.

ریحانہ جباری کیس

یاسر پیرزادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میرا نام ریحانہ جباری ہے‘ میرا تعلق ایران سے ہے‘ میں 19سال کی تھی جب مجھے ریپ کرنے کی کوشش کی گئی‘ خود کو بچانے کی غرض سے میں نے اپنے حملہ آور کی کمر میں چھرا گھونپ دیا‘ اس کے قتل کے الزام میں مجھے 25اکتوبر 2014کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا‘ پھانسی کے وقت میری عمر 26برس تھی ۔موت کو گلے لگانے سے پہلے میں نے اپنی ماں کے نام یہ پیغام چھوڑا : ’’اس دنیا نے مجھے جینے کے لئے صرف 19برس دئیے‘ اس لرزہ خیز رات کو میری زندگی کا خاتمہ یقینی تھا ‘ میری لاش کو شہر کے کسی کونے میں ٹھکانے لگا دیا جاتا ‘چند روز بعد تمہیں پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کے پاس بلایا جاتا جہاں تم میری لاش کی شناخت کرتی مگر اس حالت میں کہ میرا ریپ کیا جا چکا ہوتا ‘قاتل کا کبھی پتہ نہ چل سکتا کیونکہ ہم اس کی طرح با اثر اور مال دار نہیں ہیں ۔اور پھر تمہاری زندگی کی نہ ختم ہونے والی اذیت اور رسوائی کا آغاز ہوتا اور چند برس تم بھی اس اذیت کی تاب نہ لا کر مر جاتیں۔مگر یہ کہانی تبدیل ہو گئی ‘ میری لاش کو شہر کے کسی کونے میں تو نہ پھینکا گیا مگر جیل کی سلاخوں کے پیچھے تنہا مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا …تمہیں یاد ہے جب میں اسکول میں تھی تو تم مجھے سکھایا کرتی تھی کہ کسی بھی قسم کی لڑائی میں عورت کو اپنا وقار ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے ‘ تمہیں یاد ہے تم اس بات پر کتنا زور دیا کرتیں تھی کہ ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے ! میری ماں ‘تمہاراتجربہ غلط تھا ۔جب یہ واقعہ ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ ان تعلیمات کا کوئی فائدہ نہیں ‘عدالت میں پر سکون انداز میں بیٹھنے کے انداز نے الٹا مجھے ایک سنگ دل قاتل اور سفاک مجرمہ کے روپ میں پیش کیا ‘ میں نے کوئی آنسو نہیں بہائے ‘ میں نے کسی سے بھیک نہیں مانگی ‘میں رو رو کر نہیں چلائی کیونکہ مجھے قانون پر بھروسہ تھا‘لیکن مجھے قصور وار ٹھہرا دیا گیا۔تم تو جانتی ہو کہ میں نے تو زندگی میں کبھی ایک مچھر بھی نہیں مارا ‘میں تو کاکروچ کوبھی مارنے کی بجائے اس کو اینٹینے سے پکڑ کر پرے کرتی تھی۔لیکن اب میں ایک قاتلہ ہوں۔ جانوروں کے ساتھ میرے سلوک کو یوں سمجھا گیا گویا میں boyishہوں ‘اور جج نے تو یہ بھی سمجھنے کی زحمت گوارا نہیں کہ اس واقعے کے وقت بھی میرے ناخن لمبے تھے اور ان پر پالش تھی۔وہ لوگ کس قدر خوش فہم ہوتے ہیں جو ججوں سے انصاف کی امید رکھتے ہیں ‘جج نے تو اس بات کی تحقیق بھی نہیں کہ میرے ہاتھ تو کھردرے بھی نہیں جیسے کسی کھلاڑی خاتو ن یا کسی خاص طور سے کسی باکسر کے ہوتے ہیں ۔یہ ملک جس کے لئے تم نے میرے دل میں محبت پیدا کی‘ اس ملک میں کسی نے میری حمایت نہیں کی اس وقت جب تفتیش کار وں کے سامنے میں بے بسی سے رو رہی تھی اورمجھے فحش ترین کلمات سنائی دے رہے تھے۔جب میں نے خود سے اپنی خوبصورتی کا آخری نشان بھی کھرچ دیا اور اپنے سر کے بال صاف کر دئیے تو مجھے انعام سے نوازا گیا ‘11دن قید تنہائی!

میری پیاری ماں‘ اپنی جان سے عزیز ماں‘میںمٹی تلے دب کر گلنا نہیں چاہتی‘میں نہیں چاہتی کہ میری آنکھیں اور میرا جوان دل مٹی میں مل کر مٹی ہو جائے ‘میں چاہتی ہوںکہ ایسا انتظام کیا جائے کہ پھانسی کے فوراً بعد میرا دل ‘ گردہ ‘ آنکھیں ‘ ہڈیاں اور کوئی بھی ایسے اعضا جنہیں ٹرانسپلانٹ کیا جا سکے ‘میرے جسم سے نکال کر ان لوگوں کو تحفتاً دے دئیے جائیں جنہیں ان کی ضرورت ہو۔میں نہیں چاہتی کہ ضرورت مند کو میرے نام کا علم ہو۔میرے لئے ایک گلدستہ خریدو یا فقط میرے لئے دعا کرو‘ میں تمہیں اپنے دل کی گہرائیوں سے یہ بتا نا چاہتی ہوں کہ میں یہ ہر گز نہیں چاہتی کہ تم میری قبر پر آ کر گریہ زاری کرواور تکلیف میں رہو‘میں نہیں چاہتی کہ تم ماتمی لباس پہنو‘کوشش کرناکہ میرے مشکل دنوں کو تم بھلا دو…خدا کی عدالت کے سامنے میں پولیس انسپکٹروں پر فرد جرم عائد کروں گی ‘میں انسپکٹر شملو پر فرد جرم عائد کروں گی ‘میں جج پر فرد جرم عائد کروں گی‘اس ملک کی سپریم کورٹ کے ججوں پر فرد جرم عائد کروں گی جو مجھے جاگتے میں اذیت دیتے تھے اور مجھے ہراساں کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔خالق دو جہاں کے دربار میں میں ڈاکٹر فروندی پر فرد جرم عائد کروں گی‘قاسم شبانی پر فرد جرم عائد کروں گی‘اور ان تمام لوگوں پر جنہوں نے لا علمی میں یا جانتے بوجھتے ہوئے جھوٹ بولتے ہوئے مجھے غلط ثابت کیا اور میرے حقوق کو کچل ڈالاااور اس بات کو نہیں سمجھاکہ بعض اوقات حقیقت وہ نہیں ہوتی جو بظاہر نظر آتی ہے…۔‘‘

25اکتوبر کو پھانسی پر جھول جانے والی ریحانہ جباری کی یہ آخری تحریرتھی۔2007ء میں ریحانہ کی عمر 19سال تھی ‘ وہ ایک کیفے میں انٹیریئر ڈیزائنر تھی ‘وہاں اس کی ملاقات مرتضی عبدل علی سربندی سے ہوئی جو ایران کی انٹیلی جنس کا سابقہ اہلکار تھا ‘ اس نے ریحانہ سے اپنا دفتر ڈیزائن کرنے کی درخواست کی ‘ ریحانہ نے حامی بھرلی۔ جس روز ریحانہ اس کے دفتر پہنچی تو سربندی نے ‘بقول ریحانہ‘ اسے ریپ کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ریحانہ نے اس پر چھری سے وار کیا اور اسے خون میں لت پت چھوڑ کر بھاگ گئی ‘سربندی کی موت واقع ہو گئی ‘ بعدازاں ریحانہ کو اس کے قتل کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا‘ گرفتاری کے بعد اسے دو ماہ قید تنہائی میں رکھا گیا اور اسے اپنے وکیل تک رسائی بھی مہیا نہیں کی گئی ۔ریحانہ جباری پر قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا‘ عدالتی کاروائی کے دوران ریحانہ نے اس بات کا اقرار کیا کہ اس نے ذاتی دفاع میں سربندی پر چھری سے وار کیا کیونکہ وہ اس کا ریپ کرنا چاہتا تھا تاہم قتل کی ذمہ دار وہ نہیں کیونکہ ریحانہ کے بقول قتل کے وقت کوئی اور شخص بھی موقع پر موجود تھا جس نے دراصل سربندی کا قتل کیا لیکن ریحانہ نے آخر ی وقت تک ایسے کسی شخص کی شناخت نہیں کی۔مقتول کے بیٹے نے کہاکہ وہ اس وقت تک ریحانہ کو معاف کرنے کے بارے میں نہیں سوچ سکتے جب تک ریحانہ انہیں پوری سچائی اور یہ بات نہیں بتاتی کہ موقع پر موجود دوسرا شخص کون تھا!مقدمہ چلا اور عدالت نے ریحانہ جباری کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی ‘ اس سزا کے خلا ف پوری مغربی دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل نے احتجاج کیا اور ریحانہ کیس کے ری ٹرائل کا مطالبہ کیا ‘ان کا کہنا تھا کہ ریحانہ کے ریپ کے الزام او ر کسی تیسرے شخص کی موقع پر موجودگی کے بیان کی درست طریقے سے تفتیش نہیں ہو سکی اور یوں یہ سزا سنگدلانہ ہے ۔ ریحانہ جباری کی پھانسی کے بعد ایران کے محکمہ استغاثہ نے ملکی اور غیر ملکی ردعمل کے نتیجے میں ایک بیان جاری کیا جس میں ریحانہ کو دی جانے والی سزا کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے سے دو روز قبل ریحانہ نے قتل کے لئے چھری خریدی تھی اور تین روز قبل اپنی ایک دوست کو فون پر پیغام بھیجا تھا کہ’’میںآج رات اسے قتل کر دوں گی۔‘‘کسی بھی معاشرے میں جرم کے نتیجے میں سزا دینے کے چار محرکات ہوتے ہیں ‘ پہلا ذاتی انتقام‘ یعنی اگر کسی شخص کے ساتھ ظلم ہوتو اسے اس بات کا یقین ہو کہ ریاست مجرم کو سزا دے کر اس کے ظلم کا بدلہ لے گی لہٰذا اسے قانون ہاتھ میں لے کر مولا جٹ بننے کی ضرورت نہیں ۔دوسرا‘ جب معاشرے کے دیگر شہری کسی پر ظلم ہوتا ہوا دیکھتے ہیں تو ضروری ہے کہ ظالم کو اس لئے سزا دی جائے تاکہ باقی لوگوں کو اطمینان ہو کہ کل کو اگر ان کے ساتھ یہ ظلم ہوا تو ریاست اسی طرح ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ تیسرا‘ بطور شہری مجھے پتہ ہو کہ اگر کل کو میں نے جرم کیا تو سزا سے نہیں بچ پائوں گا لہٰذا معاشرے میں جرائم قابو میں رہتے ہیں اور چوتھا‘ اگر غلطی سے یا حادثاتی طور پر کوئی جرم سرزرد ہو جائے تو کم سزا دی جائے اور اس میں اصلاح کا پہلو مد نظر رہے۔ ہر معاشرے میں فئیر ٹرائل کا معیار ان چاروں عناصر کی بنیاد پر معاشرے کی اپنی اقدار طے کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشترممالک میں جج کی بجائے جیوری کسی کے مجرم ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے اور وہ جیوری اس علاقے کے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جہاں جرم واقع ہوتا ہے،جیوری کے ممبران دراصل یہ طے کرتے ہیں کہ آیا مجرم ان کی کمیونٹی میں ان کے ساتھ رہنے کے قابل ہے یا نہیں‘ اور یہیں سے جیل کا تصور شروع ہوتا ہے۔ جن مغربی ممالک میں یہ نظام رائج ہے وہ ایران کو فیئر ٹرائل نہ کرنے پر مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں اور اس الزام میں صداقت بھی ہے مگر خود انہی ممالک نے ایران کو گزشتہ چالیس برس سے ’’فیئر ٹرائل‘‘ کا حق نہیں دیا اور اسے اپنی کمیونٹی سے باہر نکال رکھا ہے‘ انہی میں سے ایک ملک نے عافیہ صدیقی کو ’’فئیر ٹرائل‘‘ کے بعد پچاسی برس قید کی سزا سنا رکھی ہے اور اسی ملک کی ایک جیوری او جے سمپسن کو اپنی بیوی کے قتل کے الزام میں تمام ثبوتوں کے ہوتے ہوئے بھی بری کر دیتی ہے کیونکہ وہ او جے سمپسن ہے۔ ریحانہ جباری قصور وار تھی یا بے گناہ‘ اس بارے میں شائد سچائی کبھی سامنے نہیں آ سکے گی‘مگر کیا ہی اچھا ہو اگر مغربی ممالک فئیر ٹرائل کا کلیہ فئیر طریقے سے لاگو کریں‘ ان کی مہربانی ہوگی‘ ورنہ ہم کیا ہماری اوقات کیا۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.