.

قادری کی واپسی

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، ہر شے اپنی اصل کو لوٹتی ہے۔ قادری نے پاکستان کو چھوڑ دیا تھا، جسمانی طور پر بھی، ذہنی طور پر بھی، بس مفادات کا رشتہ باقی تھا۔ انہوں نے دو بار کوشش کی کہ اُلو سیدھا کر لیا جائے مگر قدرت کو منظور نہ تھا، دونوں بار وہ وہیں کو سدھار گئے جہاں انہوں نے وطن مالوف کو چھوڑ کر مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔ کینیڈا کا پاسپورٹ حاصل کر کے انہیں دنیا بھر میں گھومنے پھرنے کی سہولت مل گئی تھی، کئی ملکوں کے لئے انہیں ویزے کے حصول کا تردد نہیں کرنا پڑتا تھا۔ وہ ایک شہنشاہ کی طرح تھے جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ وہ ملکوں ملکوں گھوم سکتے تھے اور تبلیغ اسلام کا مشن سر انجام دے سکتے تھے۔

میں نہیں جانتا کہ باقی ملکوں میں ان کی علمی، دینی، فقہی دھاک پر کوئی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں یا نہیں لیکن وہ یقینی طور پر پاکستانی عوام کی نظروں میں گر گئے۔ وہ اپنے کہے ہوئے پر عمل نہ کر سکے، ایک عالم ، عمل سے دور ہو جائے تو اس کے علم کا کیا فائدہ اور اس پر کون اعتبار کرے گا۔ انہوں نے دھرنے کے شرکاءسے شعلوں کی زبان میں گفتگو کی مگر وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو قادری صاحب کے علم و فضل کے بے حد معترف تھے، میںنے ان کی تحریر و تقریر کا سحر بیرونی ملکوں میں آنکھوں سے دیکھا تھا، پاکستان میں بھی ان کے چاہنے والوں کی کمی نہ تھی، وہ پچھلے سال آئے اور ان پر دوہری شہریت کی وجہ سے تنقید ہوئی تو میں نے ان کا دفاع کیا، سپریم کورٹ نے بھی ان کی دُہری شخصیت کا مذاق اڑایا، مجھے یہ طرز عمل بُرا لگا مگر قادری صاحب جس طرح ملک سے غائب ہوئے، اس سے میرا ایمان ان کے اوپر سے اُٹھ گیا۔

ان کا تازہ ورود مسعود میرے لئے ایک تازہ واردات سے کم نہ تھا۔ یہ درست ہے کہ ان کی آمد سے قبل ان کے کارکنوں کا ناحق خون ہوا، مگر قادری صاحب نے لاہور آمد پر اس کربلا کا کوئی مرثیہ نہ پڑھا ، یہ تو لکھنے اور بولنے والوں نے ان کو شہ دی کہ نوابزادہ نصراللہ خان تو ایک لاش پر قیامت کی سیاست کھڑی کر دیتے تھے، قادری صاحب کی دہلیز پر تو چودہ لاشیں گری تھیں مگر انہوں نے جیسے کان لپیٹ رکھے ہوں۔

بہر حال میڈیا کی انگیخت کے بعد انہوں نے ہوشیاری پکڑی اور انقلاب اور انتقام کا نعرہ لگا دیا، مجھے بخوبی احساس تھا کہ قادری صاحب کا انقلاب برپا کرنے کا انداز، راستہ اور طریق کار غلط ہے، ہمارے آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، میں نے کیلکولیٹر کی مدد سے حساب کر لیا تھا کہ ان کے پاس اس قدر افرادی قوت نہیں کہ وہ بزور طاقت تخت حکومت پر قابض ہو سکیں، یہ کام صرف فوج کر سکتی ہے، اور وہ بھی دیکھتی ہے کہ کیا اسے ویلکم کیا جائے گا، اور اس کی آمد پر مٹھائیاں بانٹی جائیں گی، فوج الل ٹپ حرکت میں نہیں آتی، پاکستان میںناکام فوجی انقلاب کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ کامیاب عوامی انقلاب کی کوئی گنجائش ہے۔ قادری اور ان کے ساتھ عمران نے فیل ہونا ہی تھا، ناکامی ان کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی۔ قادری صاحب کے پس پردہ کوئی بیرونی قوت ضرور ہو گی لیکن میرے جائزے میں یہ بیرونی قوت کسی لحاظ سے بھی مو¿ثر کردارادا کرنے کے قابل نہیں تھی، کینیڈا، امریکہ، نیٹو کی افواج قادری کے لئے تو پاکستان پر حملہ آور نہیں ہو سکتی تھیں اور جہاں تک پاک فوج کا تعلق ہے تو وہ ایک احمقانہ چالبازی کا ساتھ کبھی نہیں دے سکتی تھی، نہ اس نے آج تک دیا ہے۔ شور بہت ہوا کہ اسکرپٹ لکھا گیا۔ مگر یہ شور کرنے والے صرف بھیڑیا آیا، بھڑیا آیا کا شور مچا رہے تھے، بزدل، پست ذہن ، ڈرپوک تجزیہ کار زرداری کی حکومت بھی ہر ہفتے گرایا کرتے تھے۔

انقلاب فرانس کی نا کامی نے عوام کو شیزو فرینیا کا مریض بنا دیا تھا، قادری صاحب نے بھی اپنے انقلاب پر ناکامی کا خود ٹھپہ لگایا اور شاہراہ دستور پر ان کے پیر وکار روتے رہ گئے، نقصان یہیں تک ہوتا تو پھر بھی خیر تھی، لیکن اصل نقصان یہ ہوا کہ آئندہ سے عوام کسی عالم دین اور مذہبی اسکالرپر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے، پی این اے کی تحریک میں رفیق احمد باجوہ نے عوام کو دھوکہ دیا، وہ لوگوں کی نظروں میں گر گیا، مگر باجوہ صاحب عالم دین نہیں تھے، مصلح وقت نہیں تھے، مفتی دوراں نہیں تھے،قادری صاحب کے علم و فضل کے بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں، ایک روز چودھری نثار نے بھی کہا کہ قادری صاحب کی تقریر سن کر ان کا بھی دل چاہتا ہے کہ وہ حکومت چھوڑیں اور دھرنے میںجا شریک ہوں، یہ جادو بیانی ہر لیڈر کا وصف نہیںہوا کرتی، مگر قادری نے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا، وہ مفسر قرآن تھے، شارح حدیث تھے، سیرت نگار تھے اور فقہی گتھیاں سلجھانے میں مہارت رکھتے تھے، وہ سیاست میں نہ پڑتے اور پڑ گئے تھے تو ثابت قدم رہتے تو وہ امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل کی طرح یاد رکھے جاتے، کاش، و ہ مجدد الف ثانی کی روایات ہی کو پیش نظر رکھتے، مگرصد حیف ! انہو ں نے جبہ و دستار کو سر عام رسوا کر دیا، اس کام کے لئے مولانا فضل الرحمن کیا کم تھے۔

قادری نے عمران کی پسپائی کا رستہ آسان کر دیا ہے، وہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اللہ کو نواز شریف کے اقتدار کا خاتمہ منظور نہیں۔ وہ عدلیہ کو دوش دے کر دھرنے اور احتجاجی سیاست سے دست بردار ہو سکتا ہے، سیاست نہ قادری کو آتی ہے، نہ عمران خاں کے بس میں ہے، عمران کے ارد گرد گھاگ سیاست دانوں نے گھیرا ڈال رکھا ہے مگر انہیں اپنا مفاد عزیز ہے، عمران کا نہیں۔ اور کس کو پتہ ہے کہ ان میں سے کتنے نواز شریف اور زرداری کے مفاد کی نگہبانی کر رہے ہوں۔ عمران کو اصل غصہ نجم سیٹھی پر ہے جس نے بقول اس کے پینتیس پنکچر لگائے، سو نجم سیٹھی کی سزا یہ ہو سکتی ہے کہ ا نہیں کرکٹ بورڈ سے چلتا کیا جائے اور عمران خان کو اس مسند پر فرو کش کر دیا جائے، یہی اس کا پیشہ تھا، اسی میں اس کی مہارت ہے اور ملکی نظام میں تبدیلی کے لئے کسی جینوئن لیڈر کا انتطار کیا جائے۔ تبدیلی تو لوگ چاہتے ہیں۔ کبھی تو مسیحا آئے گا نا!

اور قادری نے ایک مستقل خرابی اوور سیز پاکستانیوں کے لئے پیدا کر دی ہے، ان کی اکثریت پسینہ بہا کر مادر وطن کے لئے قیمتی زرِ مبادلہ اکٹھا کرتی ہے۔ مگر قادری نے ان کے کردار کو مشکو ک بنا دیا۔ اب ہر اوورسیز پاکستانی پر شک کیا جائے گا کہ وہ پاکستان کا وفادار ہے یا ملکہ معظمہ کا۔ جس روز سے قادری نے گل کھلایا ہے، میں تو جھولیاں اٹھا کر دعائیں کر رہا ہوں کہ گورنر سرور سے بھی جان جلد چھوٹ جائے، موقع بھی پیدا ہو چکا، وہ ناراض ہوئے بیٹھے ہیں ۔ وہ اپنی اولاد کے پاس واپس جائیں جس نے برطانیہ عظمیٰ کی وحدت کی جنگ لڑنے کے لئے آخری وقت میں گورنر سرور کو چھٹیوں پر واپس بلایا اور اس مشن میں کامیابی کا صلہ بھی فوری مل گیا کہ سرور کا بیٹا اسکاٹش لیبر پارٹی کے ڈپٹی لیڈرکے عہدے سے ترقی پا کر چیئرمین بنا دیا گیا۔ انس سرور کو بھی مبارکباد اور سرور کو بھی مبارک باد۔ دعا ہے کہ قادری اور ان کے بیٹے کینیڈا میں پھلیں پھولیں، ہم پاکستانی ایک جہنم میں پگھل رہے ہیں، ہمیں جہنمی داروغوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.