.

ڈی ایٹ کو اقوام متحدہ میں مبصر کی حیثیت

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی کو ششوں کے نتیجے میں ڈی ایٹ کانفرنس کو اقوام متحدہ میں مبصر کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ ڈی ایٹ کو اقوام ِ متحدہ میں مبصر کا درجہ دلوانے کے لئے پاکستان میں دسمبر 2012ء میں ڈی ایٹ اقتصادی امور کے وزراء کی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں ڈی ایٹ کانفرنس کو مبصر کا درجہ دلانے کے لئے اتفاقِ رائے ہوا تھا جس کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ میں اپنی ان کوششوں کو جاری رکھا۔ اس مقصد کے لئے25 ستمبر 2014ء کو نیو یارک میں ڈی ایٹ وزرائے خارجہ کا اجلاس وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کی زیر صدارت میں منعقد ہوا تھا، جس میں مشاورت کو مکمل کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ 69 ویں اجلاس میں قرارداد پیش کی گئی جسے منظور کر لیا گیا جو کہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

ڈی ایٹ ممالک کی یہ تنظیم کیوں قائم کی گئی ہے اور اس تنظیم کے مقاصد کیاہیں ؟ ہمیں اس پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ڈی ایٹ ممالک کی تنظیم جو کہ آٹھ ممالک ترکی، پاکستان، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا، مصر، بنگلہ دیش اور نائیجریا پر مشتمل ہے تنظیم اسلامی کانفرنس کے بھی رکن ممالک ہیں۔ ان تمام رکن ممالک کی کل آبادی ایک ہزار ملین یعنی ایک سوارب کے لگ بھگ ہے جو پوری دنیا کی آبادی کا بیس فیصد ہے۔ ان تمام ممالک کی ایک دیگر اہم خصوصیت دنیا کے وسائل کا چالیس فیصد سے زائد کا مالک ہونا ہے اور ان کا جمہوریت ( اگرچہ مصرمیں ڈیموکریسی نہ ہونے کے برابر ہے ) پسند ہونا ( مغربی ممالک سے کم سطح پرہی سہی) ہے۔ علاوہ ازیں ان تمام ممالک کا ترقی کی جانب گامزن ہونا ہے اور اس کیلئے اپنے تئیں مختلف منصوبوں کو عملی شکل دینا ہے۔ اِس سوچ کے ساتھ اُس وقت کے ترکی کے مرحوم وزیراعظم نجم الدین ایربکان نے 22 اکتوبر 1996ء میں ان ممالک کے ماہرین اور وزراء پر مشتمل کئی ایک اجلاس منعقد کئے جن کے بعد 15 جون 1997ء کو استنبول میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں ڈی ایٹ کو سرکاری یا رسمی طور پر ایک تنظیم کا روپ دیدیا گیا۔

اس تنظیم یا ادارے کے تحت چھ اصولوں کو وضع کیا گیا۔ یہ چھ اصول کچھ یوں تھے۔ 1
۔ جنگ کی بجائے امن
2۔ دہرے معیار کی جگہ عدل و انصاف
3۔ استعماریت کی جگہ منصفانہ نظام
4۔ جھڑپوں کی جگہ مذاکرات
5۔ برتری کی بجائے مساوات
6۔ دباؤ اور پریشر کی جگہ انسانی حقوق اور ڈیموکریسی۔

ان چھ اصولوں کووضع کرنے کی اصلی وجہ بیسویں صدی میں جاری رہنے والی جھڑپوں، استعماریت اورعدم انصاف کو ختم کرتے ہوئے برابری کی سطح پر تعاون کو فروغ دینا تھا۔ رکن ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے نئے مواقع فراہم کرنا اور اس مقصد کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانا اور منصوبوں کو مشترکہ طور پر عملی جامہ پہنانا تھا۔ 15 جون 1997ء کو منعقد ہونے والے پہلے سربراہی اجلاس میں ان آٹھ ممالک کے درمیان مختلف امور اور شعبوں کوجن میں ان ممالک کو مہارت حاصل تھی میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس طرح صنعت و صحت کا شعبہ ترکی کو، تجارتی شعبہ مصر کو، دیہاتی ترقیاتی امور بنگلہ دیش کو، انسانی وسائل انڈونیشیا کو، ٹیلی کمیونی کیشن اور ٹیکنالوجی ایران کو، فنانس ، بینکاری اور نجکاری ملائیشیا کو، توانائی کا شعبہ نائیجریا کو اور زراعت کا شعبہ پاکستان کی نگرانی میں دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈی ایٹ تنظیم کے تحت ہردوسال بعد حکومتی اور مملکتی سربراہان کا اجلاس منعقد کیا جاتا ہے۔ اس تنظیم کے قیام کے وقت پاکستان میں ترکی کے سفیرآئے حان کامل کو اس تنظیم کا پہلا آپریشنل ڈائریکٹر منتخب کر لیا گیا اور پھر 2006ء میں آپریشنل ڈائریکٹر کی جگہ مستقل سیکرٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور پہلا سیکریٹری جنرل انڈونیشیا کی جانب سے مقرر کیا گیا۔ ڈی ایٹ ممالک کی اس تنظیم کا مقصد رکن ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرتے ہوئے تعاون کو جاری رکھنا ان ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔ علاوہ ازیں ان آٹھ ممالک کو عالمی توازن میں اہم کردار دلوانے کیلئے بھی ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے اور آپس کے اختلافات سے گریز کرتے ہوئے آپس کے اتحاد کو بھی مضبوط بنانا ہے۔ اس تنظیم یا ادارے کا ہدف صرف منصوبوں کو تیار کرنا ہی نہیں ہے بلکہ تیار کردہ منصوبوں کو عمل جامہ بھی پہنانا ہے۔ اسی لئے تمام رکن ممالک کے درمیان شعبوں اور سیکٹر کو پہلے ہی سے وضع کر لیا گیا ہے اور پھر ماہرین کی نگرانی میں ان شعبوں کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے۔

ڈی ایٹ ممالک کے اقتصادی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل سید علی محمد موسوی نے ماہ فروری میں اپنے دورہ ترکی کے دوران ڈی ایٹ ممالک کے منصوبوں میں ترکی کو بڑا اہم مقام حاصل ہونے سے آگاہ کیا اور کہا کہ ترکی کو با بائے ڈی ایٹ کی حیثیت حاصل ہے کیونکہ ترکی اس تنظیم کا ایک بانی رکن ہے اور امسال ماہ دسمبر میں اسے ڈی ایٹ سربراہی اجلاس میں ٹرم چیرمین کے اختیارات بھی حاصل ہوجائیں گے۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل موسوی اس بات کا بھی اظہار کر چکے ہیں کہ اس تنظیم یا ادارے کے ڈھانچے اور امور میں کچھ حد تک تبدیلیاں بھی کی جائیں گی تاکہ اس تنظیم کو علاقائی نہیں بلکہ ایک عالمی ادارے کا روپ عطا کیا جا سکے۔ سیکرٹری جنرل موسوی کے مطابق اس تنظیم کے قیام کے وقت رکن ممالک کے درمیان تجارتی حجم 20 بلین ڈالر تھا جو کہ موجودہ دور میں 150 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اورہمارا سب سے اہم ہدف 2018ء میں تجارتی حجم 500 بلین ڈالر تک پہنچانا ہے ۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امرکی ہے کہ مشترکہ اقتصادی ترقی کا نیا ایجنڈاپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مرتب کیاجائے۔ تمام ممالک اپنے اپنےنجی شعبہ کو دوسرے مسلم ممالک سے تجارت بڑھانے کے مواقع فراہم کریں۔ اس سے تجارتی حجم 500 ارب ڈالر نہیں ایک ہزار ارب ڈالر سے بھی بڑھ سکتا ہے اور اس سے ہرملک کے اقتصادی حالات میں بہتری آنے سے غربت، بے روزگاری اور دہشت گردی کے مسائل میں کمی آسکتی ہے جو وقت اور حالات کی اشد ضرورت ہے۔

ڈی ایٹ کانفرنس ترکی کے مرحوم وزیراعظم نجم الدین ایربکان کے دور میں بڑی سرعت کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھی لیکن ایربکان کو حکومت سے الگ کرنے کے بعد آنے والی حکومتوں نے اس ڈی ایٹ تنظیم کے معاملات میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہ کیا اور اس طرح وقتی طور پر اس تنظیم کے تابوت میں کیل ٹھونک دی گئی۔ اب اگرچہ اس تنظیم کو جانبر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں لیکن اس تنظیم کو شاید وہ مقام حاصل نہ ہو سکے جو کہ اسے مرحوم وزیراعظم ایربکان کے دور میں حاصل تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت ڈی ایٹ ممالک کے درمیان واضح اختلافات ابھر کر سامنے آ رہے ہیں خاص طور پر میزبان ملک ترکی اور مصر کے درمیان اختلافات سب کے سامنے ہیں۔ ترکی میں ماہ دسمبر میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں مصر کے صدر یا وزیر خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرنے کے مواقع بہت ہی کم دکھائی دیتے ہیں جو کہ اس تنظیم کی اہمیت کو کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر مصر اس اجلاس میں شرکت نہیں کرتا ہے تو پھر اس سربراہی اجلاس سے جن نتائج کو حاصل کرنے کی توقع کی جا رہی ہے ان کو حاصل کرنا بہت مشکل ہو جائے گا اور اس طرح اس تنظیم یا ادارے سے جو توقعات وابستہ کرلی گئیں تھیں وہ شاید پوری نہ ہو سکیں اور یہ تنظیم یا ادارہ بھی تنظیم اسلامی کانفرنس کی طرح مغربی ممالک کے سامنے بے بس ہوجائے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.