آئٹم ڈانس کرونگی!

عبداللہ طارق سہیل
عبداللہ طارق سہیل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ یا دوسرے لفظوں میں تاریخی کمی کی گئی‘ وزیراعظم سے رہا نہ گیا‘ خود میڈیا کے سامنے آکر یہ خوش کن اعلان کیا۔ اچھی بات ہے لیکن کاش وہ دن بھی آئے جب وزیراعظم اپنی کوئی کارکردگی بتانے میڈیا کے سامنے آئیں۔ تیل سستا کرنے کا ان کی کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تو امریکہ کی مہربانی ہے۔ اس نے شیل ٹیکنالوجی کی وجہ سے اپنا درآمدی بل 30فیصد تک کم کر لیا جس سے عالمی منڈی میں قیمتیں گر گئیں۔ امریکہ کی بڑی مہربانی میں داعش کی چھوٹی مہربانی بھی شامل ہے جس نے شام اور عراق میں تیل کے بہت سے کنوؤں پر قبضہ کر کے تیل کو ’’ڈانگوں کے گز‘‘ کے حساب سے برآمد کرنا شروع کر دیا۔ اس وجہ سے بھی تیل کی قیمت اتنی کم ہوگئی۔

لیکن جتنی کم ہوئی‘ پاکستان میں اتنی کم نہیں کی گئی۔ یہاں جو تیل 10روپے سستا کیا گیا ہے‘ اسے25روپے سستا کرتی تو بھی حکومت کو پانچ روپے لیٹر کا فائدہ ہوتا۔ لیکن حکومت نے سوچا ہوگا‘ اتنا سستا کیا تو لوگ خوشی سے دیوانے ہوجائیں گے۔ انہیں دیوانگی سے بچانے کے لئے فی الحال صرف دس روپے کا ریلیف دیا ۔ اخبارات نے ٹھیک سرخی لگائی کہ تیل کی قیمتوں میں تاریخی کمی۔ لیکن سرخی یوں لگاتے تو زیادہ ٹھیک ہوتی کہ تیل کی قیمتوں میں صرف دس روپے کی کمی۔

دس بارہ یا پندرہ روپے فی لیٹر کی اضافی اور غیر متوقع آمدنی پیسے کی کمی کا شکار حکومت کے لئے وہ نعمت ہے جسے غیر مترقبہ لکھا جاتا ہے‘ یہ آمدنی ملا کر اربوں روپے کی ہوگی۔ حکومت اس ڈھیر ساری دولت کا کیا کرے گی۔ کسی ملکی فائدے کے لئے استعمال میں لائے گی یا پرانی عادت پر چلتی رہے گی؟

اس’’تاریخی ریلیف‘‘ سے عوام کو کچھ زیادہ فائدہ ہونے کی اُمید کم ہے۔ تیل دس فیصد سستا ہوا ہے تو مہنگائی میں بھی کمی ہونی چاہئے۔ کیا روٹی نان سستا ہوگا‘ دال سبزی کے نرخ گریں گے‘ بجلی کی قیمت کم ہوگی جو تیل سے بھی بنتی ہے؟ سب سے پہلے تو کرائے کم ہونے چاہئیں لیکن ٹرانسپورٹروں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ کرائے کم نہیں کریں گے تو نان بائیوں اور سبزی فروشوں کو کیا پڑی ہے کہ ہاتھ آیا اضافی منافع ہاتھ سے جانے دیں۔ وزیراعظم نے کرائے کم کرنے کی ذمّہ داری صوبائی حکومتوں پر ڈال دی ہے۔ اسے کہتے ہیں اپنی بلا دوسروں کے سر ڈالنا۔ صوبائی حکومتیں جس قابل ہیں‘ سب کو پتہ ہے۔ وہ تو صرف تصویریں چھپوا سکتی ہیں۔ لوگ بہت انجوائے کرتے ہیں جب سارا شہر ایسے فلیکس سے بھرجاتا ہے جن میں خادم پنجاب مشورہ دیتے نظر آتے ہیں کہ دوسروں کا ٹوتھ برش مت استعمال کرو‘ ہیپاٹائٹس ہو جائے گا۔ یا پھر قائم علی شاہ ان سڑکوں کا بتاتے ہیں جو شاید ’’انٹارکٹیکا‘‘ میں بچھائی جا رہی ہیں۔ گویا ریلیف ملنے کی یہ آس بھی یاس کے افق میں ڈوب گئی!

لگتا ہے‘ اس ’’ریلیف‘‘ کی آڑ میں حکومت وہ چھینی ہوئی رقم واپس کرنا بھی بھول جائے گی جس کی واپسی کا اس نے وعدہ کر رکھا ہے۔ بجلی کے بلوں میں زائد وصول کی گئی اس رقم کی مالیت کہا جاتا ہے کہ70 ارب کے قریب ہے۔ جس شہری کا بل تین ہزار آتا تھا‘ اسے سات ہزار بھرنا پڑے اور جس کا بل آٹھ ہزار کا تھا‘ اسے20ہزار کا آیا۔ اس بلنگ کی وجہ سے یہ مہینہ کروڑوں پاکستانیوں پر کیسی قیامت بن کر ٹوٹا یا گزرا‘ وزیراعظم کو اس کا اندازہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک کمیٹی بنی جس کی رپورٹ وزیراعظم نے مسترد کر دی۔ پتہ نہیں اس میں کیا لکھا تھا۔ اب دوسری رپورٹ لکھنے کا حکم ہے۔ اس میں کیا لکھا جائے گا؟ یہی کہ عوام کو تیل کی مد میں تاریخی ریلیف مل چکا‘ اب اضافی بل واپس کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ کمیٹی کو رخصت پر جانے کی ریلیف دی جائے۔

________________________

وزیراعظم نے کارکردگی پر وزیروں کا احتساب شروع کر دیا ہے۔ ایک اور اچھی بات۔ لیکن وزیروں سے پہلے کیا وزیراعظم کو خود احتسابی نہیں کرنی چاہئے تھی؟ اس بات کی کہ انہوں نے ایسے نالائق اور نکمّے وزیر کیوں رکھے جو سال بھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور مکھی مارنے کا کام بھی اپنے عملے سے لیتے رہے؟

ایک سال تو اس نالائقی میں گزر گیا۔ بعد کے چار مہینے مولوی اور پلے بوائے کی سازش کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اب اس سازش کا جنازہ اٹھ رہا ہے تو وزیراعظم کو چا ہئے کہ سچ مچ کی کارکردگی کی طرف آجائیں‘ ورنہ نئی سازش ہوگی جو شاید لے ڈوبے گی۔ ان کی حکومت کو بھی اور ملک کو بھی۔

کارکردگی کے ساتھ سچ مچ کا سابقہ لکھنا اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں کارکردگی دکھانے میں بھی بے ایمانی ہوتی ہے۔ مثلاً کراچی ہی کو لے لیجئے۔ وہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر روز دہشت گردوں اور گینگ وار کے گینگسٹرز کو مارنے کی ’’کارکردگی‘‘ دکھا رہے ہیں۔ کراچی کے لوگ کہتے ہیں‘ سب جعلسازی ہے۔ ہر روز دو چار کاغذ چننے والے پٹھان لڑکے اٹھا کر ان کو شوٹ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں‘ خطرناک دہشت گرد مار دیئے‘ لیاری کی گلیوں سے دو چار بلوچ اٹھا کر مار دیئے اور کہا کہ یہ گینگ وار میں ملوّث تھے۔ اس جعلسازی کا ’’پائینیر‘‘ کراچی کی حد تک وہ اسلم خان تھا جو ایک بم دھماکے میں مارا گیا۔ لیکن ملک گیر سطح پر پنجاب اس کا بانی ہے جہاں پولیس نے سینکڑوں بے گناہ شہری اٹھا کر مارے اور کہا کہ یہ سب دہشت گرد‘ خطرناک ڈاکو اور نہ جانے کیا کیا تھے۔ اس ’’صدقہ جاریہ‘‘ کا سہرا پنجاب کے سرپکّا بندھا ہے۔

________________________

عمران خان نے تین روز پہلے اپنی واحد اتحادی جماعت اسلامی پر بھی چڑھائی کر دی۔ حالانکہ اس کا جواز نہیں تھا۔ جماعت اسلامی‘ جب سے یہ دھرنے شروع ہوئے ہیں‘ عمران خان کا ساتھ دے رہی ہے۔ پھر کیوں چڑھائی کی؟ اس لئے کہ سکرپٹ میں لکھا ہوا تھا؟ اگر یہ نہیں تو پھر مسلسل مایوسی‘ دن بدن بڑھتے غصّے کا شاخسانہ سمجھئے۔ بہرحال‘ شاہ محمود قریشی وغیرہ نے عمران کو سمجھایا کہ پہلے ہی سب کچھ ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتا جا رہا ہے۔ جماعت کو ناراض کر دیا تو وقت سے پہلے فارغ البال ہو جائیں گے۔ پھر کہیں جا کر عمران نے غصّہ تھوکا۔

ماعت اسلامی کی کیا مجبوری ہے۔ وہ کیوں ایسے سکرپٹ کا ساتھ دے رہی ہے جو واضح طور پر چھ کونے والے ستارے (ڈیوڈ سٹار) کی ’’ٹولائٹ‘‘ میں لکھا گیا ہے۔ تازہ واردات ملاحظہ فرمائیے۔ اسلام آباد کی جس ’’نیک نام‘‘ اسلامی یونیورسٹی نے پچھلے دنوں اسرائیل کا سٹال لگایا‘ اس کا ڈین تحریک انصاف کا نامی گرامی ٹائیگر ہے۔ اب بھی بات واضح نہیں ہوئی؟ تحریک انصاف کے بجرنگ بلی جنرل پرویزمشرف کی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بے چینی یاد کیجئے اور مشرف کے وزیر خارجہ حال رہنما تحریک انصاف خورشید قصوری کے وہ بیانات بھی جن کو پڑھ کر لگتا تھا کہ تل ابیب سے جاری ہوئے ہیں۔

جماعت اسلامی کی کوئی سیاسی مجبوری بھی نہیں ہے کہ وہ تحریک کا ساتھ دے۔ صوبہ خیبر میں حکومت بنائے رکھنے کے لئے تحریک انصاف کو جماعت اسلامی کی ضرورت ہے‘ جماعت کو اس کی نہیں۔ شاید جماعت یہ سمجھتی ہے کہ خیبر حکومت گر گئی تو کوئی بحران آجائے گا۔ حالانکہ خیبر حکومت گرنے سے جو تھوڑ ابہت بحران ہے وہ بھی ٹل جائے گااور عمران خان بے جان خان بن جائیں گے۔
________________________
مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پنڈی کا میراثی اپنی بدزبانی بند کرے ورنہ بتا دوں گا کہ پنڈی والے اسے کیا کہتے ہیں۔
پنڈی کا میراثی کون ہے؟ مولانا نے نہیں بتایا لیکن لوگ سمجھ گئے کہ انہوں نے پنڈی کا میراثی کسے کہا ہے۔ اور جب لوگ یہ سمجھ گئے کہ میراثی کسے کہا ہے تو وہ یہ بات بھی سمجھ گئے کہ مولانا نے کیا کچھ بتانے کی دھمکی دی ہے۔ اور جب لوگ پہلے ہی سمجھ گئے یا انہیں پہلے ہی پتہ ہے تو مولانا اب بتا کر کیا کریں گے؟

میراثی اسے کہتے ہیں جسے میراث میں کچھ ملا ہو۔ زیر بحث میراثی اس لحاظ سے میراثی کی تہمت کا سزا وار نہیں ہے۔ اسے میراث میں کچھ نہیں ملا‘ حتیٰ کہ وہ بھوری مٹیالی بے لالی حویلی بھی نہیں۔ اس کے پاس جو کچھ ہے‘ اس نے ہتھیایا ہے یا آمروں سے دان میں پایا ہے۔ گویا مولانا کی دھمکی بھی غلط اور تہمت بھی غلط۔ فی الحال اتنا لکھنے کو کافی جانیئے‘ تشفّی نہ ہو تو ایک نیوز چینل کے میک اپ مین سے رابطہ کیجئے۔ وہ بتائے گا کہ زیر بحث میراثی یا نان میراثی کی حالت اس ’’ڈانسر‘‘ جیسی ہے جس کی دونوں ٹانگیں مفلوج ہو چکیں لیکن وہ پھر بھی اڑئی ہے کہ ’’آئٹم ڈانس‘‘ کرے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں