.

کیا مصر بشار کے لیے مصالحتی کردار ادا کرے گا؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشارالاسد ان دنوں اپنے سفارتی ذرائع سے اس کوشش میں ہیں کہ مصر کو اس امر پر قائل کیا جائے کہ وہ اپنے بڑے اتحادی سعودی عرب کے ساتھ اسد رجیم کے حق میں رابطے کرے۔ تاکہ سعودی عرب کا شام اور شامی رجیم کے حوالے سے سخت ترین موقف کچھ نرم ہو سکے۔

مصر کے ساتھ یہ سفارتی رابطے بعض سفارتی دستاویزات اور خط و کتابت کے حوالے سے کیے گئے ہیں۔ ان دستاویزات میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ شام اور ایران کے درمیان تنازعات ہیں، خصوصا ریاست اور مذہب کے درمیان تعلق کے حوالے سے۔ اسد رجیم کی طرف سے یہ کوشش اس کے باوجود کی گئی ہے کہ اسد رجیم مصر کی طرف سے زیادہ مثبت توقع نہیں کرتی ہے۔

اسی بات کا اظہار لبنانی اخبار ''النہار'' کے کالم نگار سارکیس نوم نے اپن حالیہ کالم میں کیا ہے۔ اس کالم سے لگتا ہے کہ اسد، مصر کو اس حوالے سے کس طرح رام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے متعلقہ دستیاب اطلاعات اس امر کی تصدیق کرتی ہیں۔ بشار الاسد ان دنوں 2011 سے جاری مزاحمت کے بد ترین دور سے گذر رہا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا شام اور ایران کے درمیان واقعی کوئی تنازعہ ہے؟ کیا مصری قیادت بد ترین آمریت قائم رکھنے کی کوشش میں مصروف ایسی اسد رجیم کو بچانے کے لیے مصالحتی کردار ادا کرنے کو تیار ہے؟ جسے وہ پچھلے سو سال سے جانتی ہے۔ نیز یہ بھی دیکھنا ہو گا کیا یہ سعودی عرب کے لیے بھی ممکن ہو گا کہ وہ شام کے ساتھ تعلقات کو بحال کرے؟

اسد تنہائی کا شکار

اس سے قطع نظر کہ اسد رجیم کے ساتھ کیا ڈیل ہو سکتی ہے اور کون اس کے لیے کوشاں ہے یا ہو سکتا ہے، ایسی بہت سی وجوہات موجود ہیں کہ سعودی عرب اسد رجیم کے ساتھ کوئی ڈیل قبول نہ کرے۔ ان اہم وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ ہے کہ شام میں ایک چوتھائی ملین شہری قتل ہو چکے ہیں۔ اس قتل عام کے حوالے سے اسد رجیم ناقابل معافی ہے۔ باوجودیکہ اسد رجیم اپنے ان سنگین جرائم پر نادم اور شرمندہ ہو۔ اس کی دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ جدو جہد پھیل چکی ہے اب صرف اسد کے ساتھ تنازعہ نہیں رہا ہے۔

میں اس امر کو مسترد نہیں کرتا کہ زیر محاصرہ اسد رجیم اپنے بچاو کے لیے اس طرح کی کوششیں کر رہی ہے۔ لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ سعودی عرب کی طرف سے اس کی ان تمناوں پر غور کیا جانا کلی طور پر ناممکن ہے۔ لیکن اگر معاملہ شام کیطرف سے سعودی عرب اور مصر کو دھوکہ دینے کا ہے تو یہ اور بات ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اسد رجیم اور ایران کے درمیان مذہبی مداخلت کی وجہ سے اختلاف ہے تو اس پر کوئی بھی یقین نہیں کرے گا۔ کیونکہ یہ ایران ہی ہے جو اسد کے اقتدار کے بچاو کے لیے بہت کچھ خرچ کر رہا ہے۔

شامی رجیم اپنی دفاعی صلاحیت کا بیشتر حصہ گنوا چکی ہے۔ اس کی فوج اور سلامتی سے متعلق وہ ادارے جو چالیس برس تک اقتدار کے تحفظ کے لیے بروئے کار رہے ہیں، اب پہلے کی طرح مضبوط نہیں رہے ہیں۔ اگر اسد رجیم کو ایرانی حمایت حاصل نہ ہو تو اسد حکومت راتوں رات ختم ہو سکتی ہے۔ بشارالاسد نے اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ یہ کوشش کی ہے کہ سعودی عرب کو قائل کرسکے۔ کہ سعودی عرب اپنے موقف میں تبدیلی کرے، لیکن اسد رجیم کواس معاملے میں ہمیشہ اس لیے ناکامی دیکھنا پڑی کہ اسد اقتدار سے دستبرداری کے لیے تیار نہیں۔ نہ ہی مفاہمتی حوالے سے موجود ڈھانچے میں کسی اور کو شامل کرنے کو تیار ہوئے۔

اس صورت حال میں سعودی عوام بھی سعودی جکومت کی پالیسی کے کلی طور پر ساتھ پیں۔ لہذا اسد جسے خطے کا بدترین حکمران مانا جاتا ہے کے لیے کسی نرمی کا امکان نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ اسد اپنا بوریا بستر لپیٹے اور ماسکو یا تہران میں سے کسی ایک ہاں جا بسے۔ اگر مصر اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے ہاں بشارالاسد کو کسی ایک مہمان خانے میں جگہ دے دے، اگرچہ مصر کی طرف سے ایسا کیا جانا بہت سوں کو ناراض کرے گا۔

اک معجزہ

مصر کا شام میں شروع ہونے والی مزاحمت کے بارے میں موقف بلا شبہ 2011 سے ایک تسلسل رکھتا ہے۔ شروع میں اخوان المسلمون نے حکومت میں ہوتے ہوئے مصالحت اور مفاہمت کے لیے ایرانی تجاویز کی حمایت کی تھی ۔ ان تجاویز میں اسد کو اقتدار پر فائز رکھنا شامل تھا، البتہ اپوزیشن کو بھی چند عہدے دینے کی بات کی گئی تھی۔ اس طرح اخوان المسلمون نے ایران کے ساتھ اپنے ان معاہدات کو نارمل کر لیا جو خمینی انقلاب کے دنوں سے چلے آرہے تھے۔ تین دہائیوں سے یہ معاہدات مصر، سوڈان اور غزہ کے لیے چلے آ رہے ہیں۔ محمد مرسی کے دور صدارت کے آخری دنوں میں مرسی نے اپنے موقف میں ترمیم کی اور شام میں رجیم کی تبدیلی کا موقف اختیار کر لیا۔

مرسی نے اس کا اعلان خلیج کے اسلامی گروپ کی ایک تقریب کے دوران کیا۔ یہ سچ ظاہر کیا جانا چاہیے کہ اب اسد کے لیے کوئِی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ میرے خیال میں اب ایک ہی معجزہ مفید ہو سکتا ہے کہ مفاہمت کی بات کرنے والا یہ کہے کہ اسد کو دمشق سے کو نکلنے دیا جائے اور اس تناظر میں سیاسی معاہدہ عمل میں آئے۔ اس معاہدے میں اسد رجیم کے چھوٹے گروپوں کو تسلیم کیا جائے اور یہ ''جنیوا ون'' کی منظور کردہ قرارداد کی روشنی میں عمل میں لایا جائے۔ صرف اسی طرز کی ایک مصالحت کے لیے مصر کوئی کردار ادا کر سکتا ہے اور اسے ہی قبولیت مل سکتی ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.