.

آئے عشاق گئے وعدۂ فردا لیکر

اوریا مقبول جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ جنگ تو پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی گئی تھی۔ ایک جانب بھارتی افواج تھیں اور ان کی تیار کردہ مکتی باہنی اور دوسری جانب پاکستان فوج اور ان کے ساتھ لڑنے والے بنگالی جو اس مملکتِ خداداد پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ پورا ملک دو قسم کے دانشوروں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ ایک وہ جو گزشتہ پچیس سالوں سے اس کوشش میں مصروف تھے کہ کس طرف قومتیوں کے درمیان نفرت کو گہرا کیا جائے تا کہ وہ لوگ جو پنجابی، سندھی، بنگالی، بلوچ اور پٹھان نسلی امتیاز کو بھلا کر ایک کلمے پر متحد ہوئے تھے ایک دوسرے سے متنفر ہو جائیں۔

یہ ایک جنگ تھی اور آج بھی جاری ہے۔ اس جنگ میں آج بھی لوگ جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں اور اس مملکتِ خداداد پاکستان سے محبت کا حق ادا کر رہے ہیں۔ اس ملک سے محبت کا قرض ایک اور جانثار پروفیسر غلام اعظم نے اپنی جان بنگلہ دیش کے عقوبت خانے میں جانِ آفرین کے سپرد کر کے ادا کر دیا۔ تاریخ کا کیا عجب مذاق ہے کہ اس شہید پاکستان کی موت کا تمسخر بھی اڑایا جا رہا ہے۔ وارث میر ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جو اس جنگ کے دوران ڈھاکا گئے اور واپسی پر انھوں نے اکتوبر 1971ء میں اپنے سفر نامے پر مبنی کالم لکھنا شروع کیے۔ میں یہاں اس سفر نامے کے چند اقتباسات درج کر رہا ہوں۔

’’ایک طالب علم بولا ہمارے لیڈروں کا المیہ یہ رہا ہے کہ انھوں نے مغربی پاکستان یا پنجاب کے عام مسلمانوں کا ذکر برائی کی علامت کے طور پر کیا، حالانکہ یہ برائی ملک کے دونوں حصوں کے عوام پر مسلط ہے‘‘۔ ’’ یہ بات تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ کم ازکم تعلیمی اور رہائشی سہولتیں حاصل کرنے کی دوڑ میں مشرقی پاکستان کے طلبہ کہیں آگے تھے بلکہ مغربی پاکستان کے طلبہ بجا طور پر شکوہ کر سکتے ہیں‘‘۔۔۔’’یہ بات عام سننے میں آئی کہ عوامی لیگ کی دہشت گردی میں ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ پیش پیش تھے اور فوج کی کارروائی کے دوران ایسے طلبہ کی اکثریت سرحد عبور کر چکی ہے اور انھی طلبہ کو چند روز تربیت دینے کے بعد بھارتی فوج پاکستان سرحدوں پر پھینک دیتی ہے‘‘۔۔۔ ’’اس ہال میں عوامی لیگ کے حامی طالب علموں نے اپنی ہی ہم جماعت غیر بنگالی لڑکیوں پر وہ ظلم و ستم ڈھائے ہیں کہ ان کا ذکر تو درکنار تصور کرتے ہی یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑ کر بھاگ جانے کو جی چاہتا ہے‘‘۔۔۔’’اساتذہ ہمارے منہ پر کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا منصوبہ غیر بنگالیوں کی نسل کو ختم کرنا ہے اور آپ غیر بنگالی ہیں‘‘۔۔۔’’ مشرقی پاکستان کی نئی نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے میں نیشنلسٹ مسلمان اساتذہ کے علاوہ ہندو اساتذہ نے جو کردار ادا کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں‘‘۔

ایک جگہ وارث میر نے پروفیسر گوبند چندر دیو کا ذکر کیا ہے جو اس نفرت کی فلسفیانہ اساس مہیا کرتا تھا۔’’ان کی سرگرمیاں بہت ہی علمی اور پر اسرار تھیں۔ وہ دوسرے تیسرے مہینے کسی نہ کسی’’ تعلیمی مصروفیت‘‘ کے بہانے بھارت کا چکر ضرو ر لگاتے تھے‘‘۔پاکستان کے دونوں حصوں میں غلط فہمیوں کو بڑھانے کی کوششوں کا سراغ لندن کے تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں 55ء اور 56ء کے سالوں کے مطالعے سے لگایا جا سکتا ہے۔ سندھ یونیورسٹی کے ایک استاد نے لندن کے ایک تعلیمی ادارے کو درخواست دی کہ وہ انھیں پاکستان میں بیٹھ کر ’’ادائیگیوں کے توازن‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھنے کی اجازت دیں۔ جواب آیا، اجازت ہے لیکن مقالہ مغربی اور مشرقی پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن پر لکھنا ہو گا۔ اپریل 1971ء کے آغاز میں نیویارک کی سڑکوں پر بنگلہ دیش کی حمایت میں ایک جلوس نکالا گیا۔

اس جلوس کے شرکاء میں یہیودیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ انھوں نے ایک بے تکلف یہودی دوست سے پوچھا: ’’ہمیں خفیہ طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ بنگلہ دیش تحریک کا زیادہ سے زیادہ ساتھ دو۔‘‘ ’’اندرا گاندھی کا فرمانا تھا کہ میری رائے میں مجیب الرحمن کی ہم سے زیادہ دوستی ہے‘‘۔ چیف منسٹر بہار کا بیان تھا: نتائج کچھ بھی ہوں، میں بنگلہ دیش کے لیے اسلحہ فراہمی سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘‘۔۔۔’’اس وقت تو ہم تھرا گئے جب جلسے کے بعد ہمیں وہ سلاٹر ہاؤس دکھایا گیا جہاں غیر بنگالیوں کو ذبح کیا جاتا اور ایک بڑی میز پر لٹا کر ان کے جسم سے خون نچوڑ کر برے بڑے برتنوں میں جمع کیا جاتا۔‘‘ ’’عومی لیگ کی بغاوت کے بعد کپتیا ڈیم کے غیر ملکی انجینئروں کو قیامت صغریٰ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس علاقے میں آباد تمام خاندانوں کے مردوں کو ان کے اہل خانہ کے سامنے گولی سے اڑا دیا گیا اور عورتیں پاگلوں کی طرح گلی کو چوں میں چیختی چلاتی اور بھاگتی پھرتی تھیں۔ محمد پور اور میر پور کے کیمپوں میں کٹے پھٹے جسموں والی عورتیں مکتی باہنی کے دہشت پسندوں کی غیر انسانی کارروائیوں کی درد ناک کہانیاں سناتی تھیں۔‘‘

وارث میر کا یہ آنکھوں دیکھا حال ہے جو ان دنوں کا ہے جب یہ جنگ مشرقی پاکستان کے کوچہ و بازار میں لڑی جا رہی تھی یہ وہی جنگ ہے جس کے جرائم کے ٹربیونل نے پروفیسر غلام اعظم کو پہلے موت کی سزا سنائی اور پھر ان کی ضعیف العمری کی وجہ سے اسے نوسے سالہ قید میں بدل دیا۔ شاید ہی کسی قوم نے اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہو کہ جو پاکستان میں بسنے والے اٹھارہ کروڑ لوگوں نے ان شہیدوں کے ساتھ کیا۔ جو لوگ آج سوات، باجوڑ، اور شمالی وزیر ستان کے آپریشن کے حق میں لکھ اور بول رہے ہیں، یہی لوگ بنگلہ دیش کے جنگلی جرائم کے ٹربینونل کے حق میں بھی دلائل دے رہے ہیں۔

کل خدانخواستہ اگر ایسا ہی ٹربیونل ان آپریشنوں کے با رے میں قائم ہوا تو کیا ان کا قلم ایسی ہی گوہر افشانیاں کرے گا۔ یقینا کرے گا۔ اس لیے کہ یہ اور ان کی قبیل کے دنیا بھر کے دانشوروں کو اس مملکتِ خداداد پاکستان سے ایک ضد ہے۔ یہ ضد اور نفرت اس لیے ہے کہ یہ ان کے بتائے گئے اور بنائے گئے اصولوں کے خلاف رنگ، نسل اور زبان کے نظریے کی موت بن کر طلوع ہوا تھا۔

اس نظریے اور اس ملک سے محبت کے شہید پروفیسر غلام اعظم کو میں نے پاکستان ٹوٹنے سے پہلے کئی بار دیکھا اور سنا۔ اپنی بنگالی طرز کی میٹھی اُردو میں ان کی گفتگو دلوں میں اتر جاتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے یہ نام نہاد دانشور یہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ مشرقی پاکستان پر مغربی پاکستان کا غاصبانہ قبضہ ہے اور یہ لوگ بنگالیوں کے وسائل پر عیش کر رہے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب دانشوروں نے بنگالیوں کے منہ میں ایک فقرہ ڈالا تھا کہ ’’ہمیں اسلام آباد، لاہور اور کراچی کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی ہے‘‘ ایسے میں پروفیسر غلام اعظم جیسی چند آوازیں ہی تھیں جو ان نفرتوں کے ماحول میں محبتوں کی خوشبو بکھیرتی تھیں۔ اس کے بعد کی کہانی خونچکاں بھی ہے اور دلگداز بھی۔ تقریباً تیس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد کوئٹہ میں میری ان سے لاتعداد ملاقاتیں رہیں۔

وہ چند دن کے لیے وہاں آئے ہوئے تھے لیکن ان شخص کی شخصیت اور گفتگو کا سحرایسا تھا کہ ان کے پاس سے اٹھنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ تحریکِ پاکستان کا یہ قافلہ سالار جس نے آسام کے ریفرنڈم میں حصہ لیا، پاکستان مسلم لیگ کے ہر وال دستوں میں شامل رہا، کس فخر سے بتا رہا تھا کہ جب ڈھاکا کی سرزمین پر پاکستان نے بھارت سے کرکٹ میچ جیتا تو کسقدر جشن کا سماں تھا۔ اسٹیڈیم کے باہر لوگوں نے ستر بیل ذبح کیے تھے۔ پاکستان سے یہ محبت آج بھی بنگلہ دیش میں رچی بسی ہے۔ اسی لیے بیت المکرم میں اس شہید پاکستان کا جنازہ تاریخی ہوا۔ اس لیے کہ بنگلہ دیش کے ان دانشوروں کے جھوٹ کا خمیازہ اس طرح بری طرح بھگتا ہے کہ وہ 1971ء کے بعد بدترین حالات کا شکار ہوئے۔ 1971ء سے پہلے ایک بنگالی بھی بھارت نوکری کرنے نہیں گیا تھا، اسے اپنے ملک میں ہی روزگار میسر تھا۔

آج نوے لاکھ بنگالی دربدر کی ٹھوکریں کھاتے بھارت میں غیر قانونی تارکینِ وطن ہیں۔1971ء سے پہلے ایک بنگالی عورت بھی دنیا کے بازاروں میں نہیں بکی تھی، آج دنیا بھر کے قابل اعتماد ادارے محتاط اندازے کے مطابق بتاتے ہیں کہ دس لاکھ بنگلہ دیشی عورتیں دنیا کے بازاروں میں بیچی گئیں۔ دانشوروں کے ’’محروم‘‘ مشرقی پاکستان میں اس کا تصور تک نہ تھا۔ اس وقت بیس لاکھ کے قریب بنگلہ دیشی صرف پاکستان میں رزق کی تلاش میں نوکریاں کر رہے ہیں۔ لیکن آج بھی یہ دانشور بنگلہ دیش کو جمہوریت اور ترقی کا ماڈل بنا کر پیش کرتے ہیں۔ کوئی ان محروم بنگالیوں سے سوال نہیں کرتا جنہوں نے پاکستان سے علیحدگی کی اتنی بڑی سزا بھگتی ہے کہ آج ان کا ملک بھارت کی ایک محکموم کالونی ہے جس کی حیثیت کشمیر سے بھی بدتر ہے۔

وہاں حکم چلتا ہے تو بھارت سرکار کا۔ کیا یہ سزائیں، پھانسیاں اور جیلیں بنگلہ دیش کی حکومت خود دے رہی، وہ حکومتیں جو ان سیاسی رہنماؤں کے ساتھ سیاسی اتحاد کر کے الیکشن میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ یہ لوگ اس دھرتی کے بیٹے ہیں لیکن ان پر فرد جرم بھارت کی طرف سے عائد کی گئی ہے۔ کیا یہ دانشور اس ملکِ پاکستان کے باقی صوبوں کو بھی ویسے ہی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان کی آج تک تصورِ پاکستان سے نفرت ختم ہی نہیں ہوتی۔ انھیں ہر وہ شخص مجرم لگتا ہے جو پاکستان سے محبت کرتا ہے، مار کھاتا ہے، جان دیتا ہے اور ہر وہ شخص ہیرو ہے جو یہاں پر رہنے والوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بوتا ہے۔ لیکن پروفیسر غلام اعظم جیسے روشن چراغ عشاق کا وہ قافلہ ہیں جو آج 43 سال بعد بھی اپنی جان کا نذارانہ دے کر ثابت کرتے ہیں کہ ابھی محبت کی لو زندہ ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.