنے ہی وہ ختم بھی ہو گئی نام و نشان تک مٹ گیا اور اب وہ صرف تاریخ کی کتابوں میں ماضی کے کسی حوالے سے پہچانی جاتی ہے۔ آج میں یہ خبر سن رہا تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان سے واپس جا رہا ہے۔

اس کی بے پناہ فوجی طاقت اور مال و دولت کے باوجود افغانستان جیسے ایک پسماندہ ملک پر بھی قبضہ نہیں رکھا سکا صرف ایک حسرت باقی رہ گئی ہے جو دنیا کے اس سب سے بڑے دارالحکومت کے وائٹ ہاؤس کے کسی کونے میں سجا دی جائے گی۔ ماضی کی ایک نشانی کے طور پر۔ نہیں معلوم بھارتی حکمرانوں کا دماغ چل گیا ہے یا افغانستان سے بھاگنے والے امریکا کی سرپرستی کے زعم میں وہ اپنے بڑے ملک کو بہت ہی چھوٹا بنا رہے ہیں۔ لاتعداد باغی تحریکوں اور زبانوں اور نسلوں کا مجموعہ بھارت آخر کب تک ایسی حماقتیں کرتا رہے گا وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ شاہی امام محفوظ رہے ورنہ بھارت کو اس کی بڑی قیمت چکانی پڑتی۔ صرف کشمیر کے نہتے غیر فوجی لوگوں کو قابو کرنے کے لیے بھارت نے وہاں 8 لاکھ سے زائد فوج لگا رکھی ہے مگر بات پھر بھی نہیں بن رہی اب کسی بڑی حماقت کا نتیجہ کیا نکلے گا اور بھارت کتنی فوج جمع کرے گا جو پورے ملک کو قابو میں رکھ سکے گی۔

بھارت ہمیشہ ایک بکھرا ہوا اور راجواڑوں میں تقسیم ملک رہا ہے اسے پہلے مسلمانوں اور پھر انگریزوں نے متحد کیا مگر اب اگر بھارت میں انتشار ہوا تو مصیبت ساری ہماری ہو گی ہمارا پڑوسی اگر بے چین رہے گا تو ہمیں چین کہاں سے ملے گا بلکہ ہم خود اتحاد کو بمشکل باقی رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے ہمارے مفاد میں ہے کہ بھارت متحد اور سلامت رہے لیکن اگر امریکا وغیرہ کی شہ پر بھارت نے حد سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو یہ اس کے لیے نقصان دہ ہو گی۔ غداروں سے محفوظ پاکستان اپنے طاقت ور پڑوسی کے لیے لوہے کا چنا ہو گا اور کون نہیں جانتا کہ ہم اب ایک ایٹمی طاقت ہیں اور تکنیکی اعتبار سے بھارت سے آگے ہیں۔ بھارت بھی ایک ایٹمی ملک ہے اس لیے دونوں کا امن دونوں کے لیے ضروری ہے اور بھارت کو صبر سے بیٹھنا چاہیے۔ درست کہ اب پاکستان میں ایک بھارت پسند حکومت ہے لیکن کب تک یہ حکومت تو بس اب چل چلاؤ کی کیفیت میں ہے لیکن پاکستانی قوم اپنے کسی شاہی امام کا احترام کرنا جانتی ہے اور بھارت کی سرزمین پر زندہ اپنی حکمرانی کی علامتوں سے محبت کرتی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.