دُنیا کی بڑی جنگ کی طرف سرپٹ دوڑ

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کراچی میں پاکستان اور مسلمانوں کا جوہر جمع ہے، اُس کے ایک سپوت نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، اُس کے بعد کراچی کو امن نصیب نہیں ہوا۔ عالمی قوتوں نے اُس کو مضطرب رکھا کہ کہیں اور قابل شخص پاکستان کیلئے کوئی بڑا کام نہ کردے، دوسرے پاکستان بدامنی اور دہشت گردی کی زد میں ہے کیونکہ ملک ایٹمی طاقت بن چکا ہے، اِس کی صلاحیت شاندار ہے اور اُس کا محل و وقوع اسٹریٹجک ہے، اس ملک میں بدامنی اور سیاسی بحران کو قائم رکھنا عالمی طاقتیں اس لئے ضروری سمجھتی ہیں کہ پاکستان اندر ہی دیکھتا رہے اور عالمی طور پر کوئی کردار ادا نہ کرسکے کیونکہ دُنیا اس وقت ایک بڑی جنگ کی تیاری میں لگی ہوئی ہے اس لئے کہ امریکی بالادستی کے خاتمے کیلئے روس ڈالر کی تجارت کی کرنسی کو چیلنج کررہا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نظام کا متبادل ایک نیا بینک برکس ممالک نے جس میں برازیل، روس، چین، بھارت اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، بیجنگ (چین) میں بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ روس ڈالرکی بجائے چین کے توان، سنگاپورڈالر، ایران کی کرنسی اور دیگر کرنسیوں میں تجارت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

مزید برآں چین نے حال ہی میں ایشیائی ترقیاتی بینک بنالیا ہے۔ اس کے علاوہ چین نے امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کرنے کیلئے جنوبی چین کے سمندری علاقے اور اس میں موجود ہزاروں کی تعداد میں جزائر پر اپنی ملکیت کا اعلان کردیا ہے۔ یہ جزائر تیل کی دولت سے مالامال ہیں اور عالمی تجارتی گزرگاہ ہیں۔اس لحاظ سے دُنیا میں پانچ خطے عالمی جنگ کا منظرنامہ نظر آتے ہیں، جس میں کشمیر، مشرق وسطیٰ، یوکرائن، قطب شمالی اور خطہ ایشیائی بحرالکاہل شامل ہیں۔ کشمیر پر بھارت اپنی بالادستی کیلئے کوشاں دکھائی دے رہا ہے۔

مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ پاکستان، بھارت کی بالادستی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے جبکہ نریندر مودی جو خواہش اور تھپکی کی وجہ سے پاکستان پر دبائو بڑھانے کیلئے کہہ رہے ہیں ’’بولی کے بجائے گولی، ایک گولی کے بدلے پانچ گولیاں اور توپوں کو خاموش کرنا‘‘۔اس طرح مسئلہ کشمیر جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں موجود ہے ایک دفعہ پھر اہمیت اختیار کرتا نظر آرہا ہے۔ بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ وہ پاکستان کو مصروف رکھے تاکہ عالمی بساط پر پاکستان اپنی کوئی چال نہ چل سکے مگر کوئی بعید نہیں کہ نریندر مودی جو بڑے انتہاپسند ہیں ایک بڑی جنگ کو دعوت دےبیٹھیں کیونکہ انہوں نے کمانڈروں سے کہا ہے کہ پاکستان کو سبق سکھایاجائے۔پاکستان کو بتایا جائے کہ نیا بھارت معرضِ وجود میں آگیا ہے۔ مگر ایک بڑی غلطی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے جیسا کہ دوسری عالمگیر جنگ میں ہوا تھا کہ آسٹرو ہنگری جو ایک بڑی سلطنت تھی اور سربیا ایک چھوٹی سلطنت جہاں غیرریاستی ایکٹر متحرک تھے۔ شاید وہ امریکی ایما پر ہو اس لئے کہ کارٹر انتظامیہ کے مشیر سلامتی امور نے اپنی کتاب گرینڈچیس بورڈ میں لکھا ہے کہ انہوں نے دُنیا کی طاقت کے مرکز کو یوریشیا سے براعظم امریکہ منتقل کرنے میں ایک سو سال تک کوشش کی اور اِس جنگ کے بعد امریکہ نے ڈالر کو عالمی تجارت کی کرنسی بنانے کا معاہدہ کیا۔بھارت اپنے آپ کو آسٹروہنگری جیسا مضبوط ملک اگر سمجھتا ہے اور پاکستان کو سربیا سمجھتا ہے تب بھی روس جنگ کے نتیجے میں آسٹروہنگری جیسی سلطنت دُنیا کے نقشہ سے غائب ہوگئی۔ ویسے سربیا اور آسٹرو ہنگری ایٹمی طاقتیں نہیں تھیں جبکہ پاکستان اور بھارت ایٹمی ممالک ہیں، جنگ ہوئی تو پورا برصغیر راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔ پاکستان نے بھارت کو بتا دیا ہے کہ اُسے آٹھ سیکنڈ لگیں گے۔

پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار بھی بنائے ہیں جو بھارت کی روایتی ہتھیاروں میں برتری کا توڑ ہیں، اسی وجہ سے بھارت کے دانشور نریندر مودی کی دیوانگی پرانہیں ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس سے زیادہ بڑا خطرہ مشرق وسطیٰ میں پروان چڑھایا جارہا ہے جہاں ایک اسلامی ریاست کے نام سے ایک ریاست معرضِ وجود میں آگئی ہے۔ جو انتہاپسندہے اور اسلامی اصولوں کے خلاف کام کررہی ہے۔ اس پر ایک نامور عالمی دانشور نوم چومسکی، زمبابوے کے ایک کالم نگار اور سونے کی کانوں کی صدر گرائیکی چنگو اور برطانیہ کے سابق اسسٹنٹ چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف جنرل جوناتھن شا کا خیال ہے کہ یہ ریاست امریکی و مغرب ساختہ ہے جس میں لڑنے کیلئے لڑاکا ہتھیاروں کی تربیت حاصل کرکے اس خطے میں ترکی کے ذریعہ لائے گئے اور پھر عراق کے سابق فوجیوں کو ملا کر 32 ہزار کی فوج بنائی گئی۔ اُس کو موصل سے 2.5 بلین ڈالر کا اسلحہ تحفہ میں دیا گیا کیونکہ عراقی فوجوں نے وہاں سے اچانک پسپائی اختیار کرلی۔ یوں اُن کو اپاچی ہیلی کاپٹر مل گئے، انہوں نے عراق کے سُنّی علاقے پر قبضہ کرکے کرد اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ ان میں سے تربیت یافتہ چار ہزار یورپ سے اور تقریباً سو کے قریب امریکہ سے آئے۔ یوں امریکہ نے یینون منصوبہ یا کرنل پیٹر رالف ملان پلان کے تحت عراق کو تین ملکوں میں تقسیم کردیا ہے۔ شیعہ عراق، سُنّی عراق جو اب اسلامی ریاست کہی جارہی ہے اور کردستان کیونکہ امریکہ عراق کی بجائے کردوں کو براہ راست امداد دے رہا ہے۔ اِس منصوبے کی راہ میں ایران داخل ہوگیا ہے ۔ اس طرح روس نے بھی اس پر ایک پوزیشن لے لی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے بغیر اسلامی ریاست کے خلاف نہیں لڑے گا تاہم یہ خطہ آتش فشاں بنا ہوا ہے اگر ایران اِس جنگ میں کودا تو کردستان کی ریاست معرضِ وجود میں آجائے گی جو ترکی، عراق، شام، ایران اور آزربائیجان کو کاٹ کر بنائی جائے گی۔ یہاں بھی تصادم بڑھ سکتا ہے کیونکہ امریکہ میں اِس نام نہاد اسلامی ریاست کے خلاف زیادہ سے زیادہ طاقت کے استعمال پر زور دیا جارہا ہے۔ تیسرا خطہ یوکرائن جہاں امریکہ اور روس متصادم ہیں اور امریکہ روس کو وہاں زیر کرنا چاہتا ہے لیکن یوکرائن میں روس کا پلڑا بہت بھاری ہے۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک یوکرائن کی معیشت کے تباہ ہونے کی خبر دے رہے ہیں اور یورپ امریکہ کے دبائو کے باوجود روس کے خلاف صفِ آرا نہیں ہورہا کیونکہ اُس کو روس کی گیس کی ضرورت ہے اور روس میں یورپ کی سرمایہ کاری زیادہ ہے جس سے یورپ کو نقصان ہورہا ہے مگر امریکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم کرکے روس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔ اسی نسخہ سے اس نے روس کو پہلے بھی افغانستان سے پسپائی پر مجبور کیا تھا مگر 1989ء کے روس اور اب کے روس میں کافی فرق ہے مگر اس خطے میں جنگ کا خطرہ موجود ہے۔ چوتھا اور بہت اہم خطہ شمالی قطبی ہے جس میں معدنی دولت اور تیل و گیس کے ذخائر بے شمار ہیں۔ اِس میں کئی سالوں سے جاسوسی، اسلحہ کی دوڑ اور خفیہ جنگ جاری ہے۔ ڈیوہوہز ایک کالم نگار اور اینکر پرسن ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اس وقت ساری نظریں مشرق وسطیٰ یوکرائن پر ہیں مگر اصل لڑائی تو شمالی قطبی خطے میں ہونی ہے۔

20 اکتوبر 2014ء کو سوئیڈن جو اِس خطے میں واقع ہے نے کہا ہے کہ اگر اُس کی سمندری حدود میں کوئی آبدوز نظر آئی تو وہ اُس پر حملہ کریں گے۔ واضح رہے کہ اِس خطہ میں روس اورچین کی آبدوزیں اکثر موجود رہتی ہیں اور امریکہ کو اس کا بعض وقت پتہ بھی نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو وہ نظرانداز کرتا ہے۔ چین کے ایک پروفیسر ہین ڈونگ ژونگ نے پیپلز ڈیلی میں لکھا ہے کہ چین کو ایک جنگ کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ اسی طرح روس کے ایک سینئر ڈیفنس اہلکار نے کہا کہ روس کے خلاف خطرہ بڑھ رہا ہے اور وہ حفظ ماتقدم کے طور پر پہلے ایٹمی حملہ کرنے کا ڈوکٹرائن استعمال کرسکتا ہے۔ عالمی اشرافیہ کے ایک سرخیل راک فیلر کا کہنا ہے کہ دُنیا کا موجودہ نظام گل سڑ گیا ہے، اُس کو تبدیل کرنے کیلئے ایک جنگ ضروری ہے، جس کو امریکہ میں بڑی جنگ کا نام دیا جارہا ہے۔ اِس کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے خطہ میں امریکہ جنگی تیاریوں میں لگا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنگ کہاں سے شروع ہوگی۔ اس کا فیصلہ اور وقت کا تعین امریکہ ہی کرے گا۔ اگر اُس کے ہاتھ سے حالات کی دوڑ نکل گئی تو حالات و واقعات اس کا فیصلہ کریں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں