.

کشمیر کے حق میں لندن کا ملین مارچ

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف احتجاج کے لئے لندن میںملین مارچ کا اہتمام کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ کشمیر کے فراموش کردہ مسئلے کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروائی جائے۔

پینسٹھ میں آپریشن جبرالٹر کے ذریعے بھی کشمیر کے مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا گیامگر بھارت نے پورے پاکستان سے انتقام لینے کی ٹھان لی اوربین الاقوامی بارڈر پر ننگی جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ کارگل کا آپریشن بھی کشمیر کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے کی ایک کوشش تھی۔

ہم کس قدر بد قسمت قوم ہیں کہ کشمیر کی آزادی کے لئے قبائلی لشکر نے جہاد کا اعلان کیا تو مولانا مودودی نے جہاد کشمیر کو حرام قرار دے دیا۔حالانکہ اسی جہاد کے نتیجے میں آزاد کشمیر کا حصہ بھارت کے چنگل سے چھڑایا گیا اور ہم اس میں منگلا ڈیم بنا کر اپنی معیشت کو بچانے میں کامیاب ہوئے۔

پینسٹھ کے آ پریشن جبرالٹر کے خلاف ہماری زبانیں اور ہمارے قلم شعلے اگلتے ہیں کہ ایک فوجی آمر ایوب خان نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے پاکستان کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا۔

بھارت نے چوروں کی طرح چوراسی کے موسم بہار میں سیاچین گلیشیئر پر قبضہ جما لیا تو ہم نے کبھی بھارتی جارحیت کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ نواز شریف نے الٹا کہہ دیا کہ وہ اقتدار میں آ کر سیاچین سے اپنی فوج واپس بلا لیں گے۔ پاکستان نے بھارت کے سیاچین آپریشن کی طرز پر کارگل میں پیش قدمی کر کے ان بلند چوٹیوں پر قبضہ جما لیا جہاں سے سیاچین میںموجود بھارتی افواج کی واحد سپلائی لائن کو کاٹا جا سکتا تھا تو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے اس آپریشن کو اپنی حکومت کے خلاف ایک سازش قرار دیا اور بھارت کے ساتھ دوستی کے نئے سفر کے منافی بھی۔

گویا بھارت پورے کشمیر پر فوجی جارحیت کے ذریعے قبضہ جما لے تو جائز، بھارت آنکھ بچا کر سیاچین پر چڑھ دوڑے تو جائز۔ مگر پاکستان جب بھی کشمیر کے لئے کوئی تگ و دو کرے تو گردن زدنی ٹھہرے۔ بھارت نے ایسی ہی فوجی جارحیت کے ذریعے منادر، جوناگڑھ اور حیدر آباد پر بھی قبضہ کر لیا ، اسے بھی ہم جائز سمجھتے ہیں۔مگر ہم پینسٹھ یا اکہتر میں اپنے دفاع کے لئے کوئی قدم اٹھائیں تو آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے الزمات کی بھرمار۔

بھارت نے اکہتر میں مشرقی پاکستان میں را کے ذریعے عوام کو بھڑکا کر مکتی باہنی کھڑی کی، اسے کلکتہ کے دہشت گرد کیمپوں میں پروان چڑھایا اور پھر اس کی مدد کی آڑ میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کر کے قائد اعظم کے پاکستان کو دو لخت کر دیا تو بھی ہم ہی مجرم اور ہمارے خلاف ہی حمودالرحمن کمیشن۔

بھارت کے خلاف ہماری زبانیں گنگ ، ہم امن کی آشا کے لئے تڑپ رہے ہیں، واہگہ کی لکیر کو بھی مٹانا ہمارا ہی مشن بن چکا، دن رات تجارتی ٹرکوں کی آمد و رفت بھی ہمارا ہی نعرہ بن گیا۔ جو مطالبے کبھی بھارت نے نہیں کئے، وہ خود ہم پورا کرنے کے لئے سرگرم عمل اور پیش پیش۔

قائد اعظم نے قوم کو نعرہ دیا کہ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے، لیاقت علی خان ے مکا لہر اکر قومی عزم کاا ظہار کیا، بھٹو پہلا منتخب وزیر اعظم تھا جس نے کہا کہ کشمیر کے لئے ہزار سال تک جنگ لڑیں گے،اس کی بیٹی محترمہ بے نظیر نے کنٹرول لائن پر دوپٹہ لہرا کر والہانہ نعرہ لگایا، آزادی ! آزادی! اب اس کے بیٹے بلاول نے بھارت کو للکارا ہے کہ پورے کشمیر کو پاکستان بنائیں گے، اس دن سے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی طیش میں ہیں،ا ن کی توپیں گولے اگل رہی ہیں اور پاکستان اور آزاد کشمیر کے سرحدی دیہات کھنڈرات میں تبدیل کئے جا رہے ہیں۔

شعیب بن عزیز نے زندگی میں بڑی نیکیاںکمائی ہوں گی، میرے ساتھ انہوںنے ایک نیکی بہت شروع میں کی کہ اپنے بڑے بھائی زبیر سے ملوایا جنہوں نے میری ملاقات بیرسٹر سلطان محمود سے کروائی، وہ میکلوڈ روڈ کے ایک ٹوٹے پھوٹے ہوٹل میں مقیم تھے، میںنے نوائے وقت میگزین کے لئے ان کا ایک انٹرویو کیا جس میں انہوں نے کشمیر کے لئے بیرونی ملکوں میں مظاہروں کی تفصیل بیان کی تھی، مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ ہر سال جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ، اتوار کو لندن میں انہوں نے تاریخی ملین مارچ کیا، آزاد کشمیر کی حکومت بھی اس میں موجود تھی، پیپلزپارٹی کی اعلی تریں قیادت بھی، برطانیہ میں مقیم کشمیر ی اور پاکستانی باشندے بھی اور برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر کاز کے حامی ارکان بھی۔ یہ ہر لحاظ سے ایک قابل قدر شو تھا، اس میں بلاول کو بھی تقریر کے لئے مدعو کیا گیا تھا مگر جلوس میںموجود بعض افراد کو ان کی آمد ناگوار گزری یا پھر پاکستانی سیاست کے تعصبات نے اپنا رنگ دکھایا اور بلاول پر گندے انڈوں اور خالی بوتلوں کی بارش کر دی گئی، خالی بوتلوں کی حد تک بات سمجھ میںآتی ہے مگر گندے انڈو ںسے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مظاہرین اس کے لئے تیاری کر کے گھر سے نکلے تھے۔

اس سانحے کا جس قدر بھی ماتم کیا جائے کم ہو گا،تحریک انصاف میں عمران خان کے رشتے داروں اور کارکنوںنے لائق مذمت کاروائی کی ۔ پاکستان کی لڑائی کو وہ باہر لے گئے اور وہ بھی کشمیر کاز کے نام پر نکلنے والے ایک تاریخی جلوس کو پراگندہ کرنا ہر لحاظ سے ایک معیوب فعل ہے، عمران خان کو اس گناہ عظیم پر کشمیریوںا ور ان کے حامی پاکستانیوںسے فی الفورمعافی مانگنی چاہئے۔ان کے رشتے دار اور ان کے کارکنوںنے کشمیری شہدا کی روحوں کو بھی پاما ل کر کے رکھ دیا، عمران خان کو کشمیر پر اپنے موقف کا بھی واضح اعلان کرنا چاہئے ، اگر وہ کشمیر کو بھارتی چنگل سے آزاد کرانے کے عزم پر قائم ہوں تو پاکستان میں شوق سے سیاست کریں ورنہ لندن میںکریں یا بھارت میں، پاکستان کو اپنی موجودگی سے مکدر نہ کریں،ان کی بڑی مہربانی۔

بھارت کو جلد یا بدیر کشمیر کو آزاد کرنا ہو گا، آج کی دنیا میں طاقت کے بل پر قوموں کو محکوم نہیں بنایا جا سکتا۔ کویت پر عراق کے قبضے کو دنیا نے تسلیم نہ کیا ور اسے آزاد کروا کے دم لیا، کشمیر پر دنیا منافقت کا مظاہرہ کر رہی ہے مگر تا بکے، کشمیریوں کے عزم بالجزم کے سامنے بھارت کی جارح افواج سڑسٹھ برس میں قدم نہیں جما سکیں، اگلے سڑسٹھ برس بھی جارحیت اور جبر کا مظاہرہ کرتی رہیں ، ان کی دال نہیں گلے گی، ایک کشمیری شہید کے خون سے ہزاروں کشمیری مجاہدین جنم لیں گے۔

ہمیں ایک اور منافقت سے بھی چھٹکارہ پانا ہوگا، کشمیر کے لئے حافظ محمد سعید کی تڑپ کو ہم بھارت کی آنکھ سے دیکھنا بند کر دیں۔ وہ بھارت کے لئے شمشیر برہنہ ہیں اور اسلام کی جہادی روایات کے امین۔ امریکہ کو اگر حق حاصل ہے، نیٹو کی افواج کو اگر حق حاصل ہے کہ وہ دنیا بھر کو روندتی پھریں تو حافظ محمد سعید کو بھی حق پہنچتا ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھیں اور اسے منطقی انجام تک پہنچائیں، اگر بھٹو نے کہاتھا کہ کشمیر کے لئے ہزار سال تک لڑیں گے اور اگر بلاول کہتا ہے کہ پورے کشمیرکو پاکستان بنائیں گے ، اگر مجاہدا ول سردار عبدالقیوم کا نعرہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان اور ان کو ہم دہشت گرد نہیں کہتے تو پھر حافظ محمد سعید کا قصور کیا ہے، وہ بھی کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے عزم سے سرشار ہیں۔

آئیے، آج گلے کی پوری قوت سے نعرہ لگائیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان، یہ نعرہ اس زور سے لگائیں کہ نریندر مودی کی نیند اڑ جائے۔ اور پاکستان اوردنیابھر میںبھارت کے شردھالووں کے اوسان خطا ہو جائیں۔ بیرسٹر سلطان محمود کے لئے ایک تھپکی۔ وہ ثابت قدم رہیں۔ منزل زیادہ دور نہیں۔

اور کوئی میری معلومات میں اضافہ کر سکتا ہے کہ قومی کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی ابھی تک مولانا فضل الرحمن کے پاس ہے تو آج یوم سیاہ پر ان کا کردار کیا رہا، اگر وہ خاموش رہے تو یہ قوم کے منہ پر ایک اور سیاہی کا دھبہ ہے۔میں پھر جاننا چاہتا ہوں کہ کیا وہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئر مین ہیں یا بھارتی لوک سبھا میں انہیں کوئی مسند عطا کر دی گئی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.